اردو کی موجودہ صورت حال اور ہم
شمیم اختر
shamim_guddu@yahoo.in
ایک مثل مشہور ہے کہ ’’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘‘۔ کچھ یہی صورت حال موجودہ دور میں اردو گھرانے کی ہے۔ آج جب کہ کم عمر کہلانے والی اردو زبان نے ایک طویل فاصلہ طے کرلیا ہے، ایک تابناک ماضی اس کی قسمت کا حصہ رہ چکا ہے، ایک شاندار دور اس کے ارتقائی سفر کے گرد راہ ہے، تو ایک بار پھر ہمیں از سر نو اس کی تاریخی روایت اوراس کے تابناک ماضی کے طرف مڑ کر دیکھنا ہوگا اور یہ جائزہ لینا ہوگا کہ موجودہ عہد میں یہ زبان کس مقام پر ہے، کیا موجودہ دور کو اردو کے لیے ترقی یافتہ دور کہاجاسکتاہے؟ یا پھر ترقی پذیر دورسے ہی تعبیر کیا جائے گا۔
ایک طرف تو دور حاضر کے ادب شناس اور اردو زبان وادب کے علمبردار افراد مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اردوزبان ہنوز ترقی پذیردورمیں ہے، اور ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں مسلسل سرگرداں ہے۔نیز ملک کی بعض ریاستوں میں اردو کو سرکاری سطح پر دوسری زبان کا درجہ ہونے کی دہائی بھی دی جارہی ہے، علاوہ ازیں سیاست دانوں کی طرف سے اردو کے ایک مہذب زبان ہونے کی قصیدہ خوانی بھی ہو رہی ہے، اور اردو کی تہذیبی سروکار کی ستائش بھی۔
سوال یہ ہے کہ کیا عملی زندگی میں بھی اس کا اطلاق ہورہا ہے، ہمارا سماج اورمعاشرہ اردو تہذیب کی قدر دانی کر رہا ہے۔ اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اردو کی تہذیبی روایت باقی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہاں ہے اردو تہذیب؟ سماج، معاشرہ اورزندگی کے کس شعبہ میں اس روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے؟ کیا ہمارے گھروں میں اس کی کوئی وقعت ہے؟ کیا ہمارے بڑے بوڑھے اس کی پاسبانی کررہے ہیں؟ ہماری نئی نسل اس کی تہذیبی وراثت کو اپنانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہماری ماؤں اور بہنوں کو اس تہذیب سے انس ومحبت ہے؟ کیا ہمارا سماج اس تہذیب کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟
اگر یہ دعوی کیا جائے کہ اردو اپنی تمام تر تہذیبی وراثتوں کے ساتھ زندہ ہے اور مسلسل اپنے بال وپر پھیلا رہی ہے تو یہ دعویٰ بلا دلیل ہوگا۔ کیونکہ آج ہم اور ہمارا سماج اور تہذیب بھی اقوام عالم کی دیگر تہذیبوں کی طرح کشمکش کا شکار ہے، ہمارا معاشرہ بڑی فراخدلی کے ساتھ مغربی تہذیب کی خوشامدانہ تقلید کو اپنی زندگی کا محور تصور کر رہا ہے، موجودہ نسل ایک کھچڑی تہذیب کی طرف بڑی تیزگام سفر کر رہی ہے جس میں مشرقیت برائے نام اور مغربیت کا حصہ کچھ زیادہ ہی ہے، ہماری نئی نسل اس مغربیت آمیز تہذیب کی دلدادہ ہے، اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی زندگی کو اس نئی تہذیب کی روشنی سے منور کرنا چاہتی ہے، ایسے میں اردو کی گنگا جمنی تہذیب کی بات کہاں تک درست ہے، یہ معاملہ غور وفکر کا متقاضی ہے۔
ہندوستان کثیر زبان رکھنے والا ملک ہے، جہاں بے شمار علاقائی زبانیں و بولیاں بولی جاتی ہیں، اور ہر زبان وبولی اپنے محدود خطہ وعلاقہ کی پہچان تصور کی جاتی ہیں، زبانوں و بولیوں کی اس بھیڑ میں کئی ایک زبانیں ایسی بھی ہیں جو اپنے محدود دائرہ سے نکل کر ملک گیر سطح پر اپنی شناخت کو دوبالا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، اور ان کے چاہنے وماننے والے اپنے خلوص وجذبہ سے اپنی زبان کو ایک نئی دشا دینے میں مصروف ہیں۔
زبانوں کے اس جم غفیر میں اگر اردو کے حوالے سے گفتگو کی جائے تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان کی بعض ریاستوں نے اردو زبان کو دوسری زبان کا درجہ دے کر وسیع القلبی کا ثبوت دیا ہے، تو کیا اس وسیع وعریض ملک میں جہاں 29 ریاستیں اورسات یونین ٹریٹریز آباد ہیں اردو کے ساتھ انصاف ہو رہا ہے؟ اور ان اگر ان ریاستوں کا احسان تسلیم کرلیا جائے جنہوں نے اردو کو دوسری زبان کا درجہ دیا ہے، تو کیا وہاں کی حکومتیں اردو کے منصب ومقام کو پہچاننے کی سعی کر رہی ہیں ؟ کیا ملکی حکومت نے بھی کبھی اردو زبان کی وقعت کو سمجھا ہے؟ کبھی اس کو جائز مقام ومرتبہ دینے کی کوشش کی ہے؟ کبھی اس کے فروغ و ترقی کے لیے صحیح سمت و راہ متعین کرنے کی جدوجہد کی ہے؟ کبھی اس کے حقوق کی پاسبانی کی ہے؟
ظاہر ہے ایسے سوالات اب بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں، کیونکہ کچھ ریاستوں کے دستور نے اس زبان کو دوسری زبان کا درجہ ضرور دے دیا ہے، لیکن حکومتوں نے اس کا دائرہ صرف اور صرف کاغذی سطح تک محدود کردیا ہے۔ اور اگر اردو کی ترقیاتی کاموں میں حکومت کی پالیسیوں کا ذکر کیا جائے تو بھی حکومتی ادارے ہندوستان میں بولی جانے والی دوسری زبانوں کی طرح اردو کے فروغ کے لیے اتنی کوشاں نہیں، ہندوستان کی موجودہ سیاسی وسماجی صورت حال میں جبکہ اردو زبان کو ایک مخصوص قوم کی زبان کے طور پر دیکھا جارہا ہو، اس کی پرورش وپرداخت نفرت کے سائے میں ہو رہی ہو، ایسے میں یہ دعوی نہیں کیا جاسکتا کہ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے افسران اردو کے تئیں اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، یا جتنے مواقع ہندوستان کی دوسری زبانوں کو دی جاتی ہے، اردو کو بھی دی جاتی ہے۔ پوری اردو برادری ان بھیانک حقائق سے بخوبی واقف ہے، اس بات کا احساس ہے کہ اردو مسلسل سازش کا شکار ہورہی ہے، آئے دن اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں، دن بدن اس کی ترقی کی راہوں کو مسدود کیا جا رہا ہے۔ جہاں تک بات اردو کو ’’دوسری زبان‘‘ کا درجہ دینے کا ہے تو یہ محض خواب آور گولی ہے، جس کے نشے میں اردو داں طبقہ بہت دنوں تک نہیں رہ سکتا۔
یہ مقام افسوس تو ہے ہی کہ ہندوستان کی سب سے شیریں زبان جس کادعویٰ آج سے نہیں بلکہ اس کی خمیر اٹھنے کے وقت سے ہی نہ صرف اپنے بلکہ اغیار بھی کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود اردو دشمن افراد پیٹھ پیچھے خنجر بھونکنے کے کارناموں کو بھی بخوبی انجام دیتے رہے ہیں۔ اس زبان کا سب بڑا المیہ تو یہ ہے کہ ان حالات میں بھی اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے اردو کے بہی خواہ ، اور اس کی الفت کا دم بھرنے والے افسر شاہ قسم کے لوگ اپنے بلند وبانگ دعوؤں سے باز نہیں آتے، اور ان حقائق پر پردہ ڈالنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں جنہیں انہیں فاش کرنا تھا، اپنے خوبصورت اور بلند آہنگ جملوں سے اردو داں طبقہ کو پُرفریب وادیوں کا سیر کراتے رہتے ہیں، اپنے جاہ ومنصب کا غلط استعمال کرکے اردو کی زبوں حالی پر مسلسل پردہ پوشی کرتے رہتے ہیں، ان حالات میں بھی ایسے افراد کو اردو کا محب و راہبر تصور کیا جاتا ہے، کیا ایسے افراد اپنی منافقانہ چالوں سے اردو کو نقصان نہیں پہنچا رہے ہیں؟ یہ مسئلہ بحث چاہتا ہے۔
یہیں سے یہ بحث بھی نکل کر سامنے آتی ہے کہ موجودہ دور میں اردو زبان کی شناخت کیا ہے؟ ایک سیکولر زبان کی یا کسی مخصوص قوم کی زبان کے طور پر؟ آئے دن اخباروں کے تراشے، مضامین، ناعاقبت اندیش ذمہ داران کے خطابات، ملک کے سیاست دانوں کی تقریریں، اور دوسرے اردو کا بھلا چاہنے والے افراد مسلسل اس بات پر اپنی قوت گویائی صرف کر رہے ہیں کہ اردو سیکولر زبان کی تھی، اور رہے گی۔
اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ اردو کا مزاج ایک سیکولر زبان کی ہے، اور ماضی میں اس کی شناخت بھی ایک سیکولر زبان کی ہی رہی ہے، لیکن کیا موجودہ وقت وحالات میں اسے ایک سیکولر زبان کے چوکھٹے میں رکھ کر دیکھا جاسکتا ہے؟ اردو بلاتفریق مذہب وملت ایک رابطے کی زبان کے طور پر ہمارے درمیان رائج ہے؟ اغیار بھی اردو کے تئیں ایک نرم دل رکھتے ہیں؟ ان کی سوچ اردو کے لیے مثبت ہے؟
’’ سیکولر‘‘ لفظ کا یہ ریشمی غلاف صرف پردہ پوشی کرسکتا ہے، اور پردہ پوشی سے حقائق نہیں بدلتے، اردو داں طبقہ کو بہت جلد ان سچائیوں کا سامنا کرنا سیکھ جانا چاہئے، یا پھر اردو کے تئیں موجودہ غلط تصورات کو تبدیل کرنے کی سعی کرنی چاہئے، کیونکہ خواب غفلت کی زندگی سوائے تباہی وبربادی کے اور کوئی سوغات اپنے دامن میں نہیں لاتی۔
اردو کا موجودہ منظر نامہ ’’قومی سطح‘‘ پر بڑی تیزی کے ساتھ سمٹ رہا ہے، اردو کا دائرہ اب محدود ہوکر ایک مخصوص قوم کی ملکیت تصور کی جانے لگی ہے، اس کے فروغ اور اس کی ترقی کی ذمہ داریاں صرف ایک مخصوص قوم کے فرائض کے طور پر تسلیم کرلیے گئے ہیں۔ ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا خود اس مخصوص قوم کے اپنے اعمال وافکار ہیں؟ یا پھر یہ تصور اردو دشمن افراد کی سازش کا نتیجہ ہے، و جہ چاہے جو بھی ہو، لیکن اب حقیقت یہی ہے کہ اردو بڑی تیزی کے ساتھ ایک حصار میں مقید ہوتی جارہی ہے، اس کا سیکولر کردار مجروح ہوتا جارہا ہے، اس کی گنگا جمنی پہچان کو گرہن لگتا جارہا ہے۔
ان حالات میں اردو کے بہی خواہوں کے یہ دعوئے کہ اردو ایک سیکولر زبان کی حیثیت سے مسلسل سرگرم سفر ہے، اردو ترقی یافتہ زبان کے طور ارتقاء کے مراحل طے کر رہی ہے، اردو اپنی تہذیبی وراثت کے ساتھ اپنی روایت کو مزید آگے بڑھانے میں کوشاں ہے، اردو کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، یہ باتیں فریب محض کے سوا کچھ بھی نہیں، دانشوروں کی فلسفیانہ موشگافیاں، ادیبوں کے چمکدار جملے، خوبصورت خطابات، اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے بلند آہنگ دعوئے صرف ایک سراب ہے جہاں پانی کی تلاش کارِ فضول ہے۔
اردو کی موت کا اعلان پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے، لیکن یہ زبان جتنی شیریں وسبک ہے، اتنی ہی سخت جان بھی، کیونکہ لاتعداد دشواریوں سے آنکھیں چار کرتے ہوئے وسائل کے فقدان کے باوجود آج بھی سانس لے رہی ہے۔ بعض اہل نظر افرد کا یہ خیال ہے کہ زبانوں کی ترقی میں وسیلۂ روزگار سے زیادہ جذبہ کی کارفرمائیاں ہوتی ہیں، لیکن اردو کے لیے تو یہ دونوں چیزیں برائے نام رہ گئی ہیں، وسیلۂ روزگار سمٹتا جارہا ہے، اور جوش وجذبہ کا فقدان مسلسل جاری ہے، اس کے باوجود اردو زندہ ہے ، اور بساط بھر اپنی خوشبوں سے لاتعداد ذہنوں کو معطر کر رہی ہے یہ خوش آیند بات ہے ۔
اس تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو ترقی یافتہ نہ سہی، لیکن زندہ ضرور ہے، یہ بات اور ہے کہ اردو کئی مہلک اور خطرناک امراض سے مسلسل جوجھ رہی ہے، جن میں سب سے اہم بیماری منافقت و گروہ بندی ہے، جو خود ہمارے اپنے گھر کے افراد میں موجود ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ میر جعفر اور میر صادق جیسے لوگ گھر کا بھیدی بن کر ہمیشہ ہی قوم وملت کے زوال کا سبب بنے ہیں، آج زبان نشانے پر ہے ۔
٭٭٭
“Urdu ki Maujuda Surate Haal aur Ham” Mr. Shamim Akhtar, “Urdu Research Journal” ISSN 2348-3687, Vol. I, Issue II, page No. 70-74.
Leave a Reply
1 Comment on "اردو کی موجودہ صورت حال اور ہم"
[…] اردو کی موجودہ صورت حال اور ہم← […]