پدماوت کے لسانی انسلاکات
ڈاکٹر رشید اشرف خان
شعبہ اردو، ممبئی یونی ورسٹی، ممبئی
ملک محمد جائسی اودھ کے مشہور قصبہ ’’جائس‘‘ کے رہنے والے تھے، ان کا شمار اودھی (بھاشا)کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے، آج صدیاں بیت جانے کے بعد بھی ان کے اہل وطن خصوصاًاور شمالی ہند کے شعراء و ادباء اور عوام الناس نہایت عزت و احترام کے ساتھ ان کا نام لیتے ہیں، ملک محمد جائسی کو عالمگیر شہرت ان کی شہرہ آفاق تصنیف ’’ پدماوت‘‘ کی بناء پر حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ ان کی ایک اور تصنیف ’’ اکھڑاوت‘‘ ہے جس کو بھی علمی وادبی حلقے میں خاطر خواہ پذیرائی حاصل ہوئی، ان دو کتابوں کے علاوہ بعض دوسری تخلیقات کا بھی پتہ چلتا ہے مگر بدقسمتی سے وہ تصنیفات زیورطبع سے آراستہ ہوکر منصہ شہود پرنہیں آسکیں۔
ملک محمد جائسی کی پیدائش قصبہ جائس میں ظہیرالدین بابرشاہ کے زمانے میں ۹۰۰ھ میں ہوئی یہ وہ زمانہ تھا جب ہندو اور مسلم باہم شیروشکر ہوکر زندگی گذارتے تھے، ان کے والد کا نام شیخ عزیز تھا، ماں کا نام معلوم نہیں ہے مگریہ بات مسلم ہے کہ ان کی نانہال مانکپور میں تھی اور شیخ اللہ داد ان کے نانا تھے جائسی کے آباء واجداد عربی النسل تھے اور حسب و نسب کے اعتبار سے معاشرے میں ایک مخصوص مقام و مرتبہ کے حامل تھے، ذیل کی تحریروںمیں جائسی کے صرف ان اشعار سے بحث کی جائے گی جن کے اندر عربی اورفارسی کے الفاظ اپنے اصلی یا نقلی شکل و صورت میں پائے جاتے ہیں۔
پدماوت جائسی کا مشہور ترین ادبی کارنامہ ہے جس کی بلندی تک عظیم کوی تلسی داس جی کا مہا کاویہ ’’رام چرت مانس ‘‘ ہی پہنچ سکتا ہے۔ پدماوت میں سنگھل دیپ کی راج کماری ’’پدماوتی‘‘ اور چتو گڑھ کے راجہ ’’رتن سین‘‘ کی عشقیہ کہانی کا پُر لطف تذکرہ ہے۔ پدماوت کی تخلیق کا مقصد محبت، وسیع القلبی اور تیاگ جیسے جذبات کی طرف انسانوں کو رغبت دلانا ہے۔جائسی کا یہ روحانی فسانہ آپسی میل جول اور بھائی چارگی کے لحاظ سے بے حد دلچسپ اور مفید ہے۔وہ انسانوں کی ایک ایسی دنیا کا تصورپیش کرتے ہیں جہاں بس پیار ہی پیار ہو۔جائسی نے پدمات کی تخلیق ٹھیٹھ اودھی میں کی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ جائسی کی اودھی اور تلسی داس کی اودھی دونوں میں کافی فرق ہے ۔ جائسی کے یہاں ٹھیٹھ اودھی ہے جب کہ تلسی داس کے یہاں بناوٹی سنسکرت کا ملاپ ہے۔پدماوت میںجائسی کی اودھی بھاشا کا یہ نمونہ ملاحظہ کیجیے:
ہُوت پیان جائی دن کیرا
مِرگارن منھ بھیؤ سویرا
کُس ساتھری بَھے سَور سُپیتی
کروٹ آئی بنی بُھوئیں سیتی
پدماوت میں صوفی ادب اور مثنوی کی روایت کے مطابق سبھی خوبیاں تو ہیں ہی ساتھ ہی ساتھ ان کی شاعری میں تاثر و تجربہ اور قوت اظہار سب کچھ شاعرانہ ہے۔علاوہ ازیں پدمات فلسفیانہ عناصر اور تمثیلی شاعری کے محاسن سے مملو ہے ۔کچھ ماہرین ’’پدماوت‘‘ کو داستان کہہ کر اس میں صرف تاریخیت کے پہلو تلاش کرتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ’’پدماوت‘‘ انسانی زندگی کی اونچائیوں اور شاعری کی گہرائیوں سے بھر پور ہے۔جائسی ایک وسیع النظر اور انسانیت نواز شاعر تھے۔وہ صوفی مذہب کے ساتھ ساتھ ہندو دھرم اور سنسکرت سے کافی حد تک واقف تھے جس کاذکر انھوں نے بیشتر موقعوں پر کیا ہے۔ ہندی ادب کی تاریخ میں اودھی بھاشا کے سلسلے میں ’’رام چرت مانس‘‘ کے فوراََ بعد دوسرے نمبر پر ’’پدماوت‘‘ ہی ہے۔
پدماوت کے علاوہ ملک محمد جائسی کی دوسری تخلیقات میںاکھراوٹ، آخری کلام، چتر ریکھا، کہرانامہ، مسلانامہ، کنہاوت ۔ ان میں کنہاوت خاص طور سے قابل ذکر ہے ۲۵۶ صفحات پر مشتمل اس کتاب کو ڈاکٹر شیو سہائے پاٹھک نے ایک شاہکار کے خطاب سے نوازا ہے۔ ڈاکٹر شیو سہائے کی اس تحقیق کو فرانسیسی مستشرق گارساں دتاسی، ڈاکٹر ریٹر جارج اور ڈاکٹر ہجاری پرساد دویودی وغیرہ نے کا فی سراہاہے۔
جائسی نے ’’کنہاوت‘‘ میں صوفی شاعروں کی روایت کے مطابق مناجات خداوندی کے علاوہ کرشن کتھا کا بھی شاعرانہ بیان کیاہے۔اس میں شاہ وقت ہمایوں بادشاہ کی مدح کے بعد راجا کنس کے متھرا نگر کی کہانیاں بھی بیان کی ہیں۔ جائسی نے درجنوں واقعات کا بہت دلچسپ تذکرہ کیا ہے ۔ کنہاوت کے مطالعے سے جائسی کی شاعرانہ قوت کے ساتھ ساتھ ان کی علمیت کی بھی جھلک ملتی ہے ۔جائسی نے اپنی تخلیقات میں اپنی ویدک تعلیمات کا بار بار اعادہ کیا ہے۔ کرشن کتھا کے سلسلے میں ان کی عقیدت حسب ذیل سطروں میں دیکھے ہی بنتی ہے:
ایسی پریم کہانی ، دوسری جگ میں مہی ناہی
ترکی، عربی ، فارسی سب دیکھے اُوں جگ ماہیں
مختصر طور پر کنہاوت مثنوی طرز کا اودھی میں لکھی ہوئی ایک کامیاب اور دلگداز نظم ہے۔جائسی ایک بلند پایہ صوفی فقیر شیخ محی الدین کے خاص شاگرد تھے ۔جائسی کو بیک وقت کئی کمالات حاصل تھے ۔اسی لیے امیٹھی کے راجہ کے نزدیک ان کی بڑی قدر منزلت تھی ۔جائسی ایک ایسے یوگی تھے جو حلیہ بدلنا جانتے تھے۔جائسی کو پہلے سے علم تھا کہ ان کی موت ایک حادثے کا نتیجہ ہوگی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جائسی اکثر کہا کرتے تھے کہ امیٹھی کے راجہ کے محافظ خاص کی گولی سے ان کی موت ہوگی۔جب یہ بات راجہ کو معلوم ہوئی تو ان کے محافظ خاص سے بندوق لے لی گئی اور کبھی بندوق نہ دینے کی منادی کردی گئی۔ ایک دن محافظ خاص کو دیر رات سے اپنے گھر جانا پڑا تو اس نے اپنی حفاظت کے لیے بندوق مانگ لی۔جب وہ جائسی کے آشرم کے پاس گزر رہاتھا تب اسے آشرم میں شیر گرج سنائی دی ۔اس وقت جائسی شیر کی شکل میں تھے۔ راجہ کے محافظ خاص نے شیرپر گولی چلادی جس سے جائسی کی موت واقع ہوگئی۔
جائسی کی اس اچانک موت کی صحیح تصدیق وقت کی تاریکیوں میں گم ہے۔اس پر مشکل سے یقین آتا ہے کیوں کہ اس طرح سے ان کا زمانۂ حیات پچاس سال سے زیا دہ نہیں ہوتا۔ اتنی کم عمر میں اتنا زیادہ لکھنا ممکن نہیں ہے ، پھر بھی یہ ماننا پڑے گا کہ غیر معمولی ذہانت و قابلیت کے سامنے عمر سپر انداختہ ہوجاتی ہے۔
ملک محمد جائسی نے ’’ پدماوت‘‘ میں اپنے احباب کے بارے میں مندرجہ ذیل چوپائی لکھی ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کے چاردوست واحباب تھے،
چار میت کوئی محمد پائے
جور مقامی سر پہونچائے
یعنی شاعر ملک محمد نے چاردوست پائے جنہوں نے دوستی کو انتہاتک پہونچا دیا، چوپائی کے اس بندمیں ’’ محمد‘‘ خالص عربی لفظ ہے جو کہ بذات خود شاعر کے نام کا ایک اہم جزو اور حصہ ہے۔
یوسف ملک پنڈت بہوگیانی
پہلے بھیدبات وے جانی
جائسی فرماتے ہیں کہ میرے ایک دوست کا نام ’’ یوسف ملک‘‘ ہے جو کہ ایک زبردست عالم کامل اور صاحب فیض بزرگ ہیں، جو سب سے پہلے رازدل کو جان جاتے ہیں، چوپائی کے اس بند کے اندر ’’ یوسف اور ملک‘‘ دونوں ہی عربی کے الفاظ ہیں۔
پونہہ سلار خادم مَتِ ماہاں
کھانڈے دان اُبھے نِتِ باہاں
چوپائی کے اس بند کے اندر جائسی یہ فرماتے ہیں کہ ان کے بعد میرے ایک دوست کانام ’’ سالار خادم‘‘ ہے جو صاحب فراست ہیں، اور جن کا ہاتھ شمشیرزنی اورجودوسخا وت میں ہمیشہ بلند رہتا ہے، چوپائی کے اس تیسرے بند کے اندر عربی اورفارسی کے الفاظ کی بہت خوبصورت سمائی دیکھنے کو ملتی ہے چنانچہ ’’ سالار‘‘ اور ’’دان‘‘ خالص فارسی کے الفاظ ہیں، جبکہ’’خادم‘‘ اور باہاںخالص عربی کے الفاظ ہیں، بس فرق صرف اتنا ہے کہ ’’ لفظ ’’ خادم‘‘ کے اندر آج بھی کسی قسم کی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی اور یہ لفظ اپنے اصلی معنی میں آج بھی مستعمل اور رائج ہے، جبکہ ’’ باہاں‘‘ کی اصل ’’ بانہہ‘‘ ہے جو کہ خالص عربی کا لفظ ہے جس کے معنی استطاعت اورگنجائش کے اور استعارتاً دونوںہاتھوںکی وسعت وکشادگی و گنجائش و پھیلاؤ کے معنی میں بولاجانے لگا جیسے عربی میں کہاجاتا ہے’’ لیس فی باعہ‘‘ یعنی اس کے بس میں نہیں ہے، پھر اس سے مراد ہاتھ لیاجانے لگا اور عجمیت و کثرت استعمال کی بناء پر بگڑ کر ’’ بانہہ‘‘ ہوگیا
میاں سلونے سنگھ بر یارو
پیر کھیت رن کھڑگ جوجھارو
جائسی فرماتے ہیں کہ میرے تیسرے دوست ’’ میاں سلونے‘‘ ہیں جو کہ شیر کی طرح بہادر اور شمشیر زن وتلوار باز ہیں، چوپائی کے اس بند میں صرف ایک لفظ ’’ میاں‘‘ ہے جو کہ عرف عام میں ہندو لوگ مسلمانوں کے لئے احتراماً استعمال کرتے ہیں ملک محمدجائسی کے زمانے میں مذہبیت جائس اور اس کے اطراف واکناف کے اندر غالب اور رائج تھی جائسی چونکہ بذات خود مذہب اسلام کے سچے پیروکار تھے اسی لئے انہوں نے ’’ اکھڑاوت‘‘ کے اندر مذہب اسلام کی صداقت کے بارے میں مندرجہ ذیل شعر کہا:
سانچی راہ شریعت، جہہ بسواس نہ ہوئے
پانورکھ تیتھ سیڑھی، تیھرمہ پہنچے ہوئے
یعنی شریعت اسلام کا راستہ صداقت پر مبنی ہے، جس کواس بات پریقین نہ ہووہ اس راہ میں قدم رکھ کر دیکھے کہ وہ کس طرح بلاجھجھک منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے، لہٰذا اس شعر کے اندر ’’ راہ‘‘ اور ’’شریعت‘‘ دوایسے الفاظ پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک لفظ ’’راہ‘‘ فارسی الاصل ہے جس کے معنی راستہ اور طریقہ کے ہیں، جبکہ دوسرا لفظ ’’ طریقت‘‘ خالصاً عربی کا لفظ ہے اور جس کے معنی بھی راستہ اور طریقہ کے ہیں، مگر یہاں پر اس لفظ سے مراد ’’ مذہب اسلام ہے‘‘۔
چونکہ ملک محمدجائسی راسخ العقیدہ مسلمان تھے اسی لئے انہوں نے اپنی دونوں ہی معرکۃ الآراء تخلیقات کے اندر جابجا صراحتاً واشارتاً دینی اور مذہبی احکام ومسائل اور احکام و واقعات کی جانب نہایت خوبصورتی کے ساتھ اشارہ کیا ہے، چنانچہ مسلمانوں کاعقیدہ ہے کہ جنت کی راہ میں ایک نہایت پرخطر اوردشوارگذار راستہ ’’ پل صراط‘‘ کا ہوگا، جولوگ نیک اور صالح ہونگے وہ آسانی کے ساتھ اس پر سے گذر جائیں گے اور گنہگار لوگ اس پل کو عبور کرنے سے قاصر رہیں گے۔
ناسک پل صراط پتھ چلا
تہہ کربھنو ہیں دوئی پلا
یعنی ناسک اورنیک لوگ’’ پل صراط‘‘ کے اوپر آسانی سے گذر جائیں گے، اس بند کے اندر ’’ ناسک اور ’’ صراط‘‘ خالصتاً عربی کے الفاظ ہیں، جن کے معنی بالترتیب، نیک، صالح اورطریقہ اور راستہ کے ہیں، اسی طرح مسلمانوں کاایک عقیدہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے جنت سے نکالے جانے کاسبب حکم خداوندی کی خلاف ورزی اورنافرمانی ہے، اسی تناظر میں شیطان کے وسوسوں کاتفصیلی ذکر بھی موجود ہے۔ چنانچہ جائسی نے بھی پدماوت میں شہزادی پدمنی کی رخصتی کے وقت اس کی سہیلیوں کی زبانی اس خیال کو مندرجہ ذیل شعری پیرایہ میں بیان کیا ہے:
آدم انت جوپتا ہمارا
اونہ یہ دن ہیئے بچارا
یعنی ہمارے سب سے پہلے والد حضرت آدم نے بھی اس دن کی فکر اورپرواہ نہ کی کہ ایک دانہ گیہوں کے کھالینے سے ہمارے اوپر یہ الزام عائد ہوجائے گا، اس شعر کے اندر ’’ آدم‘‘عربی کا لفظ ہے جس کے معنی اظہرمن الشمس یعنی جس کے معنی کے بتانے کی کوئی ضرورات نہیں، آدم کے معنی ’’گندم گوں‘‘ یعنی گیہوں کے رنگ جیسا، اوراسی سے لفظ آدمی بنا ہے جس کے اندر یائے نسبتی لگاکر حضرت انسان کو حضرت آدم علیہ السلام کی جانب منسوب کیاجانے لگا۔
نیر ہیں دور، پھول جس کانٹا
دور ہیں نیر سوجس گڑچانٹا
جائسی نے اپنے مذکورہ بالا شعر کے ذریعہ یہ بتلانے کی کوشش کی ہے کہ آدمی دور رہ کر بھی آپس میں نزدیک رہتے ہیں، اسی طرح ایک انسان نزدیک رہ کر دور ہوجاتا ہے جس طرح کے گڑ اور چیونٹی وغیرہ، اس شعر کے صرف ایک لفظ کی جانب یہاں پر اشارہ مقصود ہے اور وہ لفظ ’’دور‘‘ ہے جو کہ خالصتاً فارسی زبان کالفظ ہے مگرہندی اور اردو زبان وغیرہ میں کثرت استعمال کی بناء پر یکساں رائج اور مستعمل ہے۔
نااُوہ پُت نہ پتا ناماتا
نااوہ کٹنب نہ کوئی سنگ ناتا
جائسی نے کئی مقام پر قرآنی آیات اوراسلامی معتقدات کاترجمہ نہایت خوبصورتی کے ساتھ اپنے اشعار میں کردیا ہے، چنانچہ انہوں نے قرآنی آیت کریمہ ’’ لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد‘‘ کے مفہوم کو مذکورہ بالا شعر میں نہایت ایمانداری وفنکاری کے ساتھ پیش کردیا ہے جس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ کی نہ تو کوئی اولاد ہے، نہ ہی ان کی کوئی ماں ہے اور نہ ہی ان کے والد ہیں، نہ ہی ان کاکوئی عزیز واقارب ہے اورنہ ہی ان کی کسی کے ساتھ قرابت و رشتہ داری ہے، مذکورہ بالاشعر کا مفہوم چہ جائیکہ بالکل عربی پس منظر لئے ہوئے ہے مگر اس کے اندر صرف ایک لفظ ایسا ہے جس کی اصل عربی ہے، اور وہ لفظ ’’ ناتا‘‘ ہے جو کہ اصلاً عربی لفظ ’’ ناطہ‘‘ کی بگڑی ہوئی ہندی شکل ہے۔
عقل تھل نگ نہ ہو، ہیں جیہہ جوتی
جل جل سیپ نہ اپنھیں موتی
بن بن برکش نہ چندن ہوئی
تن تن ورہ نہ اپنے سوئی
مذکورہ بالااشعار کا مطلب یہ ہے کہ ہر زمین کے اندر چمکدار جواہرپارے نہیں نکلتے، اور نہ ہی تمام پانی کے اندر پائے جانے والے سیپ سے موتی نکلتے ہیں، اسی طرح ہرجنگل کے اندر چندن یعنی صندل کے پیڑ نہیں اگتے اور نہ ہی ہرایک آدمی کو کسی کی جدائی ستاتی اور پریشانی کرتی ہے۔ نیز ان اشعار کے اندر پائے جانے والے الفاظ ’’چندن‘‘ اور ’’ ورہ‘‘ دو ایسے الفاظ ہیں جن کے بارے میں عام قاری کو ذرہ برابر بھی شائبہ نہیں ہوگا کہ یہ دونوں عربی کے الفاظ ہیں، جبکہ ’’ چندن‘‘ کی اصل ’’صندل ہے اور ’’ ورہ‘‘ کی اصل ’’ برح‘‘ ہے جس کے معنی آج بھی دور اورجدا ہونے کے ہیں جبکہ ’’ ورہ‘‘ کے معنی دوری اور جدائی ہے، عجمیت کی بناء پر ’’ ب‘‘ کو ’’و‘‘ سے بدل دیاگیا، اور ’’ ح‘‘ کو آسانی کے لئے ’’ہ‘‘ بدل دیا، ’’ ورہ‘‘ ہوگیا نیز ہندی میں آج بھی ’’ ورہ‘‘ کے معنی اس نغمہ اورگیت کے ہیں جسے کوئی عاشق اپنی معشوقہ سے جدائی کے غم میں گاتا اور گنگناتا ہے۔
یہ ودھ ڈھیل دیتھ تب تائیں
دلی تیں اردسیں آئیں
اُہاں ساہ چتورگڑھ چھاوا
اِہاں دیس لب ہوئی پراوا
مذکورہ بالا اشعار کے اندر ملک محمد جائسی نے ۱۳۰۴ء میں علاء الدین خلجی کے ذریعہ چتورگڑھ پر چڑھائی کے واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ اس لڑائی میں اس طرح ڈھیل پڑی کہ دلّی سے عرض داشتیں آنے لگیں کہ مغل جو ہمیشہ بھاگتے تھے اب انہوں نے چڑھائی کی ٹھانی ہے، چنانچہ جن کا سرہمیشہ زمین پر رہتا تھا انہوں نے اپناسر اٹھالیا ہے، نیز شاہ نے تو وہاں چتور میںاپنی چھاونی ڈالی ہے اور یہاں اپنا ملک غیروں کا ہوا جاتا ہے، ان اشعار کے اندر صرف دوالفاظ ہیں جو کہ بالکل فارسی الاصل ہیں۔ ایک لفظ ’’شاہ‘‘ ہے جس کی اصل ’’شاہ‘‘ ہے اور جس کے معنی بادشاہ کے ہیں اوردوسرالفظ ’’ارداسیں‘‘ ہے جس کی فارسی اصل ’’ عرض داشت‘‘ ہے جو کہ کثرت استعمال اورعجمیت کی بناء پر ’’ ارداس‘‘ سے بطور جمع ’’ ارداسیں‘‘‘ ہوگئیں ہیں۔
حاصل کلام جائسی کی شاعری کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ کم سے کم الفاظ کاسہارا لیکر انہوں نے زیادہ سے زیادہ اسرارورموززندگی اور وعظ و نصیحت اور پندونصائح کی باتیں کی ہیں، جس سے جہاں ایک طرف ان کی قادرالکلامی کا اندازہ ہوتا ہے وہیں دوسری جانب اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ بنیادی طور پر وہ ایک انسان دوست صوفی منش شاعر اورفنکار تھے، ان کے نزدیک اخوت محبت اورانسانی ہمدردی ہی دنیاوی کامیابی و کامرانی کی کلید ہے وہ ہندومسلم کے مابین صلح وآشتی کے علمبردار اور نقیب کی حیثیت سے جانے اورپہچانے جاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ راجااور رنگ دونوں ہی نہایت عزت وتوقیر کی نگاہ سے ان کو دیکھتے تھے۔ علاوہ ازیں ان کے کلام کی ایک سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے کلام میں عربی فارسی سنسکرت، ہندی اورکھڑی بولی وغیرہ کا خوبصورت سنگم و امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے جس کی نظیر ان کے معاصر شعراء میں کسی اور کے نزدیک نہیں ملتی، نیز یہی وہ علمی وادبی اور فنی خصوصیات ہیں جو جائسی کو تمام اودھی شعراء سے ممتاز ومنفرد گردانتی ہیں۔
مذکورہ بالاامتیازات خصوصیات کی روشنی میں یہ بات نہایت ہی اطمینان وایقان کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ بلاشبہ خدائے بزرگ وبرتر نے خطہ اودھ اوراودھی زبان وادب کو جائسی کی شکل میں ایک ایسا درنایاب عطا کیا ہے جس کی نظیر پیش کرنے سے یہ دنیا صدیاں بیت جانے کے بعد بھی قاصر اورمعذور ہے۔
Leave a Reply
Be the First to Comment!