Abstract: A biography is a detailed description of a person’s life.Unlike a profile or curriculum vitae a biography presents a subject’s life story, highlighting various aspects of his or her life, including intimate details of experience and
اردوناول میں شہری محنت کش طبقہ کے مسائل کی عکاسی ـ ممبئی کے حوالے سے←
ہندستان میں انگریزی حکومت کے قابض ہوتے ہی ایک طرف زمیندارطبقہ کوفروغ ملاتودوسری طرف محنت کش طبقہ وجود میں آ یا۔ تقسیم ہندکے بعدمحنت کش طبقہ کومزیدبڑھاوادینے میں سرمایہ دارانہ نظام کاہاتھ رہاہے۔ سرمایہ داروں نے
مر گیا غالبؔ ِآشفتہ نوا ،کہتے ہیں←
انسان کو زندگی اور اس کے تجربات کا اندازہ اسے رحم مادرسے ہی ہونا شروع ہوجاتا ہے اوروہ زندگی کی گوناگوںلذتوںسے اپنے احساس کی حس سے دوچار ہوتا ہے ۔جس شئے کی بھی دنیا میںتخلیق ہوئی ہے
علامہ اقبال اور ہندوستانی تہذیب←
کسی بھی معاشرے کی طرز زندگی اور فکرو احساس کا نام تہذیب ہے۔لغت کی رو سے تہذیب کے معنی چھانٹنے،اصلاح کرنے،سنوارنے،درست کرنے،خالص کرنے اور پاکیزہ کرنے کے ہیں۔اصطلاح میں تہذیب سے مراد کسی قوم کی وہ طرز
علامہ اقبال کی نعتیہ شاعری←
نعت رسول مقبول ﷺ کا وجود اور اس کی روایت ہر زبان وادب میں ہے، ہر مذہب کے پیروکاروں نے نعت گوئی کی ہے اور جس شاعر نے بھی وصف نبی لکھاہے اس کو اپنی نجات کا
کالوبھنگی:ایک تجزیہ←
زمانۂ قدیم سے ہندوستانی سماج میں ایک طبقہ ایسا رہا ہے جسے زندگی کی تمام بنیادی ضرورتوں سے محروم کردیاگیا۔اس محرومی کی ابتدا ہندوستان میں آریوں کی آمد سے ہوتی ہے۔انھیں حملہ آوروں سے ہندوستان کے
“یہ میرا چمن ہے میرا چمن۔۔۔” ایک سوانحی ناول←
موریشس ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی اکثریت ان تارکین وطن پر مشتمل ہے جو ہندستان اور دوسرے ممالک سے ہجرت کرکے وہاں بس گئے اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسی ملک
’کھودو بابا کا مقبرہ ‘ تجزیاتی مطالعہ←
آزادی کے بعد اردو افسانہ بہت سی تبدیلیوں سے آشنا ہوا لیکن تبدیلی کے اس سفر میں یہ کسی بھی انتہا پسند پڑائو پر زیادہ دیر نہیں ٹھہرا،جس طرح ترقی پسند انتہا پسندی سے اس نے اپنے
کشمیری خاتون، پروفیسر شملہ مفتی کی خود نوشت سوانح کا ایک جائزہ←
خود نوشت سوانح بنیادی طور پر سوانح نگاری کی ایک شاخ ہے اور خود نوشت سوانح کا فن سوانح نگاری کے سایے میں پروان چڑھا ہے۔ریاست جموں و کشمیر میں خود نوشت سوانح نگاری کی روایت
اُردو داستانوں میں مافوق الفطرت کردار←
ABSTRACT (SUPERNATURAL CHARACTERS IN URDU DASTANS) (Supernatural Characters are the most important part of urdu dastan. We can easily find them in every Urdu prose dastan. But in Urdu criticism they are usually neglected due to
واجد علی شاہ کے ڈرامے اور مشترکہ تہذیب←
ہندستان ابتدا سے آپسی محبت ،اخوت،بھائی چارگی،رواداری اور تہذیبی ہم آہنگی کے لیے جانا جاتا ہے ۔پوری دنیا میں ہندستان اپنے یہاں مختلف مذاہب اور ان کی تہذیبوں کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرنے کے
مارواڑ میں اردو←
نام کتاب:مارواڑ میں اردو مصنف:ڈاکٹر ضیاء الحسن قادری صفحات:480 قیمت:282 روپے ناشر:گلوبل اردو کمپیوٹرس اینڈ پرنٹرس جے پور راجستھان مبصر:سلمان فیصل راجستھان میں اردو کی تاریخ بہت پرانی ہے جس کا سرا فارسی کے توسط سے مغل
اپنی بات←
ادبی رسالے کی اشاعت ایک صبر آزما کام ہے۔ تین مہینے کب اور کیسے نکل جاتے ہیں معلوم ہی نہیں ہوتا۔ ایک شمارے کی اشاعت کے فورا بعد اگلے شمارے کی تیاری میں لگ جانا پڑتا ہے۔
ن۔ م۔ راشد کی شاعری-ایران میں اجنبی کے حوالے سے←
ڈاکٹر شاہ عالم اسسٹنٹ پروفیسر ذاکر حسین دہلی کالج، دہلی ن۔م۔راشد کا دوسرا شعری مجموعہ ’ ایران میں اجنبی‘ (1955) میں شایع ہوا ۔راشد نے اپنے پہلے شعری
ڈاکٹروزیرآغاکی طویل نظمیں←
Dr. Wazir Agha is essentially a prolific poet. His marvelous Long Poems, specially “Aadhi Sadi ke Ba`ad” and “Ek katha anokhi” are the reflection of his great thoughts and his profound command on poetry. These poems are
پروینؔ شاکرکی نظموں میں تانیثی رنگ←
’’ اس بات میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ ’’خالص نظم‘‘ کی ابتدا نظیر اکبرآبادی نے کی اور ’’جدید نظم‘‘ کاآغاز حالیؔ اور آزادؔ نے کیا۔ساتویں دہائی کے بعد آٹھویں دہائی کی نظم میں مابعد
ناوکؔ حمزہ پوری کی رباعیات کا تنقیدی مطالعہ←
حمزہ پور،بہار کے ضلع گیا کا ایک چھوٹا قصبہ ہے۔یہی قصبہ سیدغلام السیدین ناوکؔ حمزہ پوری کا مولد ومسکن ہے۔ان کی تاریخِ ولادت ۲۱ اپریل ۱۹۳۳ ء ہے۔ناوک حمزہ پوری عصرِ حاضر کے بزرگ شاعر وادیب ہیں
نعت، نعت گوئی کی روایت اور نعت گو شعرا←
نعتِ رسول دراصل اصناف سخن کی وہ نازک صنف ہے جس میں طبع آزمائی کرتے وقت اقلیم سخن کے تاجدار حضرت مولانا جامیؔ نے فرمایا ہے: لا یُمکن الثناء کما کان حقّہٗ بعد از خدا بزرگ
فیض احمد فیضؔ؛انسانی اقدار کا محافظ←
Abstract:- Human values are the principles,standards,convictions and beliefs that people adopt as their guidelines in daily activities.They are a set of consistent measures and behaviours that individuals choose to participate in the persuit of doing.Faiz Ahmad Faiz,the
غالب اور ہندوستانی تہذیب←
ڈاکٹر وزیر آغا نے لکھا ہے جب واقعات ایک دوسرے سے منسلک نظر آنے لگیں یعنی سبب اور نتیجہ کے اصول کے تابع ہو جائیں نیز وہ کسی خاص خطۂ زمین یا شخصیت کی نسبت سے
اسمعیل میرٹھی بحیثیت موضوعاتی شاعر←
انجمن پنجاب کے موضوعاتی مشاعروں سے پہلے اسمعیل میرٹھی اردونظم کی موضوعاتی توسیع میں انفرادی طور پر کامیاب تجربہ کرچکے تھے۔’’ریزہ جواہر‘‘ کے عنوان سے میڑٹھی کاکلام 1880 ئ میں شائع ہوا۔اسمعیل میرٹھی نے اپنی نظموں
نند لال کول کے شعری محاسن ’’مرقع افکار‘‘ کے حوالے←
دنیا کی سب سے میٹھی اور سُریلی زبان اردو نے نہ جانے کتنے شعراء و ادباء پیدا کئے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری و نثری خدمات سے عالمِ انسانیت،سیاسی وسماجی اور معاشی مسائل،سیاحت و اقتصادیات،مناظر قدرت،تصوف،اسلامی تعلیمات،نسوانی
موجودہ طرز معاشرت اور ترجمہ←
ڈاکٹر ابو شہیم خان شعبہء اردو و فارسی ،ڈاکٹر ہری سنگھ گور سنٹرل یو نیور سٹی ساگر 470003 مدھیہ پردیش shaheemjnu@gmail.com Mob;07354966719 شخصی اور عمومی اظہار اور ان
سوشل ورک کی پیشہ ورانہ اور اکیڈمک شناخت←
Abstract This research article discusses about the historical development and evolution of social work as a profession in UK, USA and India. The debate on the quest of professional status of social work has also been discussed
پروفیسر حامدیؔ کاشمیری کی افسانہ نگاری←
حامدیؔ کاشمیری کی ادبی شخصیت کی بلندی مسلم ہے وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ۔ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر اور تنقید نگار کی حیثیت سے ابھر کر ہمارے سامنے آئے ہیں
محى الدین نواب ایک بے مثال ادیب، ایک عظیم ناول نگار←
دنیا کے عظیم و بے مثال ناول نگار اور اردو زبان کے بے تاج بادشاہ محی الدین نواب کا انتقال 6/فروری 2016م بروز سنیچر کو کراچی میں ہوا۔ وہ 1930م میں غیر منقسم ہندوستان کے صوبے بنگال
پریم چند کے ناولوں کا تجزیاتی مطالعہ←
پریم چند کے ناولوں کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پریم چند کا ذہنی سفر انیسویں صدی عیسوی کی آخری دہائی سے شروع ہوکر بیسویں صدی کی چوتھی دہائی کے
راجندر سنگھ بیدی کی فنکارانہ جہت۔۔افسانہ ’’لاجونتی ‘‘ کے خصوصی حوالے سے←
راجندر سنگھ بیدی کانام اردو فکشن کے صف اول کے فن کاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اگر چہ اپنے ہم عصروں سے نسبتاً کم لکھا لیکن اس پایہ کا لکھا کہ اردو فکشن کی تاریخ مرتب
راجند ر سنگھ بیدی کا افسانوی فن←
ترقی پسند تحریک کے پہلے کانفرس میں صدارت کرتے ہوئے جب پریم چند نے کہا تھا کہ ’ اب ہمیں اپنے حسن کا معیار بدلنا ہوگا‘تو اُس حسن کے معیار کو بدل کر حقیقت پسندی اور اصلاحی
جمیلہ ہا شمی: حیا ت و ادبی خد ما ت←
٭ محمد فر ید ٭ لیکچر ار شعبئہ اُردو ، اوپی ایف بو ائز کا لج ایچ ایٹ فو ر ، اسلام آ باد،پا کستان۔E-Mail:mfaridislamabad@gmail.com Abstract Jamila Hashmi: Life And Literary Contributions Jamila Hashmi made herself recognized
ناول ’’ چاند ہم سے باتیں کرتا ہے‘‘ ایک ادھورا مطالعہ←
موجودہ دور میں جن فعال قلم کاروں کاشمار ہوتاہے اُن میں نورالحسنین کا نام بھی شامل ہے۔ ایک طرف وہ اپنے متنوع افسانوں کے باعث قاری کے دل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں
وحشی سعید کی کہانی ’آب ‘کا تجزیہ←
وحشی سعید نے اپنے نام کی وضاحت میں جومعنی خیز ی دکھائی، وہی معنی خیزی ان کی افسانوی سعادت مندی قرارپاتی ہے اور ــ لفظِـ’’وحشت‘‘ فقط ــ’’وحشت‘‘ نہ رہ کر ’’سیمابیت ‘‘ کی سرحد میں داخل ہوجاتی
آب حیات کے بیانات قدیم تذکروں اور ناقدین کے حوالوں سے←
ثنا کوثر،ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ email:sanakouser2011@gmail.com mob.no.9411631723 اردو،عربی،فارسی اورعلمِ لسانیات کے ماہر شمس العلماء مولوی محمد حسین آزادؔ ۱۸۳۰ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد محمد باقر اور دادا محمد
لداخ کا سماجی و ثقافتی مطالعہ راشید راہگیر لداخی اور عبدلاغنی شیخ کے افسانوی مجموعہ ’ اندھیرا سویرا ‘او’ر ایک ملک دو کہانی ‘کے حوالے سے←
لداخ ریاست جموں و کشمیر کا تیسرا خطہ ہے۔یہاں کے ننگے پہاڑوں اور بنجر میدانوں میں اپنی دلکشی اور جاذبیت ہے،یہاں ہر طرف اونچے پہاڑ اور لمبے چوڑے میداں نظر آتے ہیں ۔ لداخ میں میلوں تک
عبدالعلیم کی صحافت نگاری کا اجمالی جائزہ←
ظفر عالم ریسرچ اسکالر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی ہندوستان کی صحافتی تاریخ میں کئی شخصیتیں بہت اہم ہیں جنھوں نے ہندوستان کی ترقی کے لیے بہترین کارنامے انجام دیئے ۔ راجارام موہن رائے ، مولانا ابو الکلام
محسن اردو محسن قوم حیات اللہ انصاری←
ہندوستا ن شروع سے ہی کثیر المذاہب اور مختلف لسانیات کا مرکز رہا ہے،ہر دور میں ہمارے ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور الگ الگ زبانیں بو لنے والے لوگ رہے ہیں ،دنیا بھر میں
محبِ اُردو و محبِ وطن : جگن ناتھ آزادؔ←
اُ ردو ادب میں جگن ناتھ آزاد ؔکا نام محتاجِ تعارف نہیں ۔ وہ ماہر اقبالیات کے ساتھ ساتھ، محقق، سوانح نگار،خاکہ نگار، سفرنامہ نگار کی حیثیتوں سے متعارف ہیں ۔ شاعری میں انہوں نے غزلیں
قدرت اللہ شہاب اور ان کی کتاب شہاب نامہ←
’’شہاب نامہ‘‘قدرت اللہ شہاب کی خودنوشت سوانح عمری ہے۔قدرت اللہ شہاب کا شمار ان عظیم افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں کار ہائے نمایاں انجام دیے۔انھوں نے ادب اور بیوروکریسی کی شاہراہوں
رپورتاژ ’’دو ملک ایک کہانی‘‘ (ابراہیم جلیس) : ایک جائزہ←
ابراہیم جلیس کا شمار اردو کے بہترین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔کم عمری سے ہی انھوں نے افسانے لکھنے شروع کئے۔انھوں نے افسانے کے ساتھ انشائیہ اوررپورتاژ نگاری میں بھی طبع أزمائی کی۔انسانی نفسیات کا گہرا
ولیم ورڈس ورتھ کا شعری تصور نقد←
ولیم ورڈس ورتھ(William Wordsworth)برطانیہ میں رومانی تحریک کا نمائندہ شاعراور نقاد تسلیم کیا جاتا ہے۔اس کی ولادت کبر لینڈ کے ایک قصبہ میں ۱۷۷۰ میں ہوئی،یہیں اس نے بچپن کے ایام بسر کیے۔وہ یہاں کے خوبصورت قدرتی
ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے ‘ایک تنقیدی محاسبہ←
امتیاز احمد علیمی (ریسرچ اسکالر ،شعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی) موجودہ ادبی منظر نامے اور سر بر آوردہ ادبی شخصیات میں کوثر مظہری کی اپنی انفرادی شناخت ہے اور وہ شناخت ان کی تخلیقی اور تنقیدی
اردو ڈراموں میں ہندوستانی تہذیب وسماج اور قوم پرستی←
ہندوستان زمانۂ قدیم سے ہی اپنی رنگارنگ اورمتنوع تہذیب وثقافت کے لیے پوری دنیا کی توجہ کا مرکزرہا ہے۔ یہاں کی زمینی پیداوار اور جغرافیائی حالات، علم وادب اور تہذیب وثقافت، آب وہوا، مناظر فطرت وغیرہ
سنیما کی تانیثی تھیوری اور ڈسکورس کا مطالعہ←
نظر یاتی یا تھیوریٹیکل ڈسکورس میں فیمنسٹ تھیوری فیمنزم یا تانیثی تحریک کی تو سیع ہے جس کا مقصد صنفی عدم مساوات کو سمجھنا ہے۔یہ خواتین کے سماجی رول کے ساتھ تانیثیت کے مختلف جہات مثلا عمرانیات،
ندا فاضلیؔ کی شاعری فلمی دنیا کے حوالے سے←
ندا فاضلیؔ کا اصلی نام مقتدا حسین ہے۔آپ ۱۲،اکتوبر۱۹۳۸ء کو دہلی میں ایک کشمیری خاندان میں تولّد ہوئے۔آپ کے والد بھی شاعرتھے۔تقسیم ہند کے بعد ندا فاضلیؔ کے سارے گھر والوں نے پاکستان کا رخ کیا اور
سنیما کی تاریخ پر ایک نظر←
انیسویں صدی کو سائنسی ایجادات کی صدی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس صدی میں دنیا نے بہت سی اہم ایجادات کا مشاہدہ کیا۔ سینما ٹوگراف (ـ(Cinemetograph جسے اختصار کے پیش نظر عرف عام میں سینما(Cinema)
ڈراما نظام سقہ اور ممتاز مفتی…ایک مطالعہ←
دنیاکی تمام زبانوں میں ڈرامے کا ذخیرہ پایا جاتا ہے۔ہر زمانے میں اس کا تعلق کسی نہ کسی علاقے سے ضرور رہا ہے بلکہ زمانہ قدیم سے ہی اس کا سروکار انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ
تخمِ خوں: دلت مکالمہ پر ایک شاہ کار ناول ←
صغیر رحمانی اردو ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ،اگر چہ ۲۰۱۶ ء تک ان کاشما ر اکیسویںصدی کے نمائندہ اردو افسانہ نگاروں میں کیا جاتا تھا ۔مگر ’’تخم ِخوں ‘‘کی اشاعت کے بعد ان کا
اپنی بات←
اردو ریسرچ جرنل کا گیارہواں شمارہ پیش خدمت ہے اس شمارے میں ہم نے کئی اہم موضوعات پر اردو کے اہم قلم کاروں کے مضامین کو شائع کیا ہے۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ جرنل کے معیار
قرآن، سائنس اور سائنسی مزاج۔ماضی، حال اور مستقبل←
انسانی مزاج تین عناصر کا مرکب ہے۔ اوّل وہ نسلی خواص جو کسی شخص میں اس کے والدین کی جانب سے منتقل ہوتے ہیں۔ دوم اس کی تربیت اور ماحول اور سوم اس کی تعلیم۔ ان تینوں
داغ دہلوی: خطوط کے آئینے میں←
خط انسان کی زندگی کا وہ آئینہ ہے جس میں ان کی شخصیت کے تمام پہلو مختلف انداز میں سامنے آجاتے ہیں۔مکتوب سے نہ صرف مکتوب نگار کی شخصیت اور ان کی ظاہری و باطنی کیفیت کا