(Agha Hashr Kashmiri ki Kirdar Nigar by Dr. Md. Shahnawaz Alam) یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پاس جو ہے اس کی قدر دانی کے بجائے جو نہیں ہے اس کا رونا دھونا،
اردو میں ایپک تھیٹر کا نمائندہ ڈراما ’’ آگرہ بازار‘‘←
سفینہ سماوی ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو، الہ آباد یونیورسٹی الہ آباد، یوپی، انڈیا حبیب تنویر کا ڈراما ’’آگرہ بازار‘‘ مارچ ۱۹۵۴ء میں لکھا گیا۔ ناقدین کی رائے ہے کہ ’’آگرہ بازار‘‘ بریخت کی تھیٹریکل روایت
اندر سبھا کا یہود-اردومخطوطہ←
یہود- اردو : 31 جولائی 2007 ء کو ڈاکٹر نور سو برس خان نے برٹش لائبریری کی ویب سائٹ پہ اس کے مخطوطہ نمبر Or. 13287 کے حوالے سے ایک نوٹ پیش کیا تھا۔ اس
سنیما کی تانیثی تھیوری اور ڈسکورس کا مطالعہ←
نظر یاتی یا تھیوریٹیکل ڈسکورس میں فیمنسٹ تھیوری فیمنزم یا تانیثی تحریک کی تو سیع ہے جس کا مقصد صنفی عدم مساوات کو سمجھنا ہے۔یہ خواتین کے سماجی رول کے ساتھ تانیثیت کے مختلف جہات مثلا عمرانیات،
قمر جمالی بحیثیت ڈراما نگار:ایک جائزہ
←
اردو ادب میں قمر جمالی کی پہچان ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے محتاج تعارف نہیں ہے۔ قمر جمالی کے افسانوں کے دو مجموعے ”شبیہ” ا ور ”سبوچہ” شائع ہوچکے ہیں۔ ان کے طرز تحریر میں
اردو میں ریڈیو ڈراما، آغاز و ارتقاء←
محمد کامل …………………………. ریڈیو ڈراما جسے ریڈیو پلے،ریڈیائی ڈراما، نشری ڈراما، حتی کہ اسے یک بابی اور ایک ایکٹ ڈراماکے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ان سب کا مطلب صرف یہ