اپنی بات* مدیر اعلی
ادو ریسرچ جرنل‘ کے پہلے شمارہ کو امید سے زیادہ پذیرائی ملی۔ ملک اور بیرون ملک سے اردو دوست حلقوں نے اسے اردو دنیا کے لئے ایک نیک شگون کے طور پر دیکھا۔ پہلے شمارہ کی اشاعت کے کچھ ہی دنوں بعد ’اردو ریسرچ جرنل‘ کو انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ نمبر ISSN بھی مل گیا۔ ـ’اردو ریسرچ جرنل‘ کی اس کامیابی کے لئے سب سے پہلے میں اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوں اس کے بعد ان قلم کاروں اور مخلص احباب کاشکریہ ادا کرنا اپنے اوپر واجب سمجھتا ہوں جن کے تعاون کے بغیر جرنل کی اشاعت ناممکن تھی۔
اردو زبان وادب میں سائنس کے مختلف شعبوں کی طرح ای جرنل کی روایت نہیں رہی ہے۔ اس وجہ سے کئی لوگوں کو عجیب سا محسوس ہوا ۔ میرا ماننا ہے کہ اس وقت اردو کی موجودہ صورتحال میں ای جرنل (e journal)کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو آبادی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بکھری ہوئی ہے۔ دوسری زبانوں کی طرح اس زبان کاکو ئی خاص علاقہ نہیں ہے۔ اگر ہم ہندوستان سے باہر کی بات کریں تو پاکستان کو چھوڑ کر کہیں بھی اردو والے ایک مخصوص خطے میں نہیں رہ رہے ہیں۔ اس طرح کی بکھری ہوئی لسانی آبادی کو انٹرنیٹ کے آسان اور سستے ذریعہ سے ہی جوڑا جاسکتا ہے۔ ای جرنل کی اشاعت کے بعد پوسٹنگ کی دشواریوں سے آزادی مل جاتی ہے۔ دنیا کے کسی خطے میں بیٹھا اردو کا شیدائی اسے پڑھ سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اس کی پرنٹ لے کر محفوظ کرسکتا ہے۔ ایک اور اہم خصوصیت جس میں ای جرنل کا ثانی روایتی جرنل نہیں ہوسکتے وہ ای جرنل کا تبصروں کا نظام (Review system) ہے۔ قاری کسی بھی مقالہ پر اپنی رائے فوری طور پر دے سکتا ہے۔ اس طرح قاری اور قلم کا رشتہ ای جرنل میں کافی مضبوط ہوتا ہے۔
’اردو ریسرچ جرنل‘ چونکہ ایک ریفرڈ جرنل (Refreed journal) اس وجہ سے ہماری پالیسی رہی ہے کہ مقالہ کو شائع کرنے سے پہلے متعلقہ موضوع کے ماہرین کی رائے ضرور لیں، اگر ضروری سمجھا جاتا ہے تو مقالہ پر نوٹ لگا کر اصلاح کے لئے مقالہ نگار کے پاس واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ کسی بھی ریفرڈ جرنل کی کامیابی کے لئے تبصرہ نگاروں کا تعاون بہت ضروری ہے۔ اردو ریسرچ جرنل کی خوش بختی ہے کہ اس کو روزاول سے مختلف اصناف کے ماہرتبصرہ نگاروں کا تعاون حاصل رہا ہے۔ ہم اپنے سبھی تبصرہ نگاران (reviewers) کی خدمت میں ہدیۂ تشکر پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ہمیں ان کا تعاون حاصل رہے گا۔ ساتھ ہی ان قلم کاروں کا بھی شکرگزار ہوں جنہوں نے نشان زد مقالات کو وصول کرتے ہوئے برا نہیں مانا بلکہ ہماری پالیسی سمجھتے ہوئے اس کے مطابق مقالہ میں اصلاح کرکے ہمارے پاس دوبارہ ان مقالات کو بھیجا۔
اس درمیان اردو دنیا کی کئی عظیم ہستیاں ہم سے رخصت ہوئیں،اردو تحقیق کی آبرو،پروفیسر محمود الٰہی، فکشن تنقید کے سرتاج پروفیسر وہاب اشرفی، شاعر اور افسانہ نگار بلراج کومل اور ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کے نمائندہ صحافی اور ناول نگارخشونت سنگھ ہم سے جدا ہوگئے۔ اس شمارے میں خراج عقیدت میں خشونت سنگھ اور پروفیسر محمود الٰہی پر مضامین شائع کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ’تحقیق وتنقید‘ کے تحت چار مضامین مضامین شائع کئے جارہے ہیں، ایک علم اﷲ اصلاحی کا اقبال اور ٹیگور پر دوسرا ضیاء الحق کا اقبال کی آفاقیت پر وقیع مقالہ پیش کیا جارہا ہے۔اس شمارے میں ہم عصر اردو ادب کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ’رفتار ادب‘ کے کالم کے تحت مختلف ہم عصر شاعروں اور فکشن نگاروں پر تنقیدی مضامین شائع کئے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ہم عصر اردو ادب پر دو عمومی مقالات بھی اس جرنل کی زینت ہیں۔
اس شمارے سے ہم اردو زبان وادب کی اہم کتابوں پر تبصروں کا بھی سلسلہ شروع کررہے ہیں۔ ’کسوٹی‘ کے کالم کے تحت کتابوں پر تبصروں کو پڑھا جاسکتا ہے۔
’اردو ریسرچ جرنل‘ کو گزشتہ شمارے کی طرح اس مرتبہ بھی پی ڈی ایف فائل میں شائع کیا جارہا ہے۔ دراصل ریسرچ جرنل کو ریکارڈ کے طور پر رکھا جاتا ہے اس وجہ سے پی ڈی ایف کی صورت ہی اس کے لئے زیادہ مناسب ہوتی ہے۔
یہ شمارہ کیسا لگا، ہمیں اپنی رائے سے ضرور نوازیں تاکہ اس کی روشنی میں اگلے شماروں کو ترتیب دیا جاسکے۔ ہمیں آپ کے خطوط کا انتظار رہے گا۔
عزیر اسرائیل
(مدیر)
یکم مئی ۲۰۱۴
٭٭٭
Leave a Reply
2 Comments on "اپنی بات* مدیر اعلی"