الفاظ و معنی اورزبان کا رشتہ

ڈاکٹرہاجرہ بانو
hajerabano555@gmail..com

الفاظ تو زندگی کی حرکت وکیفیت کے آئینہ دارہیں ، مفہومی علائم کی ڈگرسے گزرکرانسانی اظہاروابلاغ کی منزل تک جاپہنچتے ہیں ۔ الفاظ کا سفر زمانہ کی گردش کے پہئے کے ساتھ ناپاک تغیرات کے ساتھ نامعلوم منزل کی جانب سے رواں دواں ہے ۔ یہی الفاظ ننھی و معصوم زبانوں سے وجود پا کرجواں ہوتے ہیں ۔ کبھی آبائی مکان تبدیل کرتے ہیں تو کبھی حادثاتی طورپر لقمہ اجل بن جاتے ہیں تو کبھی طبعی عمر پاکر ضعیفی کے دامن میں دم توڑ دیتے ہیں ۔ شادمانی اور افسردگی کے موقع پر عبارت بن کر جذبات کی عکاسی یہی الفاظ ہی تو کرتے ہیں ۔ جس کی ترنگوں پرزندگی کی وضع قطع اور دلی سنجیدگی کی انقباضی راہوں کوپرخارکردیتی ہیں ۔ تخیل کے آسمان سے پرواز کرکے کتابوں کے قفس میں قید ہونے والے یہی الفاظ فکری خیال بن کر عبارتوں کی صورت بن جاتے ہیں ۔ حروف کے روپ کی رنگ برنگی دنیا صدیوں کے گردشی فاصلے کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ آج دیکھنا یہ ہے کہ ان الفاظوں کے نشیب وفراز میں ہم کس مقام پرکھڑے ہیں ۔
جب سے آدم نے اس زمین پر اپنا قدم رکھا چاہے وہ وسطی یوروپ میں دریائے ڈینوب کی وادی یا وسطی ایشیا ء کا میدان ہوغرض کرۂ ارض کے مختلف خطوں میں گھومنے والے انسان کو اپنے ارادوں کو زبان پر لانے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ انسان کی دماغی ساخت نے اسے دیگر حیوانات سے بالا سوچنے اور سمجھنے پر مجبور کیا۔ اوروہ اپنی آوازوں کو مسلسل عمل کے ذریعہ اظہارخیال کے لئے چھوٹے چھوٹے لفظ کو یکجا کرتارہا اور اپنے جسمانی اعضاء اور ذہنی ہم آہنگی کے ذریعہ آواز کو مادی ضروریات کی تکمیل کے لئے استعمال کرتا رہا ۔ اور اسی قوت فکر نے اسے حیوانات سے منفرد بنادیا۔آوازوں کا یہ مجموعہ انسا ن کی اجتماعی زندگی کو باندھے رکھنے کا بھی ذریعہ بنا جیسا کہ زبان وخیال میں بہت گہرا تعلق ہے اس لئے آواز ، زبان اورخیال عمل زندگی کے ہرقدم پر انسان کے ساتھ پیوست ہوگئی اوربتدریج ترقی کرنے لگی ۔ جس طرح یہ کبھی نہ حل ہونے والا سوال کہ پہلے انڈہ یا پہلے مرغی اسی طرح یہ سوال کہ پہلے زبان یا پہلے خیال ۔ لیکن یہ سوال طویل بحث کے بعد حل ہوکر یہ نتیجہ اخذ کرنے پرمجبور کرتا ہے کہ پہلے خیال کوآواز کے مجموعے کے نام میں ڈھا ل کرزبان کے ذریعہ ادا کیا جاتا ہے اور یہی اظہار خیال کا بہترین اور اولین ذریعہ ہے ۔ یا یوں کہا جائے کہ الفاظ ان ذہنی تصورات کے علائم ملفوظ ہیں جن کی ہم مخاطب کے ذہن تک رسائی کرانا چاہتے ہیں ۔ جب زبان کا مطالعہ صوتی حیثیت سے ہوتا ہے تو آواز واسکی اقسام ‘ الفاظ کی تخلیق وساخت اور اصوات اصول وضوابط ضروری قرار دیئے جاسکتے ہیں ۔ اور اسی کسوٹی پر الفاظ کو معنی کے رشتے پر پرکھا جاتا ہے ۔ دوسری طرف کلام کے اجزائے ترکیبی اور صرف ونحو کی بنیادوں پرٹکی نظرآتی ہیں ۔ اور پھر علم انسان کے کئی شعبہ جات قابل مطالعہ نظرآنے لگتے ہیں ۔ جن میں صوتیات ‘ لفظ کی ساخیات ، معانیات صرف ونحو اور علم اللغات قابل ذکر ہیں ۔
ویسے تو ہم سب ہی اپنی اپنی زبانوں کے ارتقائی خاکہ کا تھوڑا بہت علم رکھتے ہیں ۔ وہی زبان جسے انسان اپنا خیال ظاہر کرنے کے لئے ارادتاً نکالتا ہے اور ان آوازوں کے معین معنی ایک لفظ سے ایک جذبہ پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ لیکن بہت کم افرادزبان کے الفاظ‘ ساخت اور ابتدائی کلمات وتغیرات سے متعلق کا ملاً علم ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں ۔ ہندوستانیوں نے قبل از مسیح اپنی زبان پرمشاہدے کے ستاروں پر اپنی کمند تو پھینکی تھی لیکن اس کے اصول وضوابط اور تقابلی لسانیات کے میدان میں اتر نے کی کوشش نہیں کی تھی۔ حالانکہ وہ اپنے قوی علم اور سائنٹفک مطالعہ پر قادر تھے ۔ صنعتی اور معاشی ضرورتوں نے یوروپی اقوام کو مشرقی علوم وفنون اور زبان وادب میں دلچسپی لینے پرمجبور کردیا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے نامزدجج سرولیم جونسن نے آپسی لسانیات میں موازانہ کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ضرورت فن کے پیر ہن میں مشرق تا مغربی افق پرچھا گئی ۔ سرولیم جونسن نے ۶۸۷۱ء میں سنسکرت زبان کے گہرے مشاہدے ومطالعے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سنسکرت ‘ یونانی اور لاطینی زبانوں کا ماخذ ایک ہے۔ یوروپین علم دوست اقوام نے ۸۱؍ ویں صدی کے خاتمہ پر ہندوستانی جدید بولیوں کا مطالعہ بھی شروع کیا جو سر جارج گریر سن کے زیر نگرانی تھے ۔ اس کے بعد جان بیمز کی نگرانی میں جدید ہندوستانی پراکرتوں سے متعلق تحقیقی کام ہونے لگے جواب تک جاری ہیں اور آج بھی کئی ماہرلسانیات ان زبانوں میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔
جان بیمز نے اپنی کتاب ’’ ہندوستان کی جدید آریائی زبانوں کی تقابلی قواعد‘‘ کے صفحہ نمبر ۸ پر تحریر کیا کہ ’’ موجودہ زمانے میں ( یعنی ۱۷۸۱ء ) کو اُردو سارے ہندوستان میں استعمال ہوتی ہے ‘‘ جان بیمز کے مطابق عربی ، فارسی الفاظ کی آمیزش سے ہندی زبان کوغیر معمولی فائدہ پہونچا ۔ کیونکہ وہ سنسکرت کی طرف جانے سے بچ گئی اور سنسکرت کا سہارا لینے کی وجہ سے ہندوستان کی کئی زبانوں کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ سکا ۔ زبانوں کے ادوار کی تقسیم کرتے کرتے جان بیمز نے سیاسی ومعاشی حالات کے پیش نظر کئی پیشن گوئیاں کی تھیں اور بعض اہم نتائج کا اعلان بھی کیا تھا ۔ جیسے کہ اس نے اردو زبان کو ہی ہندوستان کی عام زبان قرار دیا اور اس کا برملا اعتراف 1866 ؁میں ایشیا ٹک سوسائٹی بنگال کے جرنل میں کیا ۔ جان بیمز نے دراوڑی ، تبتی ‘ چینی اور پہاڑی بولیوں کی خصوصیات کو بھی واضح اہمیت دی ۔
آج ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم آواز کو صحیح طورپر لکھیں اور زبان سے بھی ادا کریں ۔ ہرزبان میں ہرآواز کی اپنی دنیاوی گرف سے ہی الفاظ ومعنی میں صحیح رشتہ قائم ہوسکتا ہے ۔ اگر ہم اپنی مادری زبان پراس اصول کو قائم رکھ سکیں تو بہت کم وقت میں دیگر زبانوں کو بھی سکھ سکیں گے۔آوازوں کی اقسام اوران کی باریکی وصوتی انفرادیت کو سمجھتے ہوئے اپنی زبان کو ترقی دینا ضروری ہے ۔ دنیا بھرکی زبانیں مختلف اور بے شمار آوازیں رکھتی ہیں ۔ لیکن ہرآواز کو دوسری آواز سے منفرد کرکے ایک مخصوص حصار میں رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ تہذیب وتمدن کے فروغ کے پیش نظربھی خیال کی بیشتر پیچیدگیوں کے ساتھ زبان نے نئی وسعت اور آفاقیت حاصل کی ہے ۔ یہ کبھی نئے الفاظ تو کبھی نئے مرکبات کے ساتھ زبان میں اپنا جلوہ دکھاتی ہے ۔ جس میں ماحول ‘ طرزتمدن ، آداب و اخلاق اور دیگرخارجی اسباب مختلف ذرائع کے ساتھ اثر انداز ہوتے ہیں ۔ ان میں طبعی ‘ جغرافیائی حالات ، نسلی اثرات ، سیاسی واقتصادی روابط ‘ فنون تعلیم اور اقوام کے جذبات کے بے شمار حالات اثرانداز ہوتے ہیں ۔ لیکن ضروری نہیں کہ یہ تمام اثرات زبان پراتحاد کی صورت میں ہی نظرآئیں ۔ بسااوقات یہ اثرات پوری قوت کے ساتھ اختلاف کی صورت میں بھی کار فرما نظر آتے ہیں جو بڑے گہرے اور دیر پا اثرات قائم کرتے ہیں ۔
ماہرین لسانیات کے مطابق ان ہی عوامل کے پیش نظرزبان میں صوتی اور معنوی تغیرات پیدا ہوتے ہیں ۔ جو کبھی ترقی کے مراحل طئے کرتی ہے تو کبھی پستی کے پاتال میں بھی چلی جاتی ہے ۔ اس لئے ہرزبان کو اس کے لسانی پس منظر کے ساتھ ساتھ طبعی‘ تاریخی‘ سیاسی اور سماجی پس منظر میں بھی دیکھنا چاہئے۔
ماہرین لسانیت نے ہشت لسانی خاندان بنائے ہیں ۔ جن کے نام کچھ اس طرح ہیں ۔ (۱) سامی (۲) افریقہ کی بانتو ( ۳) دراوڑ (۴)ہند چینی (۵) ملایائی ( ۶) منڈا (۷)امریکی (۸)ہند یوروپی اردو ہندی یا ہندوستانی زبانوں کے مطالعہ کے لئے ہندیوروپی ‘ سامی درواڑ اور منڈ ا جیسے لسانی خاندان معنی رکھتے ہیں ۔ ہند یوروپی خاندان کے تحت آرمینی ‘ بالٹو سلافی ‘ البانوی ، یونانی ، اطالوی ، کیلٹک ، ٹیو ٹانی اور ہند آریائی یا ہند ایرانی زبانیں شامل ہیں۔ اسی پس منظر کے تحت اردو کو بد یسی زبان قراردینے والوں کے لئے علم السان کے اصول واضح کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ زبان کی تاریخ سے ناواقف ہیں ۔ آج ہندوستان کی آبادی کا بڑا حصہ اردوزبان کو اپنی زبان سمجھتا ہے ۔ کیونکہ اردو زبان لفظ ومعنی سے گزر کر اورتمام لسانی مراحل طئے کرکے جذبات تک رسائی کرتی ہے ۔ اس زبان نے اپنی زندگی کو دنیا کی انسانیت ‘ ادبی تغیرات اور ساختیایاتی صورت میں منتقل کیا ہے اور کررہی ہے اورکر ے گی ۔ یہی اردوزبان کی زندگی کا راز ہے ۔ اس لئے اردو لازوال ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ زبانیں کسی کے مفاد ‘ حق اور سیاسی مقاصد کہ تحت نہیں بلکہ چلن سے اپنا دائرہ وسیع کرکے راسخ بنتی ہیں ۔
٭٭٭
“Alfaaz-o- Ma’ana aur Zaban ka Rishta” by Dr. Hajra Bano, “Urdu Research Journal” ISSN 2348-3687, Vol. I, Issue II, page No. 66-69.

Leave a Reply

1 Comment on "الفاظ و معنی اورزبان کا رشتہ"

Notify of
avatar
Sort by:   newest | oldest | most voted
Ghulam Dastageer
Guest
رشتے کے جملے
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.