سر سید احمد خا ن ’’مسافران لندن‘‘ کے آئینے میں 

     ادب کی تاریخ میں  چند اشخاص ہی ایسے گذرے ہیں  جو آ نے والی نسلوں کے لیے اپنے دیر پا اثرات چھوڑ جاتے ہیں ۔ اور ہر انسان ایک طویل مدت تک ان کے افکار و خیالات احسا سات و جذبات اور ان کی لکھی ہوئی ہر تحریر سے استفا دہ کر تے ہو ے زندگی کے ہر پل کو ایک حسین پل بنانے کے لیے کوشاں رہتا ہے ۔ ایسے اشخاص کی فہرست میں  ایک نام اس شخص کا ہے جس نے کنکوے اڑائے اور ناچ مجرے بھی دیکھے لیکن جب قوم او ر ملک کو تباہ و بر باد ہوتے ہوئے دیکھا تو ہر رنگین بزم کو خیر باد کہہ کر ان کو راہ راست پر لانے کے لیے جدو جہد کرنے لگا ۔ خود اپنے چمن کو خزاں کے سپرد کر کے دوسروں کے باغ میں  قسم قسم کے پھول کھلا نے میں  ہر قسم کی صعبتوں کو برداشت کیا ایسے شخص کو دنیا ادب سر سید احمد خا ن کے نام سے جانتی ہے ۔   احمد خان مسلمانوں کی تباہی و بربادی ، رسوائی اور ابتری کے مسائل پر غور و فکر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کا مدا وا صرف جدید مغربی تعلیم ہے۔ جس سے مسلمان تقریباََ نا آشنا تھے۔ اس وقت صرف جدید مغربی تعلیم سے ہی نہیں مشرقی تعلیم سے بھی غافل تھے ۔ تعلیم سے نا آشنائی ہی تمام عیوب اور برائیوں کی جڑ ہے ۔ احمد خا ن سفر لند ن سے پہلے تعلیمی ، سماجی ،مذہبی اور تہذیبی میدان میں  کئی اہم کام کر چکے تھے ۔ لیکن وہ انگریزوں کی ترقی کا راز جاننے کے لیے ۵۲ سال کی عمر میں  دور دراز لندن کا سفر کیا اور وہاں کے طریقہ تعلیم ، نصاب تعلیم ، اصول و تدریس ، تہذیب و تمدن اور ثقافت و معاشرت کو بذات خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور مشاہدہ کر کے لندن کی ہرایک حسین و دلکش چیز کو اپنے ملک میں  رائج کرنا چاہتے تھے ۔

     سفر انگلستان کا دوسرا بنیادی مقصد سر ولیم میور (لفٹننٹ گورنر صوبہ جات شمال مشرقی یو پی)کی کتاب لائف آف محمد (لائف آف محمد چار جلدوں میں   ۱۸۵۵ء ۔ ۱۸۶۱ء ) کا دندان شکن جواب لکھنا تھا ۔ اس کتاب میں  اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں  متعدد باتیں ایسی تھیں جو نا قابل قبول تھیں ۔ولیم میور نے اس کتاب کو لکھتے وقت جس عربی مصادر و مراجع سے استفادہ کیا تھا وہ برطانیہ کے کتب خانے میں  موجود تھی اس لیے اس کا مدلل جواب لکھنے کے لیے انگلستان کا سفر کرنا ضروری تھا ۔ قیام انگلستان کے دوران سر سید نے ولیم میور کی کتاب کی تردید بارہ مقالے پر مشتمل انگریزی زبان میں  شائع کی ۔ انگریزی مقالوں کی اشاعت کے ۱۷ سال بعد ’’ الخطبات الاحمد یہ علی العرب والسیرۃ الحمدیہ ‘‘ کے نام سے اردو اڈیشن شائع ہوا ۔ اس انگریزی کتاب کے بارے میں  سر سید اپنے ایک خط میں  لکھتے ہیں  کہ’’ سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی تھی کہ یہ کتاب انگریزی زبان میں  چھاپی جائے اس لیے انگریزی چھاپنا شروع کر دیا اور اردو ابھی ملتوی ہے اگر میری یہ کتاب تیار ہو گئی تو لندن آنا دس حج کے برابر اور باعث نجات سمجھوں گا ۔ ‘‘

     اس عظیم مقصد کے ساتھ احمد خاں یکم اپریل ۱۸۶۹ء ؁ کو بنارس سے لندن کے سفر پر روانہ ہوئے ۔ اس سفر میں  احمد خان تنہا نہ تھے بلکہ ان کے ساتھ ان کے دونوں بیٹے ’’ سید حامد ‘‘ اور ’’ سید محمود ‘‘ تھے ۔ اس کے علاوہ ان کے ذاتی مدد گار ’’ عظیم اللہ عرف چھجو‘‘ اور مرزا خدا داد بیگ تھے ۔ لندن کے سفر کے لیے پیسے کی کمی کی وجہ سے کتب خانہ فروخت کر دیا اور گھر کو رہن پر رکھ دیا تھا ۔ ان سب قربانیوں کے با وجود وہ لندن میں  بہت سی جگہوں اور دعوتوں میں  شریک نہ ہو سکے جس کا انہوں نے سفر نامے میں  خود اعتراف کیا ہے ۔ مسافران لندن کو سر سید کے خطوط سے تر تیب دیا گیا ہے ۔ جو انہوں نے ’’سائنٹی فک سو سا ئٹی ‘‘ کے سیکریٹری ’’ راجہ جے کشن داس ‘‘ اور محسن الملک ‘‘ کو بھیجے تھے محسن الملک کو لکھے گئے خطوط نجی نوعیت کے ہیں  البتہ’’ راجہ جے کشن داس ‘‘کو انہوں نے سفر کا مفصل حال ’’ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘‘ میں  ہی شائع کیے جانے کی غرض سے لکھا تا کہ ان کے تجربات و مشاہدات اور تاثرات و احسا سات سے اہل وطن واقف ہو سکیں ۔ ایک وقت ایس آیا کہ سر سید روداد سفر بھیجنا بند کر دیے تھے ۔ راجہ جے کشن داس نے احمد خان کو خط بھیجا جس میں  انہوں نے لکھا کہ

’’ آپ نے جو سو سائٹی کے ممبروں کی نا خوشی کا خیال کیا اور اب تک اپنی نہایت پر لطف اور نصیحت آمیز تحریر سے تمام ہندوستانیوں کو محروم رکھا اور جو مضامین سرا سر عبرت سے بھرے ہوئے آپ بھیجتے تھے ان کے فیض کو روکا میں  نہیں جا نتا کہ وہ آ پ کے کس خیال پر مبنی تھے کیا ٓ پ مضمون صرف سو سائٹی کے ممبروں اور ملازموں ہی کی خوشی کے واسطے لکھتے تھے ۔نہیں بلا شبہ وہ ہندوستانیوں کی عام بھلائی کے واسطے تھے پھر ایک عام بھلائی کے کام کو کسی خاص وجہ سے چھوڑ دینا گویا جان بوجھ کر ابتر ی کی اجازت دے دینا ہے۔ ‘‘

                                         ( مسافران لندن ، مرتبہ اصغر عباس،ص ۲۳۳۔نا شر،ایجو کیشنل بک ہائوس،علی گڑھ ،۲۰۰۹ء)

     اس خط کو پڑھنے کے بعد احمد خا ن دوبارہ اپنے احسا سات و جذبات کو قلم بند کر کے بھیجنا شروع کیا ۔ جو’’ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ ‘‘    میں  سلسلہ وار شائع ہوتا رہا ۔احمد خاں ناگپور میں  ریل کے کارخانے اور اسٹیشن کو دیکھ کر اپنے ملک کے ریل کے کارخانے اور بعض اسٹیشنوں کا موازنہ اپنی طرف کے چوکیدار کے مکان سے کیا ہے ۔ احمد خاں ہر اس کام کو بے حد پسند کرتے تھے جو قوم کے لوگوں نے آپس میں  مل کر قوم کی بھلائی کے لیے کیا ہو اور اس میں  گورنمنٹ کا دخل نہ ہو ۔ جب ’’ بل گام ‘‘ اسٹیشن پر برہمنوں کو پانی پلاتے ہوئے دیکھتے ہیں  تو متعجب ہوتے ہیں  اور ہر اسٹیشن پر پانی کا انتظام دیکھ کر افسوس کرتے ہیں  کہ غریب شہر علی گڑھ اور ہاتھ رس بنارس کے دولتمند اور ٹونڈلہ کے اسٹیشن پر ایسا انتظام کیوں نہیں کرتے جس سے سب کو فائدہ پہنچے ۔ الہ آباد سے بمبئی تک ہر جگہ احمد خاں نے اردو میں  گفتگو کی سب لوگ ہر جگہ اردو سمجھتے تھے اور اردو میں  ہی جواب دیتے تھے اور اس وقت احمد خاں کا ذہن فوراََ اس زبان کی طرف جاتا ہے جس بھا شا کو الہ آباد ایسو سی ایشن ‘‘ سرکاری زبان بنانے کی کوشش کر رہے تھے اس وقت اردو کے متعلق احمد خاں نے لکھا ہے :

          کچھ شبہ نہیں کہ تمام ہندوستان میں  اردو زبان اسی طرح سمجھی اور بولی جا تی ہے جیسے تمام یورپ میں  فرنچ، بلکہ اس سے بھی زیادہ مروج ہے مگر میں   نے ہر چند تلاش کیا وہ قدیم بھاشا جس کا ’’ الہ آباد ایسو سی ایشن ‘‘ چاہتی ہے کہاں ہے مگر وہ مجھ کو کہیں نہیں ملی ۔‘‘

     (مسافران لندن ،مر تب اصغر   عباس، ص ۳۳۔نا شر ، ایجو کیشنل بک ہاوس،علی گڑھ،۲۰۰۹ء)

     بمبئی میں  میمن اور پارسیوں کی زندگی کے رہن سہن عادات و اطوار کا موازنہ کرتے ہیں  تو پارسیوں کو زیادہ ترقی یافتہ پاتے ہیں  اور اسی وجہ سے پارسیوں کی تعریف کی ہے ۔ اس دور میں  بنگالیوں نے بھی قومی ترقی شروع کی تھی لیکن پارسیوں کی ترقی کرنے کا طرز بنگالیوں سے اچھا لگا وہیں دوسری طرف مسلمانوں کو ہر میدان میں  پیچھے دیکھ کر افسوس کرتے ہیں  ۔ پارسی اس وقت اپنی لڑکیوں کو انگریزی تعلیم دینا شروع کر دیے تھے ۔ اس بات کو سن کر احمد خان جیسے دور اندیش شخص کو بھی اس کی وجہ سمجھ میں  نہیں آ ئی کہ ان لو گوں کو اپنی زبان چھوڑ کر لڑ کیوں کو انگریزی پڑھانے لکھانے کی کیا ضرورت پیش آئی ۔ ایسا نہیں کہ احمد خان صرف لندن کی تہذیب و تمدن اور وہاں کی تعلیم کو پسند کیا بلکہ بمبئی کے پارسیوں کی تہذیب اور تعلیم کی خوب تعریف کی ہے ۔ اور ان کا موازنہ مسلمانوں سے بھی کیا ہے ۔ لیکن افسوس کہ مسلمانوں کو ہر جگہ پیچھے پاتے ہیں  اور و تعذمن تشاء و تذل من تشاء کہہ کر اپنے دل کو تسلی دیتے ہیں  ۔ احمد خا ن سفر میں  ہر جگہ اپنی قوم پر افسوس کرتے ہیں  تو انور سدید اس کے متعلق یوں رقمطراز ہیں  :

’’ بلا شبہ اس مشاہدے میں  ان پر کبھی کبھی حیرت اور مسرت کی کیفیت بھی طاری ہوئی اور انہوں نے یورپ کے عجائب اور تہذیبی خو بیوں کی تحسین بھی کی لیکن ایسا لمحہ جب بھی آتا  سر سید کو اپنی زوال آمادہ قوم کے ذہنی افلاس ، تہذیبی پس ما ندگی اور علم کی کم مائیگی کا خیال آ جا تا ، ان کی حیرت گہری افسردگی میں  تبدیل ہو جاتی ۔ اس زاویے سے دیکھیے تو سر سید کا سفر قوم کا نوحہ ہے اور وہ لندن میں  بھی آنسو بہاتے ہوئے نظر آتے ہیں  ۔وہ اپنی قوم کی پستی اور دوسرے قوموں   کی بلند ی کا موازنہ ایسے درد سے کرتے ہیں کہ منظر اور مشا ہدے کا سارا حسن نم آ لود ہو جاتا ہے۔

     (اردو ادب میں  سفر نامہ،انور سدید ،ص ۱۳۰۔نا شر،ایم ۔آر۔پبلی کیشنز،نئی۲۰۱۲ء )

     احمد خاں نے جب بمبئی سے جہاز پر سفر کیا اس کی تصویر کشی بہت اچھی طرح کی ہے ۔ کس کمرے میں  کتنی پلنگ اور جو کمرہ ان کو ملا اس کا نبمر اس کا طول و عرض ، پھر سمندر میں  جہاز کی رفتار ، سمت کا تعین ، جہازوں کے درمیان ہونے والی بات چیت ، طول البلد اور عرض البلد معلوم کر نے کا طریقہ ، جہاز پر مختلف کھیلوں ، انگریز اورمیموں کا نہایت اخلاق و مہر بانی کے ساتھ پیش آنا ، صبح کو پہلے گڈ مارننگ اور ہر موقعہ پر تھینک یو کہنا ، سمندری جانوروں اور سمندر میں  دلفریب نظاروں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔

     جب عدن پہنچے تو یہاں کے بازار کے لوگوں اور سماجی قوم کو بھی اردو بولتے ہوئے دیکھتے ہیں  تو کہہ اٹھتے ہیں  کہ

 ’’ کوئی ضروری کام بند نہیں رہ سکتا ۔ سب اردو میں  انجام ہو سکتا ہے ۔ الحمداللہ کہ عدن تک اردو زبان کی شہنشاہی قائم ہے ۔‘‘

احمد خا ن کا جب گذر مصر کی وادیوں سے ہوا تو ان کی عقل حیران ہو گئی اور ان کو فوراَ َ اپنا ملک ’’ ما لوہ‘‘ یاد آتا ہے جو نہایت زرخیز اور عمدہ پیداوار کے لیے مشہور ہے ، لیکن مصر کی زرخیز مٹی کے سامنے اس کی کچھ بھی حقیقت نہیں ۔ ہر جگہ زمین کی ایسی صورت ہے گویا نہایت عمدہ کھاد ملائی ہو ۔ مصر کی زمین کی تعریف کرتے ہوئے یہان کے نہر بنانے کے فن کو بھی خوب سراہا ہے ۔ اور اس فن کو اپنانے کا مشورہ اپنے ملک کو دیتے ہیں  ۔ نہر کے متعلق لکھتے ہیں  کہ :

          ’’ اس ٹکڑہ ملک میں  جس قدر نہروں کی کثرت دیکھی بیان نہیں ہو سکتی ۔ چپے چپے پر نہر جاری ہے  اور نہر میں  بیسوں شعبے نکلے ہیں  جہاں تک میں  نے دیکھا میری دانست میں  کوئی کھیت ایسا نہیں          جس میں  نہر کا پانی نہ آتا ہو ۔ نہر کے بنانے کا فن مصر والوں کو بخوبی معلوم ہے ہر مقام پر پانی کی تقسیم کرنے کے دہانے اور پانی اونچا کرنے اور نیچا کرنے کی جھالیں اور تختے سب بنے ہوئے تھے  نہر کے پا س جو اونچی زمین ہے اور جن میں  نہر کا پانی بہائو سے نہیں جا سکتا ان زمینوں کے سیراب  کے لیے نہر کے کنارہ کا ٹ کا خانہ دار ایک بہیہ لگایا ہے اور بذریعہ ٹٹو یا بویا بیل کے پھرتا ہے  اور بخوبی کھیتوں میں  پانی پہو نچتاہے ، مگر یہ پہیہ پانچ چھ فیٹ اونچی زمین پر پانی پہنچا سکتا ہے اس  سے زیادہ اونچی زمین پر پانی نہیں پہونچا سکتا ۔ ہمارے ملک میں  جو یہ دستور ہے کہ تھوڑی سی اونچی زمین پر پانی پہونچانے کو دو آدمی ایک چھاج رسیوں میں  باندھ کر پانی او لیچتے ہیں  اس کے عوض اگر  اس پہیہ کا رواج دیا جاوے بلا شبہ فائدہ مند ہو گا ۔‘‘

     ( مسافران لندن ،مر تب اصغر عباس ، ص ۹۳۔نا شر ایجو کیشنل بک ہا ئو س،علی گڑھ ،۲۰۰۹ء)

     احمد خاں کی تحریر سے صاف عیاں ہے کہ دوران سفر صرف اپنے اہم مقصد کو ہی مد نظر نہیں رکھا بلکہ ہر چیز کو بغور دیکھا اورہر اس اچھی چیزکواپنانا چاہتے تھے جو دوسرے ملکوں میں  مو جود تھی ۔ وہ صرف تہذیب و تمدن ، آب و ہوا اور عادات و اطوار ہی کا موازنہ اپنے ملک سے نہیں کرتے بلکہ کھیتی باڑی کا بھی کرتے ہیں  اور مصر کی مٹی اور نہر بنانے کے فن کی تعریف کرتے ہیں  ۔

     وارسیل کے نگار خانوں سے احمد خاں بہت متاثر ہوئے ۔ خاص طور سے ان تصویروں سے جن میں  فرانسیسی لڑا ئیوں کی کیفیت کی مصوری کی گئی ہے ۔ احمد خاں اس نگار خانے کو دیکھ کر لکھتے ہیں  کہ ’’ یہ تصویر خانہ نہیں بلکہ قومی ہمت اور قومی جرات اور قومی شجاعت بڑھانے کا آلہ ہے ۔ ‘‘ اسی نگار خا نے میں  اس تصویر کو دیکھ کر بہت متعجب ہوئے جس میں  ’’ الجزائر ‘‘ کے ’’ امام عبدالقادر ‘‘ اور ان کے خاندان والوں کی گرفتاری کے ساتھ عورتوں کے بدن سے ہٹے ہوئے کپڑے کی تصویر پر فرنچ سپاہیوں کی بہادری اور سویلزیشن پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں  ۔

     اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ احمد خاں صرف ترقی یافتہ قوم کی خوبیوں کا ہی ذکر اور ان کی تعریف نہیں کرتے بلکہ ان کی کمیوں کو بھی دکھاتے ہیں  اور اس پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے اپنی رائے کا بر ملا اظہار کر دیتے ہیں  ۔ احمد خاں ان تمام رہنمائوں کے لیے گہری ہمدردی رکھتے ہیں  جو آزادی کے لیے جدوجہد کرتے رہے ۔ چاہے وہ افریقہ کے ہوں یا یورپ کے ۔ چنانچہ انہوں نے ’’ امام عبدالقادر ‘‘ اور ’’ گاری بالڈی ‘‘ کے کارناموں کی تعریف کی ہے اور اس بات کا افسوس کرتے ہیں  کہ ان کا جہاز کیپریا (capria )کے مقابل آ بنائے bonificioمیں رات کو گذرا اور اس سبب سے capria جہاں اس زمانے کے دلاور اعظم ’’ گاری بالڈی ‘‘ کا گھر ہے اور جزیرہ کارسیکا carsica جہاں شہنشاہ نیولین اعظم پیدا ہوا تھا ۔ ان کی کمال آرزو تھی کہ اس زمانے کے سب سے بڑے فیاض دلاور گاری بالڈی کے پھونس کے جھونپڑے کی زیارت کرنا جو ان کی نگاہ میں  بڑے بڑے قیصروں کے محلوں سے بھی زیادہ معزز قابل ادب اور تعظیم تھے ۔

     احمد خاں اپنی دو نوں نو کرا نی ( این اسمتھ اور ایلزبتھ ماتھیوز ) کا موازنہ ہندوستان کے ایک عام گھرانے کی عورتوں سے نہیں بلکہ امراو ررئوسا کے گھروں کی عورتوں سے کرتے ہیں  اور لکھتے ہیں  کہ اگر یہ ہندوستان میں  جاوے اور اچھے سے اچھے امیر آدمیوں کی عورتوں سے ملے تو ان کو محض جانور سمجھے گی اور نہایت حقارت سے ان سے نفرت کرے یہ صرف عام تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہے ۔ کیا ہندوستان میں  ایسی عورتیں نہیں تھیں جو با سلیقہ ہوں ، کتابیں پڑھ سکتی ہوں اور جب کسی سے گفتگو کریں تو ہر لفظ سے تہذیب جھلکتی ہو ۔ جہاں تک عام تعلیم و تربیت کی بات ہے تو اگر اس وقت انہیں تعلیم سے دور رکھا گیا اور تہذیب و ثقافت سے نا آشنا تھیں تو اس کا ذمہ دار کون تھا ْ ؟اگر ہندوستان میں  زیادہ تر لوگ عام تعلیم و تربیت سے محروم تھے تو اس کی وجہ صرف یہاں کی عوام تھی یا وہ لاگ جو بڑے بڑے عالیشا ن محلوں میں  اور لال قلعے کے فواروں میں  اپنی زندگی عیش و آرام سے بسر کرتے تھے ۔

     احمد خاں مختلف انداز فکر کے مالک تھے جب لندن کا سفر کیا تو اس دوران ہر چیز دیسی زبان میں  کرنے اور ان کے ذریعے تعلیم دینے کو کہتے ہیں  اور اپنی بات کو ہمالیہ کی چوٹی کھودواتے ہیں  جب کہ دوسری طرف فتح مند قوم کے علوم ، ان کی زبان ، ان کے خیالات ، ان کا سا تمدن اور لب و لہجہ اختیار کرنے کو کہتے ہیں  اس کے علاوہ وہ لوگوں سے نوکری کی لالچ چھوڑنے کو کہتے ہیں  جبکہ خود انگریزی گورنمنٹ کی ملازمت پر فخر کیا ہے ۔ میری نظر میں  ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر پل اپنا فیصلہ بدلتے رہتے ہیں  اور جو ان کی کا میابی و ترقی کا سبب بنا۔

     احمد خاں نے لندن کے طریقہ تعلیم ، نصاب تعلیم ، اصول درس و تدریس سے براہ راست واقفیت حا صل کی ۔ کیمبرج یونیورسٹی کی تاریخ اور چند اہم کا لجوں کے ساتھ اس یو نیورسٹی سے نکلنے والی مشہور و معروف شخصیتوں کا بھی ذکر کیا ہے ۔ جس سے اس یو نیورسٹی کو شہرت حاصل ہوئی ۔ لندن میں  سر سید کی ملاقاتوہاں کے مشا ہیر ،اہل قلم اور عمائدین سلطنت سے ہو ئی جن میں  وزراو امرا بھی شامل تھے۔وہاں کی علمی مجالس میں  بھی شریک ہوے۔اور یہ بھی دیکھا کہ وہاں کے لوگ کس جوش و خروش سے علمی مجالس میں  شریک ہو تے ہیں  ۔ لندن میں  قیام کے دوران ملنے والوں میں  گور نر جنر لارڈ لا رنس کا نام سر فہرست تھا۔ان سے اکثر ملا قات کرتے اورایک دوسرے کے یہاں   دعو ت پر مدعو ہو تے تھے ۔لا رڈ لا رنس کے ذر یعے احمد خان شا ہی خا ند ا ن کے متعد د افراد سے ملے۔انہوں نے ہی ملکہ وکٹو ریہ سے متعا رف کرایا۔لارڈ لا رنس کی تحر یک پر ہی احمد خان کو ۶ اگست ۱۸۶۹ کو سی ۔ایس آیٔ کا تمغہ ملااور ایتھینیم کلب کے دو بار آنر یر ی ممبر متعین ہوے۔

     احمد خان سفر لندن کی روداد آسا ن ،قا بل فہم زبان میں  لکھی ہے۔ان کی طرز تحر یر پر ان کے مقصد نے بڑا اثر ڈالا ہے ۔ادب کے متعلق احمد خا ن کا نظر یہ افادی تھا ۔ان کی تحر یر وں میں  جوش اور جز بہ کی کار فر ما ی ہر جگہ نما یاں   ہے اور یہ خو ا ہش بھی عیاں  ہے کہ لو گ ان کے خیا لا ت سے متا ثر ہوں   ۔جس کی وجہ سے بہت سے مو قعوں   پر ایک واعظ اور خطیب بن جا تے ہیں ۔

٭٭٭

Mob: 9718225755،

E-mail: tanveer.tsy@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.