راجندر یادو کی منتخب کہانیاں۔
نام کتاب: راجندر یادو کی منتخب کہانیاں
مرتب: راجندر یادو
مترجم: ڈاکٹر ارشاد نیازی
صفحات: 304
قیمت: 250
ناشر: نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا
…………………………………………………………………………………………………………
ڈاکٹر ارشاد نیازی ادبی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ایک ناقد کی حیثیت سے انہوں نے ادبی دنیا میں اپنا مقام بنالیا ہے۔ تفہیم شبلی، موازنۂ انیس ودبیر، مطالعہ، محاسبہ، تقابل اور توضیحات کے ذریعہ انہیں ادبی دنیا میں ایک پہچان ملی ہے۔ لفظوں کے صحیح اور برمحل استعمال کا فن انہیں جس طرح آتا ہے اردو کے کم ہی ناقدین ان کے ہم پلہ ہیں۔ غالباً لفظوں کی پرکھ اور ان کے برمحل استعمال کے فن نے انہیں ترجمہ کی دنیا میں قدم رکھنے پر آمادہ کیا۔ اس لیے کہ ترجمہ نگاری ایک ایسا فن ہے جس میں لفظوں کی پرکھ اور سوجھ بوجھ سب سے اہم ہے۔ ترجمہ کو عام طور پر ایک آسان فن تصور کیا جاتا ہے۔ واقعی یہ ایک آسان فن ہے لیکن ترجمہ کے فن کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس وادی میں قدم رکھنے والوں کے لیے یہ واقعی ایک مشکل کام ہے۔ ترجمہ صرف ایک زبان سے دوسری زبان میں تحریر کو منتقل کرنے کا نام نہیں ہے۔ ترجمہ کی خوبی یہ ہے کہ اصل کتاب کی روح ترجمہ کے عمل سے گزر کر قاری کے سامنے آجائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک بہترین مترجم کی جملہ خصوصیات ڈاکٹر ارشاد نیازی کے یہاں پائی جاتی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں دو کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ سنسکرت کی مشہور زمانہ کتاب ’ہتوپدیش‘ اور راجندر یادو کی منتخب کہانیاں‘ ۔ یہاں پرصرف آخرالذکر کی بات کی جائے گی ۔
یہ کتاب ہندی ماہنامہ ہنس کے مدیر راجندر یادو کی کہانیوں کے انتخاب کا ترجمہ ہے ۔ یہ انتخاب خود راجندر یادو نے کیا تھا۔ اس وجہ سے اس کی اہمیت دوبالا ہوجاتی ہے۔ اس انتخاب میں کل اٹھارہ کہانیاں ہیں۔ اس میں سے بعض بہت طویل اور بعض ایک صفحہ سے بھی کم مثلاً ’ماں کی کمر‘ جو کہ چند سطور پر مشتمل ہے۔
راجندر یادو کی ان کہانیوں پر پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمیں صرف کہانی سنانا نہیں چاہتے ہیں بلکہ وہ ہمیں اس ماحول کا حصہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ کہانی اور اس کے کرداروں سے جڑی ہر اس چیز کو قاری کو بتانا چاہتے ہیں جو ان کی نظر میں کہانی کو حقیقت سے قریب کردے۔ اس کے لیے وہ جزئیات کا سہارا لے لیتے ہیں۔ یہ جزئیات نگاری بعض دفعہ قاری اور کہانی کے درمیان ایک برزخ کی شکل میں بھی ظاہر ہوتے ہیں جسے قاری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ترجمہ کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اصل لگنے لگے۔ ارشاد نیازی کے ترجمہ کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اصل کتاب کو پڑھ رہے ہیں۔ کہیں بھی ترجمہ کا گمان نہیں ہوتا ہے۔ جملوں کی روانی میں کہیں بھی فرق نہیں ہے۔
چند نمونے ملاحظہ ہوں:
’اچانک چونک کر اس نے میرا کو دیکھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس نے کچھ کہا ہے، ’’کچھ کہہ رہی تھیں کیا؟
’میں؟ …… نہیں تو۔‘‘ پھر وہی سکوت اور اداسی کی چادر۔
محسوس ہوا ، جسیے کوئی مردہ لمحہ ہے جس کا ایک سرا میرا پکڑے ہے اور دوسرا وہ ۔ اور اسے خاموشی سے دونوں رات کے سناٹے میں کہیں دفنانے جارہے ہیں…… ڈرتے ہیں کہ کسی کی نگاہ نہ پڑجائے۔ کوئی جان نہ لے کہ وہ قاتل ہیں…… ۔ کہیں کسی جھاڑی کے پیچھے اس لاش کو پھینک دیں گے اور خوشبو دار رومالوں سے کس کر خون پوچھتے ہوئے چلے جائیں گے بھیڑ میں کھو جائیں گے…… ۔ جیسے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے میں ڈر لگتا ہے۔ …… کہیں الزام تراشی کرتی آنکھیں اقبال جرم کرنے کو مجبور نہ کردیں……۔‘‘ (چھوٹے چھوٹے تاج محل)
’’اور کنجوسی کی حد تو آپ نے دیکھ ہی لی ہوگی! بڈھا ہوگیا ہے۔ ’سانس کا مرض ہورہا ہے‘۔ سارا بدن کانپتا ہے لیکن ایک پیسے کا بھی فائدہ دیکھے گا تو دس میل دھوپ میں پیدل ہانپتا ہوا چلا جائیگا۔ کیا مجال جو سواری کرلے۔ گرمی آئی تو سارا جسم برہنہ کمر میں دھوتی۔ آدھا پہنے، آدھا لپیٹے۔ جاڑے میں یہی لباس، بس اسی میں پچلے دس سال سے تو میں دیکھ رہا ہوں۔ کبھی کسی مکان کی مرمت، سفیدی صفائی نہ کرانا اور ہمیشہ دھیان دینا کہ کون کتنی بجلی خرچ کررہا ہے۔ کہاں بیکار پنکھا اور نل چل رہا ہے۔ لڑکا ہے تو اسے مفت چنگی کے اسکول میں ڈال دیا ہے۔ لڑکی گھر میں بٹھا رکھی ہے۔‘‘
(جہاں لکشمی قید ہے)
مذکورہ بالا دونوں اقتباس میں نے دو الگ کہانیوں سے لیا ہے۔ ان نمونوں کو دیکھ کر ارشاد نیازی کے ترجمہ کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ کہیں بھی ایسا نہیں محسوس ہوتا ہے کہ ترجمہ ہے۔ اگر راجندر یاد ان کہانیوں کو اردو میں لکھتے تو شایدانہیں الفاظ میں لکھتے۔
راجندر یادو کی کہانیوں کا یہ انتخاب ارد و میں شائع کرکے نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا نے اردو برادری پر احسان کیا ہے۔ اس کی روشنی میں اردو ناقد اور افسانہ نگار اپنی کہانیوں کے معیار کو جانچ پرکھ سکتے ہیں۔
Leave a Reply
1 Comment on "راجندر یادو کی منتخب کہانیاں۔"
[…] راجندر یادو کی منتخب کہانیاں۔← […]