اُردو کے چار شخصی مرثیے(ایک تنقیدی جائزہ
اُردومیں مرثیہ نگاری کے ذکر کے ساتھ ہی ذہن میں جو دو نمایاں تصویریں ابھرتی ہیں وہ میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔکی ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انیس ؔو دبیر ؔنے اپنے بے پناہ زورِ تخیل اور جدتِ طبع سے مرثیے کے فن کو اس قدر بام ِعروج پر پہنچایا کہ اب اس میں مزید ترقی کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اسی طرح اگر یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگاکہ جوش ؔاور وحید اخترؔ کے بعد مرثیہ نگاری کا فن زوال پذیر ہوگیا… مرثیے کے ذکر کے ساتھ جو دوسرا تصور ا بھر تا ہے‘ وہ ہے میدانِ کربلا میں شہادتِ حسین ؓکا جاں گسل سانحہ۔ واقعہ یہ ہے کہ اُردو کا تقریباً تمام رثائی ادب کربلا ئی مرثیوں پر مشتمل ہے۔ شخصی مرثیوں کی طرف ہمارے شعرائے کرام کی نظرِ التفات بہت کم رہی ۔ اردومیں شخصی مرثیے جتنے لکھے گئے ہیں انھیں بہ آسانی انگلیوں پر گناجاسکتا ہے ۔ کچھ تو شہادتِ حسینؓ کے واقعے سے جذباتی وابستگی کی بنا پر ‘ کچھ تقدس وکارِثواب کی خاطر ‘ بہر حال وجوہات جو بھی رہی ہوں ‘ اردو شاعری کے آغاز سے لے کر جدید دور میں جوشؔ اور وحید اخترؔ تک ہر دور میں کربلا ئی مرثیوں کی روشن روایت نظر آتی ہے ۔ا س کے بر خلاف شخصی مرثیوں کی طرف خاطر خواہ تو جہ نہیں دی گئی ۔
اگر چہ غالبؔ نے مرثیہ ٔعارفؔ لکھ کر شخصی مرثیوں کی داغ بیل ڈالی ‘ لیکن حالیؔ وہ پہلے شاعرو نقاد ہیں جنھوں نے سب سے پہلے نہ صرف اس کمی کو شدت سے محسوس کیا بلکہ انھوں نے کہاکہ مرثیے کی صنف کو صرف سانحۂ کر بلا تک محدودر کھنا مناسب نہیں ۔ ایسے اشخاص کی وفات پر بھی مرثیے لکھے جاسکتے ہیں اور لکھے جانے چاہئیں ‘ جن سے ہمیں غایت درجے کی الفت ومحبت تھی اور جن کے انتقال سے ہمیں فی الواقعی شدید صدمہ پہنچا ہو۔ وہ ہمارے عزیز واقارب ہوں یا قوم وملت کے رہنما‘ ہر کسی کی وفات پر اس کے محامد ومحاسن اور خدمات بیان کر کے اپنے غم واند وہ اور ذہنی صدمے کا اظہار کرتے ہوئے نو حے لکھ کر ہمارے رثائی ادب میں وسعت پیدا کرنی چاہیے۔ چنانچہ غالبؔ کے ’’مرثیۂ عارف ‘‘ کے بعد خود حالیؔ نے مرثیۂ غالبؔ ‘‘لکھا پھر اقبالؔ نے’’مرثیۂ داغؔ ‘‘اورپھر صفیؔ لکھنوی نے حالیؔ کا مرثیہ لکھ کر اس روایت کو آگے بڑھایا ۔ذیل میں انہی چار شخصی مرثیوں کاتنقیدی جائزہ پیش خدمت ہے ۔
غالبؔ کامرثیۂ عارفؔ:
زین العابد ین خاں عارف ؔ مرزاغالب ؔ کی اہلیہ کے بھانجے تھے ۔یہ نہا یت علم دوست ‘ سخن فہم اور خوش فکر شاعر بھی تھے۔ ان کی انھی گوناں گوں خوبیوں کی وجہ سے غالبؔ انہیں بے حد عزیز رکھتے تھے۔ یہ غالبؔ کے شاگردبھی تھے۔ ان کاانتقال عین جوانی میں ۱۸۵۳ء کو ہوا۔ ان کی موت سے غالبؔ کوبے حد صدمہ پہنچا۔انہوں نے عارفؔ کی موت پر غزل کی ہیئت میں ایک مختصر مگر پُر سوز مر ثیہ کہا ہے جودس اشعار پر مشتمل ہے ۔ چند اشعاردرج ذیل ہیں :
لازم تھاکہ دیکھومراراستہ کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں ؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
جاتے ہوئے کہتے ہو ’’قیامت کو ملیں گے ‘‘
کیا خوب قیامت کا ہے گو یا کوئی دن اور
ہاں ‘ ائے فلکِ پیر !جواں تھا ابھی عارفؔ
کیا تیر ا بگڑ تا ‘ جونہ مرتاکوئی دن اور ؟
تم کونسے ایسے تھے کھرے ، دادو ستد کے ؟
کرتا ملک الموت تقاضاکوئی دن اور
ان اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ غالبؔ ‘ عارفؔ سے غایت درجے کی محبت رکھتے تھے ۔ یہ ہے تو مرثیہ لیکن غالبؔ نے اس میں ایسا پیرایۂ اظہار اختیار کیا ہے جس میں شوخی و طنز بھی ہے ۔ مرنے والے سے یہ کہنا کہ تنہا گئے کیوں ؟اب رہو تنہا کوئی دن اور ‘ غالب ؔ کی اسی شوخی کی غمازی کرتا ہے ساتھ ہی عارفؔسے ان کی بے انتہامحبت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ دوسراشعرتو بہت غضب کا ہے مرنے والے سے مخاطب ہوکر کہہ رہے ہیں کہ تم تو جاتے ہوئے یہ کہہ رہے ہو کہ اب قیامت کوملیں گے لیکن یہ تو بتا ؤ کہ اس سے بڑھ کربھی کوئی قیامت کادن ہے؟چوتھا شعر بھی غالب ؔ کی مخصوص شوخی و طرزِ اداکاحامل ہے ۔کہتے ہیں کہ تم لین دین کے معاملے میں ایسے کونسے کھرے تھے۔ ملک الموت کو بھی کسی بہانے سے چند دن ٹال دیا ہوتا۔ بہر حال یہ مرثیہ غالبؔ کی انفرادیت ‘ جدتِ طبع اور ندرتِ خیال کی اپنی مثال ہے۔ شاید ہی کوئی مرثیہ ہوجس میں مرثیہ نگارنے اپنے غم واندوہ کے بیان میں شوخی وطنز سے بھی کام لیا ہو۔
حالی کا مرثیۂ غالبؔ:
غالبؔ ( ۱۷۹۷۔۱۸۶۹ء)کاشمارنہ صرف اردواور فارسی کے اہم ترین شاعروں میں ہوتا ہے بلکہ دنیا کی مختلف زبانوں کے چندعظیم شاعر وں میں بھی ان کی خاص شنا خت ہے ۔ اردو شاعری میں غالبؔ کو کلاسک کا درجہ حاصل ہواہے ۔ اگر یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگاکہ غیر اردوداں حضرات بھی اردوکے حوالے سے غالبؔ کواور غالبؔ کے حوالے سے اُردو کو جانتے ہیں ۔ غالبؔ نے اپنے جدتِ خیال ‘ ندرتِ بیان، معنی آفرینی ‘ شوخی وظرافت سے اُردو غزل کوفرسود گی سے آزادی دلا کرنہ صرف تازگی وتوانائی بخشی بلکہ اسے فکر ی وفلسفیانہ اسا س بھی فراہم کی۔
حالیؔ جب پانی پت سے بغرض تعلیم دہلی آئے تو یہاں انکی ملاقات غالبؔ جیسے نابغۂ روز گار سے ہوئی ۔ حالیؔ نہ صرف غالبؔکے حلقۂ احباب میں شا مل ہوگئے بلکہ ان سے شرفِ تلمذبھی حاصل کیا ۔ وہ ایک زمانے تک غالبؔ کی صحبتوں سے فیض اٹھا تے رہے ۔ انھیں بہت قریب سے دیکھا ان کے مزاج ‘ اخلاق وعادات سے بھی متا ثر رہے ۔ حالیؔ ‘ غالبؔ کے شاعر انہ کمالات کے قائل بھی تھے اور ان کے مخلص معتقد بھی ۔ اگرچہ بعدمیں حالیؔ شیفتہ کی صحبت سے بہت مستفید ہوئے لیکن وہ معتقد بہرحال غالبؔ کے تھے جیساکہ انھوں نے اپنے ایک شعرمیں کہاہے :
حالیؔ سخن میں شیفتہ سے مستفید ہوں
غالبؔ کا معتقد ہوں ،مقلد ہوں میرؔ کا
بہرحال حالیؔکوغالبؔ سے بڑی عقیدت تھی جس کا حق انھوں نے نہ صرف ’’یادگارِ غالب ‘‘ لکھ کرادا کیابلکہ ان کی وفا ت پرعقیدت ومحبت سے مملو پرسوز مرثیہ بھی لکھا جو دس دس شعر کے دس بند پر مشتمل تر کیب بند کی ہیئت میں ہے ۔ اس مرثیے میں حالیؔ نے غالبؔ کے مزاج ‘ عادات واطوار ‘ شخصیت ‘ شوخی ‘ ظرافت ،بذلہ سنجی ‘رندوسر مستی ‘ احباب نوازی ‘ نکتہ دانی، نکتہ شناسی‘ پاک باطنی اورمجلسی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر پیش کی گئی ہے۔ غالبؔ کونوشہ اور شہردلی کو برات قراردیتے ہوئے یہ کہاہے کہ غالب ؔکے مرنے سے دلی مرگئی۔ مراد یہ ہے کہ دلی کی شعروسخن کی محفلوں کی رونق وآب وتاب غالبؔ سے تھی :
اس کے مرنے سے مرگئی دلی
خواجہ نوشہ تھا اور شہربر ات
یاں اگر بزم تھی تو اس کی بز م
یاں اگر ذات تھی تو اس کی ذات
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا
شہر میں اک چراغ تھانہ رہا
حالیؔ کے خیال میں غالبؔ کے شاعرانہ کمالات ایسے تھے جن پرفارسی کے عظیم شعرا عرفی ؔوطالبؔ کو بھی رشک ہوتاتھا چنا نچہ کہتے ہیں :
رشکِ عرفیؔ و فخر طالبِ مُرد
اسد اللہ خاں غالب ؔ مُرد
حالی ؔ نے یہ کہہ کر بھی غالبؔکو خراج ِ تحسین پیش کیا ہے کہ غالبؔ کو فارسی شاعری میں قدسیؔ‘صائبؔ ‘ اسیرؔ اور کلیمؔ کا ہم پلہ ٹھہر انا نہایت غلط ہے بلکہ غالبؔ کا درجہ ان سے بہت بلندہے۔کہتے ہیں :
قدسیؔ وصائبؔ واسیر ؔ وکلیمؔ
لوگ جو چاہیں اُن کو ٹہر ائیں
ہم نے سب کاکلام دیکھا ہے
ہے ادب شرط منہ نہ کھلو ائیں
غالبؔ ِنکتہ داں سے کیانسب
خاک کو آسماں سے کیا نسبت
غالبؔ کی نثرو نظم کے حسن وجمال اور اس کی گونا گوں خوبیوں کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں :
چشمِ دوراں سے آج چھپتی ہے
انوریؔ وکمالؔ کی صورت
لوحِ دوراں سے آج مٹتی ہے
علم وفضل وکمال کی صورت
دیکھ لو آج پھر نہ دیکھوگے
غالبِؔ بے مثال کی صورت
٭
ساتھ اس کے گئی بہارِ سخن
اب کچھ اندیشۂ خزاں نہ رہا
اہل ہنداب کریں گے کس پرناز
رشک ِشیراز و اصفہاں نہ رہا
کوئی ویسا نظر نہیں آتا
وہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا
اُٹھ گیا‘ تھا جو مایہ دارِ سخن
کس کوٹھہر ائیں اب مدارِ سخن
غالبؔ کے مزاج و شخصیت کی عکا سی اس طرح کی ہے :
خاکساروں سے خاکساری تھی
سربلند وں سے انکسار نہ تھا
لب پہ احباب سے بھی تھانہ گلہ
دل میں اعدا سے بھی غبارنہ تھا
بے ریائی تھی زہد کے بدلے
زہد اس کا اگر شعار نہ تھا
غالبؔ کی وفات سے حالیؔ کو جودلی صدمہ پہنچااوروہ جس ذہنی ورو حانی کرب وابتلا کا شکارہوئے اس کااظہار بھی انھوں نے بڑے رقت آمیز اسلوب میں کیا ہے ۔ ایسامعلوم ہوتا ہے کہ وہ زاروقطار ورہے ہیں اور حزن وملا ل کے دریا میں بہے جارہے ہیں ۔ حالیؔ شاعری میں جوش ‘ اصلیت اور سادگی کے بڑے مبلغ تھے ۔ یہ تینوں چیزیں ان کے زیرِ نظر مرثیے میں بہ تمام و کمال نظر آتی ہیں ۔ حزن وملال میں ڈوب کر کہے ہوئے ماتمی اشعارمیں آج بھی حالیؔ کے سچے جذبات کی تپش اور آنسوؤں کی نمی محسوس کی جاسکتی ہے ۔ مثلاََ:
بارِ احباب جو اٹھا تا تھا
دوشِ احباب پر سوار ہے آج
تھی ہر اک بات نیشکر جس کی اس کی چپ سے جگر فگا رہے آج
دلِ مضطر کو کون دے تسکیں
ماتمِ یارِ غم گسار ہے آج
تلخیِ غم کہی نہیں جاتی
جانِ شیر یں بھی نا گوار ہے آج
غم سے بھر تانہیں دلِ ناشاد
کس سے خالی ہوا جہاں آباد
کچھ نہیں فرق باغ وزنداں میں
آج بلبل نہیں گلستاں میں
شہر سارا بنا ہے بیت ِحزن
ایک یوسف نہیں جو کنعاں میں
وہ گیا‘جس سے بزم تھی روشن
شمع جلتی ہے کیوں شبستاں میں
سچے جذبات کی پُر اثر تر جمانی ‘ تاثیر بیانی ‘ تسلسل اور روانی ‘ اہلِ کمال کی قدر دانی ‘ رقت آمیز اسلوب ‘ بر محل الفاظ کا استعمال ‘ غلوسے اجتنا ب ‘ عقیدت ومحبت کابے ساختہ اظہار اور مترنم بحرکی خوش آہنگی غرض ان کئی خوبیوں سے متصف یہ مرثیہ نہ صرف شخصی مرثیوں میں ممتاز اہمیت کا حامل ہے بلکہ ایک شاگرد کا اپنے استاد کو زبر دست خراجِ تحسین بھی ہے ۔ اگر یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگا کہ اسی مرثیے سے اُردو میں شخصی مرثیوں کی روایت کو استحکام حاصل ہوا ۔
اقبالؔ کا مرثیۂ داغؔ:
داغ ؔدہلوی(۱۸۳۱۔۱۹۰۵ء) اردو کے ممتا ز غزل گوشعرا میں اپنی رنگین مزاجی ‘ بانکپن ‘ معاملہ بندی ‘مخصوص رنگِ تغزل اورصفائیِ زبان کے حوالے سے منفرد شناخت رکھتے ہیں ۔ اقبالؔنے جب شاعری کا آغاز کیا توسارے ہندوستان میں غزل کے حوالے سے داغؔ کا طوطی بول رہا تھا ۔ داغؔ کے بے شمار شاگردہندوستا ن بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔چنانچہ اقبالؔ نے بھی اپنے ابتدائی کلام پر داغ ؔ ہی سے اصلاح لی ۔ اس طرح وہ شاعری میں داغؔ کے شاگرد تھے جیسا کہ انھوں نے ایک شعر میں خود کہا ہے :
نسیمؔ وتشنہؔ ہی اقبالؔکچھ اس پرنہیں نازاں
مجھے بھی فخر ہے شاگردیِ داغِ سخن داں کا
لیکن داغ ؔ نے بہت جلد اقبال ؔکو فارغ الا صلا ح قرار دیا۔ اقبالؔ کی ابتدائی غزلیات پر داغ ؔ کے اثر ات صاف طور پرمحسوس کیے جاسکتے ہیں : مثلاََ
نہ آتے اگر اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
بھر ی بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا
نگہ تیری مستی میں ہشیار کیا تھی
۱۹۰۵ء میں داغؔ کا انتقال حیدرآباد دکن میں ہوا اور وہیں پیوندِخاک ہوئے۔ داغؔ کی وفاتِ حسرت آیات پر اقبالؔ (۱۸۷۵۔۱۹۳۸ء) نے ۲۳ اشعار پر مشتمل مثنوی کی ہیئت میں ایک مختصر مرثیہ لکھا جو ایجاز واختصار، رمز وکنایہ، تاثیر وبلاغت اور دیگر شعری محاسن سے مملو اور لاجواب ہے۔
اقبالؔ نے مرثیے کی ابتدا میں غالبؔ ، میر مہدی مجروحؔ اورامیرؔ مینائی کی اموات کا ذِکر کرکے داغؔ کو شمعِ بزمِ سخن سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے:
شمع روشن بجھ گئی بزمِ سخن ماتم میں ہے
داغؔ کو بلبلِ دِلّی اور اپنے طرز کا آخری شاعر قرار دیتے ہوئے کہا ہے:
چل بسا داغؔ آہ! میت اس کی زیبِ دوش ہے آخری شاعر جہاں آباد کا خاموش ہے
داغؔ کی شاعرانہ خصوصیات کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا ہے:
اب کہاں وہ بانکپن وہ شوخیِ طرزِ ادا
آگ تھی کافورِ پیری میں جوانی کی نہاں
اب صبا سے کون پوچھے گا سکوتِ گل کا راز
کون سمجھے گا چمن میں نالۂ بلبل کا راز
اقبالؔ نے اس احساس کا اظہار کیا ہے کہ دنیا میں بہت سے شاعر پیدا ہوتے رہیں گے۔ کوئی تلخیٔ دوراں کا نقشہ کھینچ کر ہمیں رلائے گا تو کوئی تخیلات کی دنیا بسائے گا۔ کتابِ دل کی تفسیریں بھی بہت لکھی جائیں گی اور خوابِ جوانی کی تعبیریں بھی بہت ہوں گی مگر عشق کی ہو بہو تصویر کھینچنے والا اور اپنے رنگین اشعار کے تیروں سے دلوں کو مجروح کرنے اور تڑپا نے والا کوئی نہیں ہوگا۔ کہتے ہیں :
ہوبہو کھینچے گا لیکن عشق کی تصویر کون
اٹھ گیا ناوک فگن، مارے گا دل پر تیرکون
اپنے غم واندوہ کا اظہار کرتے ہوئے خاکِ دلّی سے مخاطب ہوکرکہا ہے:
اشک کے دانے زمینِ شعر میں بوتا ہوں میں تو بھی رو، اے خاکِ دلّی!داغؔ کو روتا ہوں میں
اے جہاں آباد! ائے سرمایۂ بزمِ سخن!
ہوگیا پھر آج پامالِ خزاں تیرا چمن
وہ گلِ رنگین ترا‘ رخصت مثالِ بو ہوا
آہ! خالی داغؔ سے کاشانۂ اردوہوا
اقبالؔ نے اپنے مخصوص طرزِ سخن، شعر ی زبان ،سحرکاری ، فکر وتخیل اور جذبات کی وارفتگی کو بروئے کارلاتے ہوئے اس مرثیے میں داغؔ کی شاعرانہ انفرادیت ، شوخی بانکپن ، جذبات نگاری، وارداتِ عشق کے بے محابا اظہار، دلکشی، جاذبیت اور رنگینیٔ خیال، غرض داغؔ کی شاعری کے جملہ عناصرِ ترکیبی کوبہترین خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ شخصی مرثیوں میں اقبالؔ کے مرثیۂ داغؔ کی خصوصیت وانفرادیت مسلم ہے۔
صفیؔ لکھنوی کا مرثیۂ حالیؔ:
حالیؔ (۱۸۳۷۔۱۹۱۴ء) نہ صرف اردو کے بلند پایہ ادیب، شاعر ، نقاد اور سوانح نگار تھے بلکہ مصلحِ قوم بھی تھے۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی زبان وادب اور قوم کی اصلاح وفروغ اور خدمت میں گزاری۔حالیؔ قوم وملت کو بیدار کرکے اسے نئے زمانے سے ہم آہنگ ہونے کا شعور بخشنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ حالیؔ اردو شاعری میں مجدد کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ انھوں نے مقصدی ‘اصلا حی‘قومی اورنیچرل شاعری کا نہ صرف احساس دلایابلکہ عملی طورپرخودبھی اس قسم کی شاعری کوفروغ دینے کی حتی المقدورکو شش کی۔ ان کی ادبی وقومی خدمات ہمیشہ یادرکھی جائیں گی۔حالیؔ نیک دل ‘ فرشتہ صفت اور بلند اخلاق کے حامل انسان تھے ۔ ایسے مجدّ دِشاعری ‘ مصلحِ قوم اور نیک و مخلص انسان کا دنیا سے اٹھ جانا یقینا باعثِ رنج وملا ل تھا۔
غزل کے نمائندہ شاعر صفیؔ لکھنوی ( ۱۸۶۲۔۱۹۵۰ء) نے حالیؔ کی وفات کا گہر اصد مہ و تا ثر قبول کیا اور اپنے اس صدمے اور تا ثر کو نظم کاجامہ پہنا کر مر ثیے کی صورت میں پیش کیا جو بارہ بند پر مشتمل مسدس کی ہیئت میں ہے ۔
صفی لکھنوی نے مرثیۂ حالیؔ میں حالیؔکی تمام خوبیوں اور ان کی قومی وادبی خدمات کاتذکرہ رمز وکنا یے کے ساتھ بڑے سلیقے اور ہنر مندی سے کیاہے جس میں سادگی بھی ہے اور پر کاری بھی ۔ مرثیے کی چھوٹی بحر اور دھیما لہجہ ‘ اندازِ بیان میں سادگی ومتا نت ‘ غلوسے پاک اور اصلیت سے پر مصر عے حالیؔ کی شخصیت ومزاج کے عین مطا بق ہیں جس سے مرثیے میں بلا غت کی اعلیٰ وار فع شان پیدا ہوگئی ہے ۔ حالی ؔ کے مزاج و ذہن اور فطرت وطینت کا اظہار اس سے بڑھ کر بلیغ اور کیاہوسکتا ہے :
سعد یؔ ‘ عطارؔ اس صدی کا طینت میں اثرنہ تھا بدی کا
دل آئینہ عشقِ سرمدی کا پتلا خلقِ محمد ی کا
تھا حسنِ عمل سے جس کو رشتہ
قالب میں بشر کے ایک فرشتہ
حالیؔ کی رہنمایانہ و مجتہدانہ شعری وادبی خدمات اور ان کی سیرت ومزاج کا پورا عکس اس ایک بند میں کس خوبصورتی کے ساتھ جھلک رہا ہے ۔ ملاحظہ ہو:
وہ خضرِ ادب‘ ادیبِ مشاق
فرخندہ سِیَر‘ طبیبِ اخلاق
یکتا ئے زماں ‘ و حیدِ آفاق
گر نظم میں فرد‘ نثر میں طاق
پاکیزہ خیال پاک طینت
جس بزم میں ہواس کی زینت
صفیؔ نے مختلف اشعار اور مصرعوں میں حالیؔ کی تصانیف اور اُن کی نظموں کے عنوانات اس خوبی اور بے ساختگی سے استعمال کیے ہیں جیساایک مشاق جو ہری نگینے جڑتا ہے ۔ آتش ؔنے بالکل سچ کہاہے :
بندشِ الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتشؔ! مرصّع ساز کا
مثلاََ:
کس بحرِ سخن کاآگیاہے نام
بے تاب ہے ’’مدوجزرِ اسلام ‘‘
مرحوم تھے ’’یاد گارِ غالب ‘‘ تلمیذِوفا شعارِ غالب
اندوہ ربا ’’نشاطِ امید ‘‘
فرحت افزا’’حیاتِ جاوید‘‘
یہی حال ان کے خطاب اور نام کا بھی ہے :
سلطانِ قلمروِ خیالی
اقلیمِ سخن کا بابِ عالی
بے مثل ‘ مثال ِبے مثالی
شمس العلماجنابِ حالیؔ
ذی عزت وخواجہ گرامی
الطاف حسین نامِ نامی
بہر حال صفیؔ لکھنوی کا’’مرثیۂ حالیؔ ‘‘ حالیؔ کے اوصافِ حمید ہ ‘خدماتِ جلیلہ کا بہترین مرقع بھی ہے اور صفیؔ کے سچے جذبات کاآئینہ دار بھی ‘ جس میں حالیؔ کی موت پر صفیؔ کا حزن وملا ل اور افسر دگی و مایوسی صاف طورپر محسوس کی جاسکتی ہے ۔
آخر میں ضمناََ اس بات کا تذکرہ بے جانہ ہوگاکہ اردو کے دیگر چند مشہور شخصی مرثیوں میں اقبال ؔکی نظم’’والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘‘ اور چکبستؔ کے دومرثیے ’’ مر ثیۂ تلکؔ‘‘اور ’’گھوکھلےؔ کی موت‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکرہیں ۔
٭٭
مقبول احمد مقبول
مونگیر، مہاراشٹر
09028598414
Maqbool ahmed Maqbool
09028598414
Leave a Reply
4 Comments on "اُردو کے چار شخصی مرثیے(ایک تنقیدی جائزہ"
[…] 49. اُردو کے چار شخصی مرثیے(ایک تنقیدی جائزہ […]
[…] بشکریہ […]
[…] بشکریہ […]