علاّمہ اقبال ؔ کی ہمہ گیر شخصیت نے علم و ادب اور فن کی دنیا کو آفاقی سطح پر متاثر کیا ہے۔آپ کے کلام نے ان کے عہد میں ہی محققّین اور ناقدین فن کو اپنی طرف
تلاش وتعبیر کا اجمالی جائزہ←
رشید حسن خاں نے دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں ،بربادیوں اور ہو لناکیوں کے پر آشوب دور کے بعد اپنی علمی زندگی کا آغاز کیا ۔یہ وہ زمانہ تھا جس میں ادب
مظہر الاسلام کا فکشن اور نمائندہ کہانیوں کا انتخاب←
نام کتاب: مظہر الاسلام کا فکشن اور نمائندہ کہانیوں کا انتخاب مصنف: محمد غالب نشتر صفحات: 296 ، قیمت: 500/- ، سنہ اشاعت: 2016 ناشر: براؤن بُک پبلی کیشنز، نئی دہلی، 110025 مبصر: عمران عراقی (ریسرچ اسکالر)
آپ بیتیوں میں مافوق الفطرت عناصروعوامل (ایک مطالعہ←
Abstract: Supernatural are events or things that have been claimed to exist but can’t be explained by the laws of nature or science.It include things characteristic of or relating to ghosts, gods, witches or other types of
پاکستانی اردوفکاہی شاعری کا موضوعاتی مطالعہ (ساٹھ کی دہا ئی کے حوالے سے←
A Themetic study of Pakistani stairical and Humorous urdu poetry Pakistani urdu literature of the decade of 1960s is overall a reflective of the homorous and innovating scenario of the country.We can study and see the reflection
علمِ عروض کا ارتقا: فارسی سے اردو تک←
ایران میں عروض اور شاعری سے متعلق عام خیال یہ تھا کہ یہاں شاعری کا وجود نہ تھا۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اردو کے ایک اہم عروض داں سلیم جعفر اپنے ایک مضمون
ہریانوی اور اُردو زبان کی ثقافتی مماثلت:لسانیاتی ومساحتی مطالعہ←
Cultural Similarities of Haryanvi and Urdu Language:A linguistic study & survey Abstract: It is a sociolinguistic survey to know about the influence of cultural similarities and differences among Haryanvi and Urdu Language and its different regional languages
مولانا حسرت ؔموہانی کی نعتیہ شاعری←
مولانا حسرتؔ موہانی کی شخصیت کے کئی رُخ ہیں اور وہ ان میں سے ہر رُخ میں امتیازی صفات کے حامل دکھائی دیتے ہیں ۔ایک انسان کی حیثیت سے بھی اُن کا پلہ بھاری دکھائی دیتا
ڈرامہ ’’سچ کا زہر‘‘ ایپک تھیٹر کا ایک اہم تجربہ←
“ایپک تھیٹر‘‘ کا آغاز جرمنی میں ۱۹۲۰ء میں ہوا۔ ا س کے بانی جرمنی کے مایہ ناز اسٹیج ڈائریکٹر ارون فریڈرک میکسی ملین پسکیٹرہیں ۔جرمنی کے مشہور اسٹیج ڈائریکٹر‘ ڈراما نگار اور شاعر برٹولٹ بریخت اس کے
جگر مرادآبادی ایک رومانی شاعر←
اپریل ۶ ،۱۸۹۰ء کو اردو دنیا کا مایہ ناز شاعر جگر ؔ اتر پردیش کے مراداباد علاقے میں پیدا ہوا ،جو آگے چل کر جگرؔمرادآبادی کے نام سے مشہور ہوا۔شاعری کے پیچ وخم سیکھنے کے لئے انھوں
میر غلام رسول نازکی۔جموں و کشمیر میں اردو کے بنیاد گذار شاعر←
ریاست جموں وکشمیر میں اردو شاعری کے بنیاد گذاروں میں جو چند نام لیے جاتے ہیں ۔ ان میں میرغلام رسول نازکی (۱۹۱۰ء ۔۱۹۹۸ء )کا نام نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ بیسویں صدی کی تیسری چوتھی دہائی
مولانا الطاف حسین حالیؔ اور موجودہ نظامِ تعلیم←
تعلیم اپنے وسیع تر معنوں میں ایسی شے ہے جس کے ذریعے ایک نسل کی عادات و اہداف دوسری نسل کو منتقل کی جاتی ہے ، خواہ تکنیکی لحاظ سے اس کے معنی فقط وہ رسمی
موریشس کے افسانہ نگار محمد حنیف کنہائی کے افسانوی مجموعہ ’اعتماد‘ کا تجزیہ←
Analysis of the short story collection ‘Aetemaad’ of Mauritian short story writer Muhammad Hanif Caunhye ’اعتماد‘ سات افسانوں پر مشتمل مجموعہ ہے جو مئی ۲۰۱۴ء میں انجمن فروغِ اردو کی پہل سے شائع ہوا۔ محمد حنیف کنہائی
غلام ربانی تاباں ؔ اور مجروحؔ سلطان پوریـ: ایک تقابلی مطالعہ←
ارون دھتی رائے کے مطابق جس ہندوستان کی اچھی خاصی آبادی ا ن پڑھ ہے، اس میں پڑھا لکھا کہلانا اور اس سے زیادہ ادیب ہونا ایک مشکوک قسم کا اعزاز ہے۔ غلام ربانی تاباں ؔ
سر سید احمد خا ن ’’مسافران لندن‘‘ کے آئینے میں ←
ادب کی تاریخ میں چند اشخاص ہی ایسے گذرے ہیں جو آ نے والی نسلوں کے لیے اپنے دیر پا اثرات چھوڑ جاتے ہیں ۔ اور ہر انسان ایک طویل مدت تک ان کے افکار و
میواتی شاعری میں تصوف←
کگّا سب تن کھائیو، میرو چُن چُن کھائیو ماس دو نینا مت کھائیو، موئے تو پیا مِلن کی آس تصوف کسی مذہب کا نام نہیں ہے ، تصوف نام ہے ایک خاص فلسفہ کا، ایک خاص
جدیدشاعری ایک جائزہ←
آج کا دورترقی یافتہ دور ہے۔اس ترقی یافتہ دور کی دوڑتی بھاگتی زندگی میں انسانی قدریں ،محبت،وفا،سب کچھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ہرطرف بربریت،قتل و غارت گری،دہشت گردی،ذخیرہ اندوزی،رشوت خوری،خود غرضی،اور ہوس کا بازار گرم ہے۔ذات پات
امیر اللہ خاں شاہینؔ میرٹھی کی ادبی خدمات:ایک اجمالی جائزہ←
سیاسی ،معاشی،صنعتی ،علمی و ادبی اعتبار سے صوبۂ اتر پردیش کاسب سے مردم خیزعلاقہ مغربی اتر پر دیش ہے اور اسی مغربی علاقہ کا تاریخی اور قدیم ضلع میرٹھ ہے۔ہڈپہ اور موہن جودڑو کے آثار قدیمہ
قصیدہ نگاری کے باب میں نقدِ ذوق کے بعض تسامحات←
شیخ محمد ابراہیم ذوق ]۱۲۰۳ ھ-۱۲۷۱ھ / ۱۷۸۸ تا ۱۸۵۴[دلی کے کابلی دروازے کے پاس ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے اور تمام عمر اسی چھوٹے سے گھر میں گذار دی۔ ذوق غریب گھرانے سے تعلق
ادب ، آزادیٔ نسواں او ر سماج←
سماج کسی ایک شخص یا کسی ایک خاندان کا نام نہیں بلکہ یہ کئی خاندان اورمعاشرے کے مختلف طبقات سے تشکیل پاتا ہے جس میں مختلف مذاہب اور اقوام کی شمولیت ہوتی ہے ۔چونکہ عورت بھی اسی
اُردو کے چار شخصی مرثیے(ایک تنقیدی جائزہ←
اُردومیں مرثیہ نگاری کے ذکر کے ساتھ ہی ذہن میں جو دو نمایاں تصویریں ابھرتی ہیں وہ میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔکی ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انیس ؔو دبیر ؔنے اپنے بے
شجاع خاور کی شاعری میں روایتی عناصر←
شجاع ؔخاور بیسویں صدی کے نصف آخر کے ان باکمال شاعروں میں سے ہیں جن کا کلام اپنے معاصرین شعراء سے بالکل ہٹ کر ہے اور اس کی وجہ ان کا منفرد شعری لب ولہجہ ہے۔شجاع خاور
تانیثیت : نظریات ،مغربی تناظر ات←
تانیثیت کی خشت اول کا سراغ مغرب میں ملتا ہے اس لیے تانیثیت کے تصور اور فلسفے کے مبادیات سمجھنے کے لیے مغربی حوالوں کو کھنگالنا ہوگا ۔تبھی اس کی اصل اور ابتدا کے ساتھ اس کے
بلونت سنگھ کے افسانوں میں تقسیم ہند کا المیہ←
تقسیم ہند اپنی نوعیت کے ا عتبار سے بر صغیر کا ایک بہت بڑا سانحہ ہے ۔جہاں ایک طرف آزادی تو ملی وہیں دوسری طرف ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو ملکوں کا بٹوارہ بھی عمل
شہریار کی شاعری: ایک مطالعہ←
آزادی کے دس پندرہ سال بعد ہماری اردو شاعری نے نیا رنگ و آہنگ اختیار کیا۔اسے بالعموم ترقی پسند تحریک کے رد عمل کے طور پر جانا جاتا ہے۔اور اس کے نتیجے میں ایک باقاعدہ تحریک
مجتبیٰ حسین : ایک منفرد اورعہدساز انشائیہ نگار←
مجتبیٰ حسین ایک بسیار نویس ادیب ہیں اور ان کی ادبی زندگی چاردہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ ان کی بے پناہ شہرت ومقبولیت کا راز ان کے فن میں پوشیدہ ہے۔ ان کی تحریریں
ڈاکٹربرج پریمی بحیثیت نقاد←
ڈاکٹر برج پریمی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ ادبی دنیا میں برج پریمی ایک مقبول افسانہ نگار، محقق اور کامیاب ناقد کی حیثیت سے قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ۔ آپ نے
مجاز کی انقلابی شاعری میں عورت کا تصور←
اسرار الحق مجاز کا شمار ان ترقی پسند شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے امیدوں اور آرزئوں کا چراغ جلا کر ترقی پسند خیالات کو عام کیا اور مزید یہ احساس دلایا کہ
انشائیہ کی پہچان←
اردو ادب ہر دور میں نشیب و فراز سے گزرتا رہا ہے لیکن ہر دور میں شاعروں ،ادیبوں اور دانشوروں نے اس کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔اردو ادب کے ان شاعروں،ادیبوں اور دانشوروں نے
اپنی بات←
سر سید کی صد سالہ تقریبات کا دور دورہ ہے۔ ملک کے تقریباً سبھی اہم اداروں اور انجمنوں کی طرف سے سرسید کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سرسید نے قوم اور اردو زبان
بکٹ کہانی کا خالق افضل پانی پتی←
اردو میں عوامی شعر و ادب کی روایت بہت قدیم ہے۔ ابتدا ہی سے اردو کا رشتہ عوام سے رہا، عوام میں مقبولیت کے سبب ہی ہندوستان میں اس کی جڑیں بہت گہری ہوگئیں۔ امیر خسرو کے
ترجمہ کے چند نظری مباحث←
انسانی تہذیب وتمدن کے ارتقاء میں جہاں بہت سارے عوامل کارفرما رہے ہیں وہیں یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ فروغ تہذیب وتمدن میں ترجمے کا بھی بہت بڑا رول رہا ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقائی
ساحرؔ لدھیانوی کی نظم نگاری←
ہر بڑاتخلیق کار اپنی شاعری میں حیات و کائنات کی حقیقتوںاور سچائیوں کا اظہار کر کے اپنی شاعری کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت اور معنی خیز بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن دائمی کامیابی و کامرانی اسی
تنقید۔بنیادی مباحث ←
(Basics Of Criticism) تخلیقی عمل مبہم،پیچیدہ اور پراسرار عمل ہے۔اس کے ابہام،پیچیدگی اور پراسراریت کی دریافت و بازیافت ایک مشکل امر ہے۔لیکن اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس پر تفکر کے در بھی وا نہ کیے
آزادؔ ، انجمن پنجاب اور اُردو ادب←
ہندوستان میں انگریزی راج کا دبدبہ انیسویں صدی کی ابتدا ہی سے قائم ہوچکا تھا۔ بہت سی ریاستوں کے اپنے راجا تھے(حالانکہ ابھی آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر دہلی کے تخت پر قابض تھا) لیکن
ملک الشعراء ملا نصرتی←
بہمنی سلطنت کے روبہ زوال ہوتے ہی پانچ نئی سلطنتیں عالمِ وجود میں آئیں۔ ان میں گولکنڈہ کی قطب شاہی اور بیجاپور کی عادل شاہی سلطنتوں کو دکنی ادب میں ایک منفرد مقام حاصل ہے عادل
اردو تنقید اور اسلوب احمد انصاری←
اسلوب احمد انصاری (2016-1925)کی ادبی عمر تقریبا پچہتر سال پر محیط ہے۔انھوں نے اپنا پہلا مضمون’اقبال کا ذہنی ارتقا‘ کے عنوان سے لکھا تھا اور رسالہ’جامعہ‘ میں شائع ہوا تھا۔ اقبال کے ذہنی ارتقا پر لکھنے کی
دکن کے جدید شعرا ء: ایک مختصرجائزہ←
عربی اور فارسی زبانوں نے مل کر اردو زبان کی ترقی و نشو نما میں اہم کردار ادا کیا ،عربی و فارسی زبان کے بغیر اردو نا مکمل ہے اور انھیں کے باہمی امتزاج سے اردو زبان
دیباچے سے فلیپ تک : تحقیقی و تنقیدی مطالعہ←
(From preface to flap) Prof.saifullah Khalid’s book;From preface to flap, is in a way startling writing to the literary circles.this book is a whip for those poets and writers who literarily dishonest, and it is performing the
ہندوستان میں تانیثیت کی تحریک←
تانیثیت کے مفہوم کوباقاعدہ تعریف کی شکل میں پیش نہیں کیا جاسکتا ’’تانیثیت‘‘ایک اصطلاح ہے اور یہ اصطلاح ایک ایسی طرزِ فکر یا طرزِ احساس یا نقطۂ نظر کے لیے استعمال کی گئی جس میں ’’عورت‘‘ کوبہ
و جو دیت کے فلسفیا نہ عقا ئد و نظر یا ت←
(Existentialism : Theories and Philosophical Principles) ABSTRACT Existentialism: Theories and Philosophical Principles Existentialism is a philosophy of scarcity and lackness. Exixtentialism brings forth its external demerits into the form of terror, boredom, disgust, hope, crime, disappointment
جدید اردو افسانے میں وجودیت کے عناصر←
اردومیں وجودیت اور وجودی مفکروں کامطالعہ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں جس قدر عام تھا‘مابعد جدیدیت اور تھیوری کی بحث نے اسے اب اسی قدرمدھم کردیا ہے ۔ایسا نہیںکہ یہ موضوع اب اس قدر پارینہ
جمیلہ ہاشمی کے تاریخی ناول←
فکشن نے ہر سطح پر تاریخ کو متاثر کیا ہے او رتاریخ بھی اس سے زیادہ فاصلے پر نظر نہیں آتی ۔دونوں کاتعلق واقعات کے بیان سے ہے اور ان میں پیش کیے جانے والے واقعات کاسروکار
ٹیگور کی افسانہ نگاری اور سماجی مسائل←
بیسویں صدی کے آغاز کو اردو افسانے کی ابتدا قرار دیا جاتا ہے جبکہ بنگلہ میں انیسویں صدی کے اختتام تک رابندر ناتھ ٹیگور (1861 – 1941) کے پچاس افسانے منظر عام پر آچکے تھے۔ ان افسانوں
عصمت چغتائی کی ناول نگاری کے نمایا ں پہلو←
اردو ادب میں عصمت چغتائی ایک ایسی مشہور ناول نگار ہیںجنہوں نے ترقی پسند تحریک کے دور میں ناول کے فن میں نمایاں مقام حاصل کیا۔عصمت ایک ترقی پسند فکشن نگار کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ اورناولوں
منٹو کے ابتدائی دور کے افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ←
منٹو کا نام اردو افسانوی ادب میں محتاج تعارف نہیں ہے بلکہ ان کو نقادوں نے اردو افسانہ نگاری کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں شمار کیا ہے۔ منٹو نے محض ۴۳ سال کی عمر میں
ناول ’’کانچ کا بازی گر‘‘: تعارف وتفہیم←
ناول کو زندگی کا رزمیہ کہا جاتا ہے اور ’کانچ کا بازی گر‘ ایک ایسے ہی رزمیے کا نام ہے ، جس میں زندگی کی شکست و ریخت اورانقلاب موجود ہے۔ اس ناول کا باریک بینی سے
حقیقت و رومان کا بادشاہ۔۔۔نورشاہ ←
ریاست جموں و کشمیر ابتدائے اول سے ہی علوم و فنون،تہذیب و تمدن ،فکرو فلسفہ کا گہوارہ رہی ہے ۔علم ،ادب فن، موسیقی، کاریگری، فلسفہ کون سا شعبہ ہے جہاں کشمیریوں نے اپنے کارناموں کا جوہر نہ
رشید جہاں: ایک انقلابی خاتون افسانہ نگار←
ڈاکٹر رشید جہاں نے جس عہد میں اپنا ادبی سفر شروع کیا وہ عہد سیاسی، سماجی اور معاشی اعتبار سے نہایت ہنگامہ خیز تھا۔ اس وقت نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں سیاسی و سماجی
عابد سہیل کے افسانوں میں فسادات کی عکاسی←
فسادات ہندوستان کاایک اہم مسئلہ رہاہے یہاں آئے دن کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی ذات پات کے نام پر فسادات ہوتے رہتے ہیں ، فسادات کو موضوع بحث بنا کر ہمارے بہت سے افسانہ نگاروں