ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے ‘ایک تنقیدی محاسبہ
امتیاز احمد علیمی
(ریسرچ اسکالر ،شعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی)
موجودہ ادبی منظر نامے اور سر بر آوردہ ادبی شخصیات میں کوثر مظہری کی اپنی انفرادی شناخت ہے اور وہ شناخت ان کی تخلیقی اور تنقیدی بصیرت کے سبب ہے۔ان کا شمار عصر حاضر کے اہم ناقدین میں ہوتا ہے۔وہ بنیادی طور پرایک ناقد ہیں اور تجزیاتی تنقید کو ادبی تنقید کا ایک اہم وصف تصور کرتے ہیں ۔ ان کی ناقدانہ بصیرت کا اندازہ ان کی مختلف ادبی تحریروں سے لگایا جا سکتا ہے۔وہ صرف ایک اچھے اور غیر جانب دارنقاد ہی نہیں بلکہ ایک اچھے فکشن رائٹر اور شاعر بھی ہیں ۔ ان کے اشعار میں بھی ان کی تنقیدی اور تخلیقی بصیرت پورے شد ومد کے ساتھ نظر آتی ہے۔ان کی شخصیت کا داخلی وخارجی کرب تو ان کی شاعری کا حصہ ہے ہی،فکشن میں بھی وہ ساری چیزیں پائی جاتی ہیں ۔ انہوں نے جتنا سرمایہ اردو تنقید کو دیا ہے، اس سے بہت کم شاعری اور فکشن کو دیا ہے ۔شاعری میں صرف ایک مجموعہ’ماضی کا آئندہ‘اورفکشن میں صرف ایک ناول’آنکھ جو سوچتی ہے‘ملتا ہے۔فکشن میں ہی خلیل جبران کے ناول The Broken Wingsکا ترجمہ’شکستہ پر ‘کے نام سے کیا۔اس ترجمے پر تخلیقیت کا گمان ہوتا ہے ۔باقی سارا ادبی اثاثہ تنقیدی نوعیت کا ہے۔آنکھ جو سوچتی ہے کے مطالعے سے آپ ان کی ذہنی،فکری،تخلیقی،تخئیلی،تنقیدی اور تحقیقی بصیرت کے ساتھ دوسری جہات کا بھی اندازہ کر سکتے ہیں ۔ حق گوئی اور بے باکی ان کی ذات اور تحریر دونوں کا اٹوٹ حصہ ہیں ۔ان کی تخلیقی اور تنقیدی نگارشات ایسی ہیں جو ادب کی نئی نئی راہیں کھولنے میں معاون ثابت ہو تی ہیں ۔وہ کسی ازم کے پابند نہیں ہیں ۔ان کا اپنا نظریہ حیات ہے اور نظریہ تنقید بھی۔وہ بنی بنائی لیک پر چلنے کے بجائے ایک نئی لیک تیار کرتے ہیں جو روایتی لیک سے مختلف ہوتی ہے۔وہ اس طرح ہے کہ انھوں نے جدید اور ما بعد جدید دونوں تھیوری سے اختلاف کیا اور ما بعد جدیدت کو جواز و انتخاب میں ’جھوٹا سچ‘کے نام سے مسترد کیا ۔ انھوں نے مغربی اور مشرقی دونوں تنقیدی رویوں کو اپنی تحریروں میں تو برتا ہی ساتھ میں علوم اسلامی اور سائنسی افکار و نظریات سے اپنی تحریروں کو نہ صرف مستحکم کیا بلکہ بہت زیادہ فکر انگیز بنایا۔مشرقی تہذیب و تمدن اور دینی و مذہبی افکار و نظر یات نے ان کے زاویہ نگاہ کو اور زیادہ وسعت اور گیرائی عطا کی۔اسی فکری تخصیص نے انھیں عام ڈگر سے ہٹ کر چلنے والا اور صالح دانشور بننے میں مدد کی۔یہی طرز فکر ان کے ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے ‘میں جا بجا پایا جاتا ہے۔اس ناول کے ذریعہ انھوں نے صحت مند اور صالح معاشرے کے قیام پر پورا زور دیاہے۔
کوثر مظہری کا ناول’آنکھ جو سوچتی ہے‘ایک علاقائی ناول ہے۔علاقائی اس لئے کہ یہ ہندوستان کے صوبہ بہار کے ایک شہر سیتا مڑھی میں برپا ہندو مسلم فساد کے واقعات و حادثات پر مشتمل ہے۔اس فساد کا اثر پنچھورا، بکھری، ایجورہیا، بتیا،گنیش پور اور نہ جانے کہاں کہاں تک پہنچاہے۔ اس علاقے کے ہندو مسلم دونوں پر اس کا جو اثر ہوا اس کا تفصیلی ذکر ناول میں موجود ہے۔مگردرگا پوجا کے موقع پر دو گروپوں میں تصادم کا اثر صرف سیتا مڑھی اور اس سے متصل اضلاع اور صوبوں کے افراد پرہی نہیں پڑابلکہ اس کا اثر پورے ہندوستان میں ہوا۔ایسے تصادم میں صرف کسی ہندو یا مسلمان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس سے ہندوستان کی معیشت،اس کے سماجی اور تہذیبی رکھ رکھاؤ،اس کی ایکتا،اس کی مشترکہ وراثت سب کا نقصان ہوتا ہے۔ان نقصانات سے کیسے بچا جائے ،آپسی بھائی چارگی اور ہم آہنگی کیسے قائم کی جائے، ناول اس کا حل پیش کرنے کے ساتھ ہی لا تُفسدوا فی الارض ، لا تمش فی الارض مرحا اور ولا تعثو فی الارض مفسدین ،کا آفاقی تصور بھی پیش کرتا ہے۔ اس طرح ناول کا تانا بانا جس مقامی فساد کو لے کر بنا گیا ہے وہ صرف مقامی مسئلہ نہ رہ کر پوری انسانیت کا مسئلہ بن گیا ہے اوریہ مسئلہ آج دن بدن بڑھتا جارہا ہے ۔انھیں مقامی فساد کے پس منظر میں مصنف نے ایک عالمی تناظرکو دیکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ کوشش بہت زیادہ کامیاب نہیں ہوپائی۔کرداروں میں آفاقیت نہیں آپائی ہے۔کیونکہ ناول میں صرف رضوان کے کردار پر ہی پورا زور تخیل صرف کیا گیاہے اور اسی کو مرکزی دھارے میں رکھ کر پوری کہانی تیار کی گئی ہے۔ناول کو پڑھتے ہوئے قاری سب سے پہلے جس کردار سے متعارف ہوتا ہے وہ رضوان کا ہی کردار ہے۔رضوان ناول کے دوسرے کردار زیبا،خالد ،عظیم اورراجیش کے کرداروں سے بالکل مختلف ہے۔وہ ایک حساّس اور اضطرابی کیفیت کا حامل کردار ہے جس پر مذہبی اثرات بہت حد تک حاوی ہیں ۔لیکن اس کے با وجود وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہمارے مذہب اور کلچر میں چاہے جتنا فرق ہو یا ہم روایتی ورثے اور تہذیبی سرمائے پر جتنا چاہیں فخر کریں مگر جہاں وطن کی پاسبانی کا مسئلہ آئے تو ہمیں ایک قوم ہوکر دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے،اور جو لوگ مذہبی تفرقے ڈالتے ہیں ان کے خلاف متحد ہوکر ان کا قلعہ قمع کرنا چاہیے۔یہ جذبہ اس کے اندر امام صاحب کی جوشیلی اور جذباتی تقریر نے پیدا کی ہے جو آخر تک قائم رہتا ہے۔مصنف نے اسی فکر کو ناول میں پیش کرکے انسانیت کا درس دینے کی کوشش کی ہے،اوروہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہے ہیں ۔ 6 دسمبر 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد پورے ملک میں جس طرح نفرت اور عداوت کا بیج بویا گیا، اور فرقہ پرست تنظیموں نے نئی نسل کے ذہنوں میں جس طرح کا زہر گھولا ہے وہ آسانی سے ختم نہیں ہو سکتا۔اس کو ختم کرنے کے لئے مشترکہ تہذیبی وراثت کی بازیافت کی ضرورت ہے۔اس ملک میں ایکتا اور اتحاد قائم کرنے کے لئے ایسے افراد جو مندر ، مسجد، ہندو، مسلم، مورتی، جلوس، دھرم اور مذہب کے نام پر اشتعال انگیزی کریں اورگنگا جمنی تہذیب کی فضا میں نفرت، عداوت،اور فرقہ بندی کو مضبوط اور مستحکم کرنے میں کسی کی مدد کریں تو ان کو ان صوفی سنتوں کی زمین جہاں امن و آشتی کا پیغام دیا جارہا ہواس میں ہی نہیں ،بلکہ اس دنیا میں ہی رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایسے افراد کوجن سے ملک کی سلامتی اوراس کے قومی وقار یا قومی ایکتا پر حرف آئے، انھیں ختم کردیا جانا چاہیے۔ملک اور قوم کی سا لمیت اور بقا اسی میں ہے ۔مسجد اجاڑی جائے یا مندر توڑا جائے ایک عبادت گا ہ تباہ ہوتی ہے۔کاش اس دیش کے لوگوں کو اپنے اپنے دھرم سے محبت ہوتی ۔ناول کے بین السطور سے مذکورہ باتوں کو با آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ناول کے پردے میں انھیں باتو ں کا پیغام دیا گیا ہے۔مذکورہ باتوں کی تائید ابوالکلام عارف کے اس اقتباس سے بھی ہوتی ہے جو انھوں نے اس ناول کے حوالے سے کہی ہے:
’’آنکھ جو سوچتی ہے ،دو قوموں کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی، یکجہتی، بھائی چارہ، اور امن و آشتی کا چراغ جلانے، تعصب، فرقہ وارانہ تشدد، اور نسلی برتری کو بھلانے اور اپنے انسانی کردار کو بحال کرکے انسانیت کی راہ ہموار کرنے کے ضمن میں ایک اہم اور کامیاب ناول ہے۔‘‘(بحوالہ :بہار میں اردو فکشن ایک تنقیدی مطالعہ،از احمد صغیر)
رضوان کو مرکز میں رکھ کر مصنف نے اپنی ذہنی و فکری اپج کو پیش کرکے پورے ملک میں اتحاد و یگانگت ،امن و آشتی اوربھائی چارگی کی نئی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن یہ کوشش کتنی کامیاب ہے اس سے سب واقف ہیں ۔ ناول کا مرکزی کرداررضوان جو اپنے مذہب اور ملک دونوں سے محبت کا دم بھرتا ہے لیکن اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باجود بھی بے روزگار ہے۔یہ ایک اہم مسئلہ آج بھی ہے جس کی طرف مصنف نے اشارہ کیا ہے اور سوال قائم کیا ہے کہ ایسے تعلیم یافتہ اوربے روزگار نوجوانوں کا اس ملک میں کیا مستقبل ہے جہاں ہر چیز کی ٹھیکے د اری ہوتی ہے؟بہر کیف رضوان اس ناول کا وہ کردار ہے جو ہر اس فعل کی مذمت کرتا ہے جو ملک اور قوم دونوں کے لئے مضر ہو۔وہ جہاں بھی انسانیت کش واقعات اور غیر انسانی فعل دیکھتا ہے تو اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے،اور انسانیت کی بحالی کے لئے ہر طرح کی مذہبی منافرت ،ذات پا ت کے نظام، نسلی برتری،اور فرقہ بندی کے ساتھ ادنیٰ و اعلیٰ کی تفریق کو مٹادینا چاہتا ہے۔سیاسی رہنماؤں ،ملی قائدین،سماج کے ٹھیکے داروں اور مذہبی آقاؤں نے مذہب کی آڑلے کرسماج میں تعصب، نفاق اور نفرت کا زہر گھول کر جس طرح انسانیت کا خون کیا ہے اس پر رضوان نے جو رد عمل ظاہر کیا ہے وہ ملاحظہ کیجیے:
’’جب تک اس ملک میں سید سلام الدین، پی ایل مٹکانی، گھوش منگل، پریما بھارتی، سیف اللہ اعظمی، امام سعداللہ ہزاری جیسے لوگ رہیں گے،ہمیشہ یہاں اتھل پتھل ہوتی رہے گی۔حالانکہ یہ سب مذہب کی آڑ میں سیاسی سطح پر کرسیاں ہتھیانے کی دھن میں رہتے ہیں ۔مذہب اسلام یا ہندو مذہب سے انھیں دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ایسے ہی لوگوں کو گندم نما جو فروش کہتے ہیں یا پھر شیر کی کھال میں بھیڑیا ۔۔۔‘‘)ص24.25 (
ایسے گندم نما جو فروش اور شیر کی کھال میں بھیڑیے آج بھی ہمارے ملک اور سوسائٹی میں گھن کی طر ح موجود ہیں جو ملک اور سوسائٹی کو کھوکھلا کرتے جا رہے ہیں اور رضوان جیسے ملک اور سوسائٹی کا درد رکھنے والے افراد رفاہ عامہ کے چکر میں سیاست کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔مگر ایسا کردار ہر اس شخص کے ذہن میں ایک سوالیہ نشان قائم کرتا ہے جس کے اندرتھوڑی سی بھی حس باقی ہوتی ہے،وہ حِس جھنجھوڑتی ہے کہ آخر اس ملک میں کیا ہو رہا ہے۔یہ سوال رضوان کے ذہن میں یہ خیال بار بار آتا ہے کہ دیش میں آج ان پڑھ اور پڑھے لکھے سب ایک سے کیوں ہوتے جا رہے ہیں ،آج یہاں جان کی کوئی قیمت ہی نہیں رہ گئی ہے۔فرقہ پرستی کا بول بالا ہے۔اس فرقہ پرستی کے چکر میں انسانی زندگی کس طرح تباہ ہو رہی ہے وہ سب پر عیاں ہے۔یہ گھٹیا سیاست اور فرقہ پرستی ہی ہے جس نے صرف رضوان کو ہی نہیں بلکہ پورے مسلم معاشرے کواس قدر خوف و دہشت میں مبتلا کر رکھا ہے کہ انسان بے خو ف و خطر سوبھی نہیں سکتا۔ان سب مسائل کااظہار اس ناول میں ہوا ہے۔اس ملک میں چکہ جام، دھرناپردرشن، سڑک جام، آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ان سب چکروں میں عوام ہی پستی ہے،کچھ غنڈہ نما نیتا ،یا نیتا نما غنڈے اس طرح کے امور میں ملوث ہوکر ملک اور عوام الناس دونوں کا نقصان کرتے ہیں ۔ اس طرح سے یہ سوال بار بار اٹھا یاجاتا ہے کہ اس ملک میں بدحالی، تنگ نظری اور فرقہ وارانہ فسادات کب تک ہوتے رہیں گے ؟کب تک ماؤں اور بہنو ں کی عزت نیلام ہوتی رہے گی؟یہ ظلم و تشدد کب ختم ہونگے؟اور یہ ہوتے ہی کیوں ہیں ؟ان سب سوالات پر خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے؟۔یہی وہ سوالات ہیں جن کو اس ناول کے ذریعہ اٹھا نے کی کوشش کی گئی ہے۔
رضوان کے علاوہ اس ناول میں اور بھی کردار ہیں جو ناول کو آگے بڑھانے میں مدد کرتے ہیں ۔ایک طرف رضوان جیسا حساس کردار ہے تو دوسری طرف زیبا ،خالد،اورنسیم جیسے پروفیشنل اپروچ رکھنے والے بھی کردار ہیں جو قیامت برپا ہونے پر بھی خواب خرگوش میں پڑے رہتے ہیں ۔انھیں ایسے حادثات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ فرق ان کو پڑتا ہے جن کے اندر ذرابھی حس ہوتی ہے ،لیکن یہ کردار تو مکمل طور پر بے حس ہیں ان کی بے حسی کا اندازہ ذیل کے اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے:
’’چونکہ کل تم سے میں نے وعدہ کرلیا تھا اس لئے اس کا پورا کرنا بھی ضروری تھا‘‘رضوان نے جواب دیا۔’’یہ بھی خوب رہی ،آج کل تو وعدہ اور پرامِس بس ایک فیشن ہے۔کیا ضروری ہے کہ اسے پورا بھی کیا جائے،کیوں رضوان صاحب؟‘‘ (ص:19)
زیبا کے ان جملوں نے رضوان کے تن بدن میں آگ لگا دی ،لیکن زیبا کی اس گفتگو سے وہ شرم کے مارے ایک مختصر سی فرمائشی ہنسی پر موقوف رہا۔مگر رضوان کی ہیجانی کیفیت اس وقت مزیدبڑھ گئی جب دوران گفتگو اس کی نظر انگریزی روزنامہ ’دی ٹائمز آف انڈیا‘کی اس سرخی:Communal clash in Sitamarhi, six died,twenty injured پر پڑی ۔ حیرت و استعجاب سے وہ زیبا اور خالد سے پوچھ پڑتا ہے کہ:
’’یہ۔۔۔۔یہ دیکھ رہی ہو تم؟یہ نیوز پڑھی تم نے؟ہاں ہاں پڑھی تو ہے ۔مگر اتنے پریشان کیوں ہو؟زیبا نے اپنا طرز تخاطب بدلتے ہوئے کہا۔’فساد ہوگیا ،لوگ مر رہے ہیں ۔۔۔اور۔۔اورتم اتنی سرد مہری سے کہہ رہی ہو کہ ہاں پڑھی تو ہے‘رضوان پیچ و تاب کھا رہا تھا۔’ری لیکس مسٹر رضوان ،ریلیکس،یہ کون سی نئی نیوز ہے ۔لوگ تو دنیا میں مرتے ہی رہتے ہیں اور یہ Communal Riotsکا ہونا تو اس دیش میں عام سی بات ہے۔گویا روز مرہ میں شامل ہے‘‘(ص:20-21)
رضوان اور زیبا کے مذکورہ مکالموں سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ کس کا ضمیر بیدار ہے اور کس کا مردہ۔کون حسّاس ہے اور کون بے حس۔رضوان اتنا حساس ہے کہ وہ ایسے حادثات و واقعات کو کوئی معمولی شئے تصور نہیں کرتا بلکہ اس کے نزدیک یہ ایک عظیم سانحہ ہے جس کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔اسی دھن میں رضوان ہمیشہ رہتا ہے چنانچہ وہ خالد اور زیبا سے ملنے کے بعد جب اپنے ایک دوست عظیم کے یہاں آتا ہے تو وہ اس سے بھی وہی سوال کرتا ہے جو زیبا اور خالد سے کر چکاہوتا ہے۔ عظیم کا جواب بھی زیبا ہی کی طرح نارمل سا ہوتاہے۔عظیم کے اس رویے سے رضوان پر وہی اثر ہوتا ہے جو زیبا کے جواب سے ہوا تھا۔اس کے بعد پروفیسر صابر علی کے ساتھ رضوان نے دوران گفتگو سیتا مڑھی کے فساد کا ذکر کرتا ہے تو اس پر پروفیسر صابر کی بھی وہی رائے سامنے آتی ہے جو خالد، زیبا، اور عظیم کی تھی۔مگر پروفیسر صابر جہاندیدہ اور زمانہ شناس تھے ۔انھیں زبان و بیان پر قدرت کاملہ حاصل تھی۔وہ عربی، فارسی، اردو، انگریزی، اور ہندی زبان و ادب پر دسترس رکھتے تھے۔ان کی علمیت اور قابلیت کا دوردور تک چرچا تھا ۔ روز کا معمول تھا کہ مغرب کے بعد شہر کے چنندہ اور سنجیدہ افرادوہاں حاضر ہوتے اور سیاسی اور مذہبی مسائل پر اظہار خیال کرتے ۔گفتگو کا دائرہ مذہب اور سیاست سے نکل کر کائنات کی دروں بینی اور زندگی کے نشیب و فراز کے ساتھ فلسفیانہ گفتگو تک پہنچتی۔چنانچہ صف سامعین پر ان کا رعب و دبدبہ اس طرح طاری ہوتا کہ لوگ ان کے تبحر علمی کے قائل ہوجاتے۔اس کی وجہ صرف اور صرف پروفیسر صابر کا عالمانہ و ادبیانہ اسلوب بیان تھا جس میں روانی ،شائستگی کی جھلک صاف نظر آتی تھی۔ان کی زبان ان کی علمیت اور قابلیت کی غماز ہے ۔اس ضمن میں یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’آپ غور کریں کہ شہنشاہ اکبر کے اختتام عہد اور عہد جہانگیری کے آغاز میں یہاں علماء و مشائخ حق کا فقدان نہیں تھا۔بلکہ طبقات’روضۃ العلمائ‘اخبار الاخیار،خزینۃ الاصفیا وغیرہ کے مطالعے سے تو یہی پتہ چلتا ہیکہ اس وقت ہندوستان میں خانقاہوں اور مدرسوں کی بہتات تھی۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ تصوف کے امور میں جہل و بدعت کی آمیزش بڑھ گئی تھی ۔اﷲ نے حضرت مجدد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی کو ان مفاسد کی اصلاح کے لیے منتخب کیا ۔بقیہ حضرات یا تو ضخیم ضخیم شرحیں لکھتے رہے یاتضلیل و تکفیر کے فتوئوں پر دستخط کرتے رہے۔‘‘(ص: 29,30)
اس طرح پرفیسر صابر اپنے عالمانہ اسلوب میں مذہبی مسائل پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آج امت محمدیہ پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس نے اپنے مذہبی اور تہذیبی روایت سے انحراف کی صورت پیدا کر لی ہے۔ آج ہماری روش بالکل ضلالت و گمراہی کا شکار ہو چکی ہے۔ مسلمان اس وقت تک مظالم کے شکار ہوتے رہیں گے جب تک وہ فسق و فجور ،کذب و افترا اور جھوٹی شان و شوکت سے نکل کر اﷲ اور اس کے رسول کا اتباع نہیں کرتے ان کو اپنا آئیڈیل نہیں مانتے ۔
ان سب کے علاوہ اس ناول میں وید ناتھ جی، راجیش ، ظفر، درگاہی جی،کلیم الدین چودھری، جھا جی اور سہیل وغیرہ کا نام بھی لئے جا سکتے ہیں جو تھوڑی دیر کے لئے سامنے آتے ہیں اور اپنا اپنا کام کر کے غائب ہو جاتے ہیں ۔مگر ایک کردار درگاہی کا ہے جو قاری کو ایک لمحہ کے لئے سکتے میں ڈال دیتا ہے۔اس کا تعلق ہندو اکثریت والے گائوں سے ہے اوروہ گا بجاکر اپنے خاندان کی پرورش و پرداخت کرتا ہے ،لیکن فساد سے گھبراکر وہ مسلم اکثریت والے گائوں میں پناہ لیتا ہے جہاں مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں اس کی گونگی بیٹی کی عزت لوٹ لی جاتی ہے۔ اس واقعے سے درگا ہی کو جو صدمہ پہنچتا ہے ذیل کے اقتباس سے ملاحظہ کیجیے:
’’کا کہیں جفر بابو!۔۔۔رات ہمرے گھر میں دو تین آدمی گھس کر بتہی(گونگی بیٹی) کے ساتھ گلط کام کیا۔۔۔ہم ت باجار پارٹی میں دس بیس روپیہ کماے چلے گئے تھے،آج سبیر ے آئے ۔۔۔۔سن کے ت تن بدن میں آگ لگ گیاہے۔۔۔۔آپ ہی لوگ کہیے مسلمان گائوں میں آکر ہم کو کا پھل ملا۔ ایسا گھٹنا وہاں نہیں گھٹا۔مسلمانوں سے بڑی تکلیف ہوئی ہے کاہے کے لئے لوگ نماج پڑھتا ہے۔۔۔‘‘(ص:95)
اس ناول میں جگہ جگہ اردو اور فارسی کے کلاسکی شعرامثلاً میر درد، سعدی،غالب اوراقبال کے اشعار پیش کئے گئے ہیں اور مختلف ادبی رسائل کا ذکر کیا گیا ہے ،مثلاً شاعر کے تازہ شمارے کا ذکر مصنف کے ذاتی فکر اور رجحان کا نتیجہ ہے ۔کہانی سے اس شمارے کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔اس سے صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ مصنف ادبی رسائل کا دلدادہ ہے اس لئے اس کے پاس بہت سارے ادبی رسائل آتے ہیں ان میں سے ایک شاعر بھی ہے۔کہانی میں اگر اس کا ذکر نہ بھی ہوتا تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔کیونکہ سیماب کا ایک شعر جس کا ناول میں ذکر ہوا ہے اس سے رضوان کو کس طرح کا قلبی سکون میسر ہواہوا بھی یا نہیں ،اس نے اس شعر سے کیا حاصل کیا ،کس نتیجے پر پہنچا ،اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔سوائے اس کے کہ رضوان نے نیند میں جانے کے لئے میگزین کا سہارا لیا۔دراصل رضوان کے درپردہ مصنف نے اپنی آپ بیتی بیان کی ہے جو پورے ناول پر چھائی ہوئی ہے۔بہت سارے شواہد ایسے ہیں جو مصنف کی شخصیت کو اجاگر کرتے ہیں مثال کے طور پر اسٹوجلا کر مولانا آزاد والی چائے بنانا،نظموں اور غزلوں میں دلچسپی لینا ،اخبارات و رسائل میں نظمیں اور غزلیں چھپوانا،قومی تنظیم اخبار کے ادب ایڈیشن کے لئے نظمیں دینا،پبلک سروس کمیشن کا ارداہ ترک کرنا،یوجی سی کا اکزام پاس کرنا،پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن کرانا،درس وتدریس کو کیریر بنانااور پروفیسر صابر کے نظریے سے اتفاق نہ کرنا ،اس پر اپنا مدلل نظریہ پیش کرناوغیرہ ،اور بہت سارے اسلامی افکار ایسے ہیں جو مصنف کی شخصیت کا پرتو ہیں ۔
اسلوبیاتی نقطہ نظر سے اس ناول کی زبان بہت آسان اور سہل ہے اس میں کسی طرح ژولیدہ بیانی یا الجھائو نہیں ہے،اسلوب میں سادگی اور روانی ہے،مکالماتی زبان اس علاقے کی بولیوں کوبھینشان زد کرتی ہے جس پر بھوجپوری کا غلبہ ہے۔کہیں کہیں فلسفیانہ جملے بھی زیر بحث آئے ہیں جو مصنف کی وسعت مطالعہ اور عمیق نظری کو واضح کرتے ہیں ۔اس حوالے سے چند اقتبا سات ملاحظہ کیجیے:
’’زیبا تم آسمان پر چمکتے ان ستاروں کو دیکھ رہی ہو؟‘‘
’’کتنی خوبصورت ہے ان ستاروں کی دنیا اور کتنی بد صورت ہے ہماری دنیا،کاش ہم بھی ستارے ہوتے۔‘‘
’’دیکھو نا کسی مانگ اجڑی ہوئی دلہن کی طرح بیوہ نظرآرہی ہے، آسمان پر تو سب خیریت ہے مگر یہاں زمین پر۔‘‘)ص:(44.45
’’سورج کی ٹکیا آج کچھ زیادہ روشن ہوگئی تھی۔ندی کے خون آلود پانی پر جب سورج کی کرنیں پڑی ہونگی تو اس کا انعکاس ہوا ہوگا جس سے یہ ٹکیا اور بھی سرخ ہوگئی ہوگی۔سورج جو سیتا مڑھی کی طرف سے طلوع ہوا تھا اور بتیا کی طرف مغرب میں اپنی سرخ کرنیں بکھیر رہا تھا۔‘‘(ص:103)
اسلوبیاتی نقطہ نظر سے یہ بہت اہم ہیں ،ان میں معنویت بھی ہے اور تہہ داری بھی۔اس طرح کے جملے اور اسلوب مصنف کی گہری فکری اساس کو ظاہر کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ مصنف نے جگہ جگہ مکالماتی اسلوب کا سہارالیا ہے اور دلچسپ مکالموں کے ذریعہ ناول میں جان ڈالنے کی کوشش کی ہے۔تمام مکالمے اپنی جگہ بر محل ہیں اور کرداروں کی مناسبت سے مکالمے لکھے گئے ہیں ،اس حوالے سے رضوان ،نوازی اور سپاہی کے مابین کے یہ مکالمے ملاحظہ کیجیے:
’’ رضوان: نہیں نوازی بھائی ۔یہ تو ہمارا فرض ہے۔اگر ہر آدمی ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ جائے تو اس ظلم کے خلاف کون لڑے گا؟
نوازی: اُوتَ ٹھیک ہے بابو صاحب! مگر ایہاں سب کے سب تو تماسے دیکھتے ہیں ۔ہم تَ کہتے ہیں کہ ای سب تو نیتا لوگ ہی کرتا ہے۔‘‘
سپاہی: چُٹی والے ،سالے، کتے کرتا ہے دنگا ،اَبھاسن دیتا ہے۔۔۔۔ہے ایک دم سے چُپے رہو،اب جو بولو گے تو دیکھتے ہو ای گونجی(لاٹھی)۔‘‘(ص:52)
ان تما م کرداروں میں رضوان کے لب ولہجہ میں ایک طرح کاا دبی اور تہذیبی رچائو نظر آتا ہے۔اس کی پوری گفتگو میں ایک طرح کی متانت اور سنجیدگی نظر آتی ہے ۔اس کے سونے ، جاگنے، اٹھنے، بیٹھنے، کھانے پینے، کے علاوہ گفت وشنید میں ایک ادبی اور تہذیبی شان جھلکتی ہے۔یہی وہ اسلوب خاص ہے جو قاری کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔اس کے علاوہ ناول میں جگہ جگہ منظر کشی کے عمدہ نمونے بھی ملتے ہیں ۔مگراس ناول میں جو منظر کشی ہے وہ ہے مفلوک الحال انسان کی، اس کی معاشی زندگی کی،اس کی غربت اور بے بسی کی،اس کی لاچاری و مجبوری کی یہ مناظر ایسے ہیں جو قاری کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں اور انھیں بچپن کی سیر کرانے کے بجائے فلسفیانہ فکر عطا کرتے ہیں ۔ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے جس میں رضوان اور اس کے گھر کا نقشہ کھینچ کر اس علاقے کے متوسط طبقے کے عام مسلمانوں کی معاشی اور سماجی صورتحال کو واضح بھی کیا ہے اور جزئیات نگاری کا عمدہ نمونہ بھی پیش کیا ہے:
’’بارہ بجے شب کے آس پاس کھپریل چھت میں چوہے کے دوڑنے اور کچکچانے کی آوازیں ابھریں ۔یہاں تک کہ دو چوہے لڑتے لڑتے مچھر دانی پر گر پڑے۔‘‘
’’رضوان نے چوہے دان میں دوبارہ روٹی رکھ کر بکس پر رکھ دیا۔آدھ گھنٹے کے بعد ایک چوہا پھر آگیا۔رضوان نے لحاف سے نکل کر چوہے کو باہر کیا اور یہ عمل چار بجے تک جاری رہا۔اس طرح پانچ چوہے رات میں مارے گئے۔رضوان کو لگا جیسے اس کے گھر کا سارا عذاب ختم ہوگیا۔رضوان کے اس گھر میں چار طرح کی پریشانیاں تھیں ۔روشنی کا فقدان، ہوا کا نہ آنا،چوہوں کی بہتات، اور برسات کے موسم میں چھت کا برسنے کی طرح ٹپکنا۔۔۔۔روشنی کے لئے دن میں بھی لالٹین یا چراغ مستقل جلتا رہتا تھا کہ بغیر اس کے اس گھر میں کوئی سامان دکھتا بھی نہیں تھا۔۔۔گویا دونوں میاں بیوی دن رات خوشی خوشی کاربن ڈائی آکسائڈ اور کاربن مونو آکسائڈ Inhaleکرنے کے عادی ہوگئے تھے۔جب بارش ہوتی تو مچھر دانی کے اوپر ڈونگے اور پتیلیوں کا بازار سا لگ جاتا۔کئی بار ایسا بھی ہوتا کہ ان برتنوں کے وزن سے مچھر دانی کی ڈوری ٹوٹ جاتی اور پانی گر جانے سے پورا بستر خراب ہوجاتا۔اس ماحول میں شب بیداری کے علاوہ کیا چارہ ہو سکتا تھا۔ہوا آنے کا یہ حال تھا کہ باہر جب خوب تیز آندھی چلتی تو کمرے کے اندر تھوڑی سی ہوا دھوکے سے کسی چھید سے آجاتی۔ (ص:102)
اس طرح سے مصنف نے روایتی منظر کشی سے ہٹ کر ایک الگ ہی منظر کھینچا ہے۔مرکزی کردار کی شخصیت سازی اور پورے ناول کی فضا بندی میں یہ منظر اہم رول ادا کرتا ہے ۔اس سے اس بات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ناول نگار کو بیانیہ (Narrative)پر بھی قدرت حاصل ہے۔اس کے علاوہ ناول میں وہ مقا م اہمیت کا حامل ہے جہاں ندی، پانی، مچھیروں ، مچھلیوں اور سونوا ڈاکو کا ذکر ہے ۔یہاں مصنف کے فلسفیانہ جملے کی اہمیت اور معنویت کھل کر سامنے آئی ہے، اور تین سو تیرہ کا تلمیحاتی پہلو ایک نئے رنگ و آہنگ میں سامنے آیا ہے۔بحیثیت مجموعی یہ ایک اہم ناول ہے اوراس میں Readablity کی صفت پائی جاتی ہے۔موضوع اگرچہ نیا نہیں ہے لیکن اسلوب اظہار میں ایک نیا پن ضرور ہے۔اس ناول پر مزید گفتگو اور بحث و تمحیص کی ضرورت ہے۔
Leave a Reply
1 Comment on "ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے ‘ایک تنقیدی محاسبہ"
[…] 13. ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے ‘ایک تنقیدی محاسبہ […]