عبدالستاردلوی کی مقدمہ نگاری
ڈاکٹر رئیسہ بیگم نازؔ
یونی ورسٹی آف حیدرآباد
کوئی بھی ادیب جب کسی تحریر کو وجود میں لاتا ہے تو وہ ادب کے تینوں شعبوں (تخلیق، تحقیق اور تنقید) میں سے کسی ایک سے متعلق ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ادب کے اس مخصوص شعبے میں نہ صرف اضافہ ہوتا ہے بلکہ ادب میں اس ادیب کی اہمیت بھی قائم ہوجاتی ہے لیکن بعض ادیب ایسے بھی ہوتے ہیں جو ادب کے ایک سے زائد شعبوں میں اپنے قلم کے جوہر دکھاتے ہیں جس کی بناپر ان کی شناخت بحیثیت محقق، بحیثیت ناقداور بحیثیت تخلیق کار کے قائم ہوتی ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی ادیب میں بیک وقت عمدہ محقق، بہترین نقاد اور کامیاب تخلیق کار کی خوبیاں یکجا ہوسکتی ہیں ؟ ہاں یہ ممکن ہے اگر اس ادیب کی شخصیت میں تحقیقی مادے کے ساتھ ساتھ محنت شاقہ کی بھی صلاحیت موجود ہوتو وہ عمدہ محقق بن سکتا ہے اس کے علاوہ اس میں وسیع مطالعہ اور بالغ نظری ہوتو وہ بہترین نقادوں کی صف میں کھڑا ہوسکتاہے ا ن خصوصیات کی موجودگی میں اگر اس کی طبیعت میں تخلیق عنصر بھی ہوتو وہ کامیاب تخلیق کار کی شکل میں اپنے آپ کو پیش کرسکتا ہے اور اردو ادب میں ہمہ جہت ادیب وقلم کاروں کی کمی نہیں ہے جنہوں نے ادب کے مختلف شعبوں کو بیک وقت میں مالا مال کیا ہے ۔ اگر ہم ماضی اور حال کے ایسے ہی ادیب و قلم کاروں کی ایک فہرست مرتب کریں جنہوں نے ادب کے ایک سے زائد یا یوں کہیے تینوں شعبوں میں غیر معمولی کارنامے انجام دیے ہیں تو اس فہرست میں ایک نمایاں نام عبدالستار دلوی کا ہوگا جنہوں نے ادب کے تحقیقی شعبے میں تدوین متن کے تحت قدیم متون کو مرتب کرکے انہیں ادب میں محفوظ کردیا ہے اسی کے ساتھ ادب کے تنقیدی شعبے میں اپنی بالغ نظری اور وسیع مطالعے کے ذریعے مختلف انواع موضوعات پر تحقیقی و تنقیدی تصانیف ومضامین سپرد قلم کیے ہیں جن کی حیثیت آج کی نئی نسل کے لیے حوالہ جاتی ہے اس کے علاوہ آپ نے ادب کے تخلیقی شعبے میں بہ حیثیت شاعر کئی عمدہ نظموں کا اضافہ بھی کیا ہے نیز آپ کے نثری و شعری تراجم میں بھی تخلیقی عنصر غالب نظر آتا ہے ۔
عبدالستار دلوی کی جملہ تصانیف میں اکثریت مرتب کردہ کتب کی ہے جو آپ کو بہ حیثیت مرتب ادب میں ایک اعلیٰ مقام عطا کرتی ہیں ، آپ کی مرتب کردہ کتب میں نمائندہ شعرأ کے انتخابِ کلام اور مجموعوں پر تفصیلی مقدمے ، قدیم متون پر مدلل مقدمے اور قدیم محققین کے تحقیقی و تنقیدی مضامین کے مجموعوں پر پر مغز مقدمے شامل ہیں ۔ آپ کے قلم سے نکلے ہوئے ان مختلف انواع مقدمات کے فنی محاسن ومعیوب پر نظر ڈالنے سے پہلے آئیے فن مقدمہ نگاری کا مختصر جائزہ لے لیں ۔
اردو ادب میں مقدمہ نگاری کی روایت بہت قدیم ہے مگر اس کو باقاعدہ صنف ادب کا درجہ حاصل نہیں ، اس کے باوجود اردو کی ہر اہم اور غیر اہم تصنیف پر خود مصنف کا یا پھر کسی دوسری اہم شخصیت کا لکھا ہوا مقدمہ یا دیباچہ ضرور ملتا ہے اردو میں اس فن کے لیے مقدمہ، دیباچہ، پیش لفظ، تمہید اور تعارف وغیرہ اصطلاحیں استعمال ہوتیں ہیں ۔ جن میں سے مصنف خود اپنے عنوان کا انتخاب کرلیتاہے اسی طرح انگریزی میں Preface, IntroductionاورPreambleوغیرہ اصطلاحیں مروج ہیں جن کو انگریزی ادیب اپنے مقدموں کی سرخیاں بناتے ہیں ۔ اگر ہم ہندی کتابوں پر لکھے گئے مقدموں کا مشاہدہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہندی ادیب بھومیکا، پرستاؤنا اور آمکھ جیسی اصطلاحوں کو اپنے لیے منتخب کرتے ہیں ۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتاہے کہ مقدمہ نگاری کی روایت نہ صرف اردو ادب میں رائج ہے بلکہ اس کا رواج دوسری زبانوں کے ادبیات میں بھی عام ہے ۔
کسی بھی کتاب کا مقدمہ اس کتاب کا آئینہ ہوتا ہے جس سے اس کا قاری مصنف کی سوچ و فکر اور غرض و غائیت سے واقف ہوسکتا ہے ۔ حبیب الرحمن خان شیروانی، مقدماتِ عبدالحق کے مقدمے میں ایک اچھے مقدمے کی تعریف اس طرح کرتے ہیں :
’’اگر مقدمہ نگار مطالب کتاب میں ترقی پیدا کرسکے اور پڑھنے والوں کے لیے مناسب موقع مزید معلومات بہم پہنچائے اس طرح کہ یہ نہ معلوم ہو کہ وہ کتابپڑھوارہا ہے تو اس کو کمال مقدمہ نگاری ماننا چاہیے ۔‘‘
حبیب الرحمن خان شیروانی کی اس تعریف کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مقدمہ نگار مقدمے میں نہ صرف کتاب کے مطالب میں اضافہ کرسکتا ہے بلکہ قاری کو مزید معلومات دے کر اس کی کتاب سے متعلق جستجو کو بھی بڑھا سکتا ہے ۔
بعض اردو ادیب تقریظ، مقدمہ، دیباچے ، پیش لفظ اور تعارف وغیرہ کو ہم معنی یا مترادف تسلیم کرتے ہیں ، جو اپنی فکروخیالات کی مناسبت سے ان میں سے کسی ایک عنوان کا انتخاب کرلیتے ہیں ۔ ڈاکٹر آمنہ صدیقی بھی ان اصطلاحوں کو مترادفات تصور کرتے ہوئے کہتی ہیں :
’’تقریظ، دیباچے ، پیش لفظ، مقدمہ یہ سب الفاظ بڑی حد تک مترادف ہیں ۔ممکن ہے ازروئے لغت ان میں بہت فرق ہو۔ لیکن ازروئے استعمال تو یہ ایک ہی سانچے ہیں جن میں پیش پا افتادہ باتوں ، مصنف کی تعریف اور کتاب کی تعریف کو ڈھال کرکسی بھی کتاب کی ضخامت بڑھائی جاسکتی ہے ۔‘‘
(افکار عبدالحق،ص۔12)
ڈاکٹر آمنہ صدیقی ان تمام اصطلاحوں کو مترادفات تصورکرتی ہیں جس کی وجہ بھی وہ پیش کرچکی ہیں اس کے برخلاف پروفیسر آل احمد سرور ان تمام اصطلاحوں میں فرق کوواضح کرتے ہوئے کہتے ہیں :
’’تبصروں ، دیباچوں ، مقدموں اور تعارفوں میں عام طور پر جو تنقید ملتی ہے اس میں تنقید کے علاحدہ علاحدہ رنگ ہیں ۔ دراصل ان میں سے ہر ایک کامیدان الگ الگ ہے ۔ دیباچہ یا تعارف کتاب صاحب کتاب کا تعارف ہوتاہے ۔ اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے ۔ اس کی قدروقیمت متعین نہیں کرتا۔ متعین کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ مقدمہ اس لیے ذرا آگے بڑھ جاتا ہے کہ وہ قدروقیمت بھی متعین کرتا ہے اور قولو فصیل بھی پیش کر دیتا ہے ۔‘‘
(تنقید کیا ہے ‘ ص ۔ 193 )
ڈاکٹر آمنہ صدیقی اور پروفیسر آل احمد سرور دونوں ادیبوں کی قیمتی آرا کو دیکھنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ یہ تمام اصطلاحیں مترادفات نہیں ہیں بلکہ ان میں نمایاں فرق ہے کیوں کہ ان اصطلاحوں کو مترادفات بتاتے ہوئے ڈاکٹر آمنہ صدیقی نے جو اظہار خیال کیا ہے وہ پروفیسر آل احمد سرور کی وضاحت کے سامنے کمزور محسوس ہوتاہے ۔
کوئی بھی مصنف یا مرتب خود مقدمہ لکھتا ہے یا پھر کسی علمی وادبی شخصیت سے لکھواتا ہے تو ان میں اختصار اور بالخصوص رواداری سے کام لیاجاتا ہے جس کی وجہ سے یہ مقدمے تعارفی اور رسمی قسم کے ہوجاتے ہیں ان میں تحقیق و تنقید کا فقدان نظر آتا ہے اور اس نوعیت کے مقدمے اپنا تاثر بھی قائم نہیں کرپاتے اس کے برخلاف وہ مقدمے جو طریق تحقیق اور فن تنقید کے اصولوں کے تحت لکھے جاتے ہیں ان میں مقدمہ نگار کی محنت وریاضت خلوص وایمانداری کے ساتھ ساتھ تفصیلی وضاحت بھی شاملِ حال رہتی ہے تو ایسے مقدمات تعارفی سطح سے بالا ترہوکر تحقیقی وتنقید کی سطح تک جا پہنچتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ان مقدمات کو ادب میں اعلیٰ تنقیدی نمونوں کی حیثیت سے بھی تسلیم کرلیاجاتا ہے یا پھر وہ اصل کتاب پر اضافی حیثیت رکھتے ہیں نیز عربی زبان سے مقدمہ تاریخ ابن خلدون اور اردو زبان سے مقدمہ شعر وشاعری کو مثالوں کے تحت پیش کیاجاسکتاہے ۔
انتخاب کلام مصحفیؔ:
’’انتخابِ کلام مصحفی‘‘ عبدالستار دلوی کی نہ صرف پہلی ادبی کاوش ہے بلکہ یہ آپ کی پہلی مرتبہ تصنیف بھی ہے ۔ جس نے آپ کو اردو دنیا سے متعارف کروایا۔ یہ تصنیف مئی 1960ء میں جدید کتاب گھر دہلی سے شائع ہوئی جس کی ضخامت معہ آپ کے مبسوط مقدمے کے 86صفحات ہے اور اس دور میں اس کی قیمت ایک روپیہ پچیس نئے پیسے مقرر کی گئی تھی۔
عبدالستار دلوی نے جب انتخاب کلام مصحفیؔ کو ترتیب دیا تب وہ تقریباً تیئس(23)سال کی عمر میں ایم اے اردو کے طالب علم تھے لیکن اس کم وبیش پانچ صفحے کے مختصر سے مقدمے میں انہوں نے مصحفیؔ کی عظمت، اُن کی شاعری کی افادیت اور ان کی انفرادیت کی پہچان کا خوب جائزہ لیا ہے ۔انتخاب کلام مصحفیؔ کے پر مغز مقدمے کے بعد انتخاب کلام کو دیکھنے سے ان کے حسنِ نظر اور شاعرانہ ذوق کا پتہ چلتا ہے یہ ان کی پہلی کاوش وہ بھی طالب علمی کے زمانے میں قابل داد ہے ۔
’’انتخابِ کلام چکبستؔ‘‘:
’’انتخابِ کلام چکبستؔ‘‘ چکبست کے دیوان ’’صبح وطن‘‘ کا ایک طویل سا انتخاب ہے جس کو عبدالستار دلوی نے ترتیب دے کر اگست 1960ء میں عارف پبلشنگ ہاؤس دہلی سے شائع کیا ہے جس کی ضخامت 160صفحات اور قیمت ڈھائی روپے ہے ۔
انتخاب کلام چکبستؔ کے پر مغز مقدمے اور انتخاب کلام کے بغور مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے دوران طالب علمی میں چکبستؔ کے کلام کا مطالعہ، کمیابی کے باوجود کس قدر گہرائی سے کیا ہے کیوں کہ وہ مقدمے میں پہلے چکبستؔ کے کلام پر بے باکانہ تنقیدی رائے دیتے ہیں اور آگے چل کر وضاحت بھی پیش کرتے ہیں جو ایک طالب علم کے لیے اور وہ بھی کم و بیش دو مہینے کی قلیل مدت میں پیش کرنا آسان نہیں تھا،دراصل وہ اس انتخاب سے دو مہینے پہلے یعنی مئی 1960ء میں ’’انتخاب کلامِ مصحفی‘‘ کو اردو داں طبقے میں متعارف کرواچکے تھیاور آپ کے دونوں انتخابات کو اس دور کے ادبی حلقوں میں خوب سراہا گیا۔
من سمجھاون:
’’من سمجھاون‘‘صوفی بزرگ و شاعر شاہ ترأب چشتی کی دکنی نظم ہے جو انہوں نے مراٹھی کوی رام داس کی مناچے شلوک سے متاثر ہوکر کہی ہے جس کو عبدالستار دلوی نے اپنے طویل و مبسوط مقدمے کے ساتھ 1965ء میں اردو مرکز بمبئی سے شائع کیا ہے اور اس کی ضخامت نوے (90)صفحات ہیں ۔
’’من سمجھاون کی ابتدأ پروفیسر سید نجیب اشرف ندوی (ڈائرکٹر انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بمبئی)کے پیش لفظ سے ہوتی ہے جو آپ کے لیے پیر مغاں کی حیثیت رکھتے ہیں چوں کہ آپ نے ایک طویل عرصہ پروفیسر ندوی کی شاگردی میں گزارا ہے اور اس طویل عرصے میں انہوں نے نہ صرف آپ کی حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ ہمیشہ تحقیقی میدان میں پیش رفت کی تلقین کرتے رہے جس کا نتیجہ من سمجھاون کی شکل میں ظاہر ہوا۔
عبدالستار دلوی کے طویل و پر مغز مقدمے کے بغور مطالعہ کے بعد شاہ تراب کی من سمجھاون کو پڑھنے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے کیوں کہ فاضل مقدمہ نگار نے اپنے سیر حاصل مقدمے میں اس قدیم دکنی نظم سے متعلقہ تمام پہلوؤں جیسے نظم کے شاعر کے حالاتِ زندگی، تصانیف، نظم کی اہمیت، اس کے موضوع اور بحر لسانی خصوصیات اور املائی خصوصیات کے ساتھ ساتھ مراٹھی میں اس نظم کے شاعر رام داس اور ان کی تعلیمات و نظم مناچے شلوک تک سب کا احاطہ بڑی خوبی کے ساتھ کیا ہے ۔
اردو میں لسانیاتی تحقیق :
عبدالستار دلوی نے انتخاب کلام مصحفی انتخاب کلام چکبست اور من سمجھاون کے بعداردو میں لسانیاتی تحقیق کوانگریزی کے جدید اصولوں کے ذریعہ1971 میں مرتب کیا ہے یہ کتاب کوکل اینڈ کمپنی اورینٹل بک سیلرس اینڈ پبلیشرز بمبئی سے شائع ہوئی ہے اس کی ضخامت 436 صفحات ہیں اورانتساب کتاب مشہور لکھنئوی شاعر انشاء اللہ خان انشاءؔ کے نام کیا ہے کیوں کہ ان کی ’’دریائے لطافت‘‘ اردو میں جدید لسانیاتی شعور کا نقطہ آغاز ہے اور اب تقریباً چوالیس سال بعد اس کتاب کی طلب کے زیر اثر اس کا دوسرا ایڈیشن سال 2015ء میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، نئی دہلی سے شائع ہوا ہے جس کی قیمت 193/-روپے ہے
عبدالستار دلوی کا مبسوط مقدمہ مع تجاویز اور اس کے بعد جملہ مضامین کے ساتھ ساتھ ان کی درجہ بندی سے ظاہر ہوتاہے کہ آج سے تقریباً چالیس پینتالیس سال پہلے آپ کو نہ صرف لسانیات سے گہری واقفیت تھی بلکہ اس بات کا افسوس بھی تھا کہ ہماری اردو زبان میں لسانیاتی تحقیق کی رفتار کس قدر سست اور ماند ہے جس کو تیز کرنے کے لیے آپ نے تجاویز بھی پیش کیں ہیں اور جہاں تک انتخاب مضامین اور ان کی درجہ بندی کا تعلق ہے وہ بتاتاہے کہ آپ نے ان ہی مضامین کا انتخاب کیا ہے جو حوالہ جاتی ہیں اور ان کی درجہ بندی بھی لسانی اعتبار سے کی گئی ہے علاوہ ازیں انہوں نے ہر درجے کی ابتدأ میں ابتدائیہ کے عنوان سے جو مضامین لکھے ہیں وہ نہایت ہی معلوماتی ہیں اور ان کو ان مضامین کا پس منظر بھی کہاجاسکتاہے ۔مختصراً کہاجاسکتا ہے کہ آپ کے مرتب کردہ اس مجموعے سے لسانیاتی تحقیق میں تو کوئی اضافہ نہیں ہوا لیکن علم لسانیات یا لسانی تحقیق کرنے والے اساتذہ اور طلبہ کے لیے یہ مجموعہ کسی نعمت سے کم نہیں ۔
رانی کیتکی کی کہانی:
عبدالستار دلوی نے انشاء اللہ خان انشاءؔ کی رانی کیتکی کی کہانی کو ہندی (دیوناگری )اور اردو رسم الخط میں مرتب کرکے اگسٹ 1974ء میں مہاتما گاندھی میموریل ریسرچ سنٹر سے شائع کیا ہے جس کی ضخامت 218صفحات اور قیمت 15روپے ہیں ۔
’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ پر لکھے گئے عبدالستاردلوی کے طویل و مبسوط مقدمے اور متنِ داستان کے مطالعے کے بعد یہ کہاجاسکتا ہے کہ عبدالستاردلوی نے مقدمے کی ابتداہی سے نثری تحریک، نثری تصانیف وتراجم کا احاطہ کرتے کرتے انشاء کی بھی صرف نثری تصانیف پر تنقیدی نظر ڈالی ہے جب کہ انشاء بنیادی طور پر شاعر ہیں تو ان کے تعارف میں ان کی شاعری یا شعری تصانیف کا ذکر کیے بنا آگے بڑھ جانا درست معلوم نہیں ہوتا لیکن یہاں پر اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ جہاں را نی کیتکی کی کہانی کے تقریباً تمام مرتبین اور مضمون نگاروں نے انشاء کو اپنے بدیسی زبان استعمال نہ کرنے کے مقصد میں کامیاب بتایا ہے وہیں عبدالستار دلوی نے ایسے چھ مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں انشاءؔ کا مقصد مجروح ہوا ہے یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ عبدالستار دلوی نے اس کو اردو اور ہندی رسم الخط میں ایک ساتھ شائع کیا ہے تو انہوں نے اپنے مقدمے میں ا بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ ان کی لفظیات اردو کے ساتھ ساتھ ہندی بھی رہے جیسے ’’ادب اور ساہتیہ‘‘ اور ’’ادیب اور لیکھک‘‘ وغیرہ چونکہ عبدالستار دلوی ایک ماہر لسانیات ہیں تو انہوں نے اپنی اس حیثیت کے پیشِ نظر ’’رانی کیتکی کی کہانی‘کی جس گہرائی سے لسانی خصوصیات بتائی ہیں وہ آپ ہی کا خاصہ ہے ۔
امرت بانی:
امرت بانی (ہندوستانی رنگ کی شاعری کا انتخاب) عبدالستاردلوی کی مرتبہ تصنیف ہے جس کو انہوں نے 1975ء میں مہاتما گاندھی میموریل ریسرچ سنٹر سے شائع کیا ہے جس کی ضخامت 331صفحات اور قیمت بیس روپے ہے ، انہوں نے اس کتاب کا انتساب سورگیہ شریمتی بہن کیپٹن کے نام کیا ہے جنہوں نے راشٹریا بھاشاہندوستانی کی گاندھی جی کی کلپناّؓ کو ہندوستانی پرچار سبھا کے روپ میں زندہ رکھا ہے ۔
عبدالستاردلوی نے ’امرت بانی‘‘ کے مقدمے میں اس ملی جلی زبان ’’ہندوستانی‘‘ کے بننے ،سنوارنے اور ارتقاء پانے کی تمام منزلوں کی مدلل وضاحت پیش کی ہے اور اس کے بعد زبان’’ہندوستانی‘‘ کو گاندھی جی کی طرف سے ’’قومی زبان‘‘ بنانے کی پیش کش اور مختلف اوقات میں ’’ہندوستانی‘‘ سے متعلق ان کے خیالات کو تفصیل سے پیش کیا ہے اس طرح کے پر مغز مقدمے کے بعد جو تین حصوں میں انتخاب دیا گیا ہے وہ مقدمے سے مکمل مناسبت رکھتا ہے ۔ اس سمت میں یہ پہلی کوشش ہے جو ہر لحاظ سے کامیاب ہے اور اس کامیاب کوشش کے لیے مرتب عبدالستاردلوی لائق دادوتحسین ہیں ۔
گھرآنگن:
گھر آنگن کو عبدالستاردلوی نے اپنے سیر حاصل مقدمے کے ساتھ دیوناگری اور اردو رسم الخط میں ترتیب دیا ہے جو جولائی/1976ء میں مہاتما گاندھی میموریل ریسرچ سنٹر سے شائع ہوکر مقبول ہوئی جس کی ضخامت 121صفحات اور قیمت سولہ (16)روپے ہے ، یہاں یہ واضح کردوں کے ’’گھر آنگن‘‘ جانثار اخترؔ کی رباعیوں کا مجموعہ ہے جس کا پیش لفط کرشن چندر نے لکھا ہے اور وہ مجموعے کے اس دوسرے ایڈیشن یعنی مرتبہ عبدالستاردلوی کی گھرآنگن میں بھی جوں کا توں رکھا گیا ہے ، یہ مجموعہ پہلی بار 1971ء میں مکتبہ شاہراہ دہلی سے شائع ہوا تو اس کی ضخامت 90نوے صفحات اور قیمت تین 3روپے ہے اور جانثار اخترؔ نے انتساب کتاب خدیجہ اخترؔ کے نام کیا ہے جو ان کے لیے صفیہ کا دوسرا روپ ہے ۔
عبدالستار دلوی اپنے مقدمے میں اردو شاعری میں عوامی یا ہندستانی زبان اور تہذیب سے ابتدأ کرکے جانثار اخترؔ کی مجموعی شاعری، گھر آنگن کا موضوع، گھر آنگن کی دوسری خصوصیات بیان کرتے کرتے صفیہ اختر کے خطوط کے حوالے سے بھی گھر آنگن کی رباعیوں کا احاطہ کرتے ہیں اور مقدمے کے آخر میں گھر آنگن کی لسانی اہمیت کا بھرپور جائزہ لیتے ہیں ، آپ کے مدلل مقدمے کے مطالعے کے بعد ’’گھر آنگن‘‘ کیرباعیوں کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے ۔
ادبی اور لسانی تحقیق: اصول اور طریق کار:
عبدالستار دلوی نے ’’ادبی اور لسانی تحقیق: اصول اور طریق کار‘‘ کو ترتیب دے کر 1984ء میں شعبہ اردو، بمبئی یونی ورسٹی سے شائع کیا ہے جس کی قیمت چالیس روپے اور ضخامت 256صفحات ہے ۔کتابِ ہذا کا پہلا مضمون (مقدمہ) اور آخری مضمون (اردو میں لسانیاتی تحقیق کی اہمیت) دونوں کچھکچھ ترمیم و اضافے کے ساتھ آپ کی حالیہ تصنیف ’’ادبی و لسانی تحقیق اور تقابلی ادب اصول وطریق کار‘‘ میں بھی شامل کیے گئے ہیں جس کی خاص وجہ طلبہ کے لیے فنِ تحقیق اور اصول تحقیق سے متعلق کتب کی کمی ہے لیکن طلبہ اب بھی کتاب ہذا میں شامل دوسرے مضامین سے استفادہ کرسکتے ہیں جس کے پیش نظر اس کی اہمیت اب بھی اپنی جگہ مسلم ہے ۔
دکنی اردو (دکنی اردو کا تہذیبی، ادبی اور لسانی مطالعہ):
عبدالستار دلوی نے اپنی تصنیف ’’دکنی اردو‘‘ کو 1987میں بمبئی یونی ورسٹی، بمبئی سے شائع کیا ہے دراصل یہ مرتبہ کتاب شعبہ اردو، بمبئی یونی ورسٹی کے کل ہند دکنی سمینار منعقدہ 22تا24دسمبر1985ء کے مقالات کا مجموعہ ہے لیکن اس میں کچھ اضافی مضامین بھی شامل ہیں جو دکنی محققین کے قلم سے نکلے ہیں اور اب دکنی اردو کے ایک عام طالب علم کی دسترس سے باہر ہیں ۔ اس کتاب کی ضخامت 480صفحات ہیں ۔
دراصل دکنی اردو کاپر مغز ومدلل مقدمہ اس کتاب کا اہم حصہ ہے اس کے علاوہ دکنی کے مخصوص فن پاروں پر دکنی محققین کے سپرد قلم مقالے اس کتاب کی زینت ہیں ، آپ کی طرف سے اس کتاب کو مرتب کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ یہ منتشر اور کم یاب مضامین کتابی صورت میں یکجا ہوگئے ہیں جو دکنی کے ایک عام طالب علم، محققین اور اساتذہ کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں اور تو اور یہ کتاب ان لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے جو دکنی محققین یا پھر اردو کے قدیم محققین کو موضوع تحقیق بنائے ہوئے ہیں ،مختصراً کہاجاسکتا ہے کہ انہوں نے ’’دکنی اردو‘‘ کو مرتب کرکے اردو ادب خاص کر دکنی ادب میں قابل لحاظ اضافہ کیا ہے ۔
کرشن چندر شخص اور ادیب:
پیش نظر کتاب’’کرشن چند شخص اور ادیب‘‘ کو عبدالستار دلوی نے پہلی بار دسمبر1993ء میں شعبہ اردو، بمبئی یونی ورسٹی سے شائع کیا ہے جس کی ضخامت 324صفحات اور قیمت سو روپے متعین کی گئی ہے ۔عبدالستاردلوی نے کرشن چندر سے متعلق تیئس(23) مقالوں کو اپنے مختصر مگر جامع مقدمے کے ذریعے مرتب کیا ہے ۔
عبدالستاردلوی نے اپنے مختصر مگر جامع مقدمے میں کرشن چندر کو مختلف حیثیتوں سے پیش کیا ہے اتنا ہی نہیں انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ کرشن چندر نے کس کا اثر قبول کیا اور کون ان سے متاثر ہے واقعہ یہ ہے کہ یونی ورسٹیوں اور مختلف اداروں میں سمینار ہوتے رہتے ہیں اور ان سمیناروں کے مقالات، مقالہ نگاروں اور چند قارئین ہی تک محدود ہوکر وقت کے ساتھ بے اثر ہوجاتے ہیں مگر عبدالستاردلوی نے ان مقالات کو اپنے مقدمے کے ساتھ مرتب کرکے ان کو ادب میں محفوظ کردیا ہے جس کی بدولت یہ کتاب کرشن چندر پر ایک دستاویز بن گئی ہے ۔
نوائے سروش (محمود سروش:شخصیت ،شاعری اور خدمات):
عبدالستاردلوی نے ’’نوائے سروش‘‘ کو ڈاکٹر رفیعہ شبنم عابدی کی مدد سے ترتیب دے کر 1998ء میں فاران پبلشرز، ممبئی سے شائع کیا ہے جس کی قیمت 75روپے اور ضخامت 96صفحات ہیں اور کتاب ہذا کے سرورق اور پشت ورق پر محمود سروش کی خوب صورت تصاویر درج ہیں درحقیقت یہ کتاب محمود سروش کے انتقال کے بعد ان کے فن اور شخصیت پر لکھے گئے مقالات کا مجموعہ ہے ۔
عبدالستاردلوی نے محمود سروش : شخصیت ‘شاعری اور خدمات سمینار میں پڑھے گئے مقالات کو اپنے مختصر مگر جامع ابتدائیہ کے ساتھ ترتیب دے کر نہ صرف ادب میں اضافہ کیا ہے بلکہ محمود سروش کو بھی ادب میں زندہ رہنے کا جواز دے دیا ہے ۔
علی سردارجعفری :شخص، شاعر اور ادیب:
عبدالستاردلوی کی مرتبہ تصانیف میں ایک اور وقیع کتاب ’’علی سردار جعفری ’’شخص، شاعر اور ادیب‘‘ ہے جس کو انہوں نے 2002ء میں حاجی غلام محمد اعظم ایجوکیشن ٹرسٹ، پونے سے شائع کیا ہے جس کی ضخامت 518صفحات اور قیمت 400روپے ہے اور انہوں نے انتساب کتاب ان عروس البلاد بمبئی کے نام کیا ہے جس میں ترقی پسند تحریک اور علی سردار جعفری کی شخصیت اور شاعری پروان چڑھی ہے ۔
عبدالستار دلوی نے اپنی عمر کا ایک طویل عرصہ سردار جعفری کی صحبت میں گزارا ہے جس کی وجہ سے انہیں سردار جعفری کو مختلف حیثیتوں سے قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع بھی ملا،ان کے دیکھے اور سمجھے ہوئے تجربات وواقعات کو انہوں نے اپنے حرف اول اور ابتدائیوں میں پیش کردیا ہے ، انہوں نے اپنی محنت و ریاضت سے اس کتاب کو مرتب کرکے نہ صرف اپنے رہنما علی سردار جعفری کو خراج عقیدت پیش کیا ہے بلکہ ادب میں اس موضوع پر ایک وقیع کتاب کا اضافہ بھی کیا ہے جس کی وجہ سے علی سردار جعفری اور عبدالستار دلوی دونوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
جنوبی ہندمیں اردو زبان و ادب کی تدریس کے مسائل:
عبدالستاردلوی نے اپنی کتاب ’’جنوبی ہند میں اردو زبان و ادب کی تدریس کے مسائل‘‘ کو ترتیب دے کر 2004ء میں دکن مسلم ایجوکیشن اینڈریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پونے سے شائع کیا ہے جس کی قیمت 150روپے اور ضخامت 130صفحات ہیں ۔
’’جنوبی ہند میں اردو زبان و ادب کی تدریس کے مسائل‘‘ یہ کتاب اپنے عنوان سے تو اساتذہ کے لیے مفید مطلب نظر آتی ہے مگر اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ طلبہ کے لیے بھی فائدہ مندہے کیوں کہ عام طور پر طلبہ مسائل سے دوچار ہوتے رہتے ہیں مگر ان کی تشخیص اور حل سے ناواقف ہی رہتے ہیں ایسے طلبہ اس کتاب سے استفادہ کرکے اپنے تحصیلی مسائل بھی حل کرسکتے ہیں ۔
حضرت مخدوم علی مہائمی (تین تحقیقی مقالات):
عبدالستاردلوی جب 2006ء میں حضرت مخدوم علی مہائمی میموریل اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اینڈ لائبریری کے ڈائرکٹر کے منصب پر فائز ہوئے تو انہوں نے حضرت مخدوم علی مہائمی پر لکھے جاچکے تین مختلف مقالات کو حاصل کرکے اپنے پر مغز و معلوماتی مقدمے کے ساتھ کتابی صورت میں حضرت مخدوم علی مہائمی میموریل اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اینڈ لائبریری سے 2007ء میں شائع کیا ہے جس کی ضخامت 95صفحات اور قیمت 50روپے ہے ۔
پیش نظر کتاب حضرت مخدوم علی مہائمی ( تین تحقیقی مقالات) میں سب سے پہلے پیر مخدوم علی مہائمی چیریٹیبل ٹرسٹ کے چیرمین ایڈوکیٹ عبدالصمد خطیب کا لکھا ہوا ’’اپنی بات‘‘ ہے جس میں انہوں نے افسوس ظاہر کیا ہے کہ حضرت مخدوم علی مہائمی چودھویں صدی کے بزرگ ہیں لیکن ان کی حیات اور کارناموں پر اب تک کوئی تحقیقی کام نہیں ہوا سوائے اس کے کہ عبدالستار دلوی کی تحریک پر مولانا عبدالرحمن پرواز اصلاحی نے ’’مخدوم علی مہائمی احوال وآثار‘‘ کے عنوان سے تحقیقی کام کر کے 1976ء میں کتابی شکل میں شائع کردیا ہے ۔دراصل ٹرسٹ کے چیرمین عبدالصمد خطیب کے اظہار افسوس سے ظاہر ہوتاہے کہ حضرت مخدوم علی مہائمی پر پچھلے چھ سوسال میں کوئی باقاعدہ تحقیقی کام نہیں ہوا ہے لیکن مولانا پرواز اصلاحی کی کتاب ’’حضرت مخدوم علی مہائمیؒ احوال و آثار‘‘ مطبوعہ 1976ء جو حضرت پر پہلا تحقیقی کام ہے جس کے محرک عبدالستاردلوی ہیں اور دوسری طرف ان تین مختلف، نایاب و کمیاب مقالات کا علم رکھنا، اپنے کرم فرما و دوست احباب کے وسیلے سے انھیں حاصل کرنا، ان مقالات اور حضرت کے حیات و کارناموں پر محیط ایک مدلل وپرمغز مقدمہ لکھنا ایک غیر معمولی بات ہے لیکن عبدالستاردلوی کی محنت، ثابت قدمی، مشکل پسندی اور محققانہ شخصیت نے اس کام کو یقینی بناکر ادب میں ظاہر ہے اضافہ ہی کیا ہے ، یہ کتاب حضرت کے قارئین کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں اور وہیں حضرت کو موضوعِ تحقیق بنانے والے محققین کے لیے مشعل راہ بھی ثابت ہوگی۔
مقالات پروفیسر نجیب اشرف ندوی:
عبدالستاردلوی نے ’’مقالات پروفیسر نجیب اشرف ندوی‘‘ کو مرتب کرکے مارچ 2013ء میں انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے شائع کیا ہے ، درحقیقت پروفیسر نجیب اشرف ندوی، انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے بانی ڈائرکٹر رہے ہیں علاوہ بریں وہ عبدالستار دلوی (مرتب) کے استاد محترم بھی ہیں اسی لیے یہ کتاب ایک طرح سے استاد کو اپنے شاگرد اور اپنے ادارے کی طرف سے خراج عقیدت ہے اور عبدالستاردلوی نے کتاب ہذا کا انتساب پروفیسر نجیب اشرف ندوی کے معاصرین اور احباب جیسے ڈاکٹر محمد بذل الرحمن، پروفیسر داؤدپوتا، پروفیسر محمد ابراہیم ڈار، پروفیسر شیخ عبدالقادر سرفراز، پروفیسر سراج الحسن نقوی اور پروفیسر اے ۔اے ۔اے فیضی کے نام معنون کیا ہے ۔
’’مقالات پروفیسر محمد ابراہیم ڈار‘‘ میں مذکورہ مضامین کے بعد پروفیسر عبدالستاردلوی کا ابتدائیہ ہے جسکی ابتدأ انہوں نے اسماعیل یوسف کالج کی تاسیس سے کی ہے اور آگے کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد بذل الرحمن، پروفیسر داؤد دیوتا، پروفیسر نجیب اشرف ندوی، پروفیسر محمد ابراہیم ڈار، پروفیسر عبدالصمد مولوی، پروفیسر حسین ہمدانی اور ڈاکٹر باقر علی ترمذی کو کالج کے روشن ستارے کہہ کر یاد کرتے ہیں ۔
ڈاکٹر ظہیر الدین مدنی، پروفیسر ڈار کو اپنا استاد مانتے تھے اسی لیے انہوں نے پروفیسر ڈار کے انتقال کے بعد ان کے مضامین و یکجا کرکے ’’مضامین ڈارُُ شائع کی تھی جس پر ایک تنقید یہ ہوئی کہ اس میں ’’جاحظ‘‘ پر ان کے مقالے شامل نہیں ہیں تو ڈاکٹر ظہیر الدین مدنی کے شاگرد خاص پروفیسر عبدالستاردلوی نے جاحظ سے متعلق مقالہ تلاش کرکے ’’مضامین ڈار‘‘ کو از سر نو ترتیب دے کر اپنے استاد حقیقی ڈاکٹر ظہیر الدین مدنی اور استاد معنوی پروفیسر ڈار دونوں کی شاگردی کا حق ادا کردیا ہے ۔
مبادیاتِ تحقیق:
عبدالستاردلوی نے عبدالرزاق قریشی کی نایاب تصنیف مبادیاتِ تحقیق کو اضافے کے ساتھ ترتیب دے کر 2014ء میں انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے دوبارہ شائع کیا ہے جس کی قیمت 100روپے اور ضخامت 116صفحات ہیں ، واضح رہے کہ عبدالرزاق قریشی نے ریسرچ اسکالرس کے لیے ’’مبادیات تحقیق‘‘ لکھ کر 1968ء میں ادبی پبلیشر، بمبئی سے شائع کی تھی مگر وہ اب دستیاب نہیں ہوتی ۔
’’مبادیات تحقیق ‘‘ اشاعت اول اور اشاعت ثانی دونوں کا بغور جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اشاعت ثانی میں کوئی ترمیم نہیں ہے صرف اضافہ ہے اور یہ اضافی حصہ ’’تعارف وتذکرہ‘‘ کے عنوان سے پروفیسر عبدالستاردلوی نے ہی تحریر کیا ہے ۔
مولانا ابوالکلام آزاد:ایک مطالعہ:
عبدالستاردلوی نے ’’مولانا ابوالکلام آزاد :ایک مطالعہ‘‘ کو ترتیب دے کر 2015ء میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، نئی دہلی سے شائع کیا ہے جس کی قیمت 216روپے اور ضخامت 474صفحات ہیں اور کتاب کے سرورق پر مولانا آزاد کی نہایت ہی خوب صورت اور رنگین تصویردی گئی ہے جو کتاب کی زینت بڑھا رہی ہے ۔
کتاب ہذا کے چاروں حصوں میں سب سے پہلے مقدمہ نگار کا ابتدائیہ ملتا ہے جو اس حصے کے مضامین کا پس منظر محسوس ہوتاہے کیوں کہ ان میں انہوں نے اس مخصوص حصے میں شامل مضامین سے متعلق اظہار خیال کیا ہیمختصر کہاجائے تو پیش نظر کتاب ’’مولانا ابوالکلام آزاد: ایک مطالعہ‘‘ مولانا آزاد سے متعلق ایک اہم حوالہ جاتی کتاب ہے جس سے ادب کا ہر خاص وعام طالب علم استفادہ کرسکتا ہے ۔
ممبئی کی بزم علمیہ :
عبدالستاردلوی کی سب سے تازہ مرتبہ تصنیف ’’ممبئی کی بزم علمیہ‘‘ ہے جو اگسٹ 2018 میں انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے شائع ہوئی ہے انہوں نے اس تصنیف کا انتساب ڈاکٹر رفیق زکریا اور ڈاکٹر آدم عثمان شیخ کے نام کیا ہے جو اسمعیل یوسف کالج کے سابق طلبہ ہیں ۔ممبئی کی بزم علمیہ کا پیش گفتار مرتب عبدالستاردلوی نے قلم بند کیا ہے جس میں انہوں نے ا سمعیل یوسف کالج اور اس کے پس منظر میں بانی پر نسپل ڈاکٹر محمد بذل الرحمن اور دیگر اساتذہ کی درس و تدریس اور شفقت و محبت کو یاد کیا ہے ۔ یہ مرتبہ تصنیف جملہ پانچ حصوں میں منقسم ہیں جو اس طرح ہیں ممبئی میں مشرقی علوم کا پس منظر ‘ اسمعیل یوسف کالج ‘ ڈاکٹر محمد بذل الرحمن ا ‘ڈاکٹر محمد بذل الرحمن کے چند معاصرین ‘ اسمعیل یوسف کالج کے چند ممتاز طلبہ ۔ اس مرتبہ تصنیف میں منظومات کے علاوہ جملہ آڑتیسس مضامین ہیں جن میں سے اکیس مضامین عبدالستاردلوی کے ہیں مگر پھر بھی انہوں نے اسے مرتبہ تصنیف قرار دیاہے ۔
کہاجاتا ہے کہ مقدمے میں اختصار اور رواداری سے کام لیاجاتاہے لیکن عبدالستاردلوی کے بیشتر مقدمے طویل ہیں اور ان کے طویل مقدموں میں ’’من سمجھاون‘‘ ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ ’’دکنی اردو‘‘ ’’گھرآنگن‘‘ اور ’’علی سردار جعفری:شخص، شاعر اور ادیب‘‘وغیرہ کتابوں پر لکھے گئے مقدمے شامل ہیں ا ور جہاں تک رواداری کا تعلق ہے بلا تامل کہاجاسکتاہے کہ پروفیسر عبدالستاردلوی بہ حیثیت مرتب ومقدمہ نگار غیر روادار ہیں جس کی مثال کے طور پر ’’انتخاب کلام مصحفی‘‘ ’’من سمجھاون‘‘ ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘’’امرت بانی‘‘ ’’دکنی اردو‘‘ اور حضرت مخدوم علی مہائمی (تین مقالات) وغیرہ وغیرہ کتابوں پر لکھے گئے مقدمے پیش کیے جاسکتے ہیں ۔
دراصل اختصار اور رواداری سے کام لینے کی وجہ سے مقدمے رسمی اور تعارفی بن جاتے ہیں مگر عبدالستاردلوی کے ’’انتخاب کلام مصحفی‘‘ کرشن چندر، شخص، شاعر اور ادیب اور ’’نوائے سروش‘‘ وغیرہ کتابوں پر لکھے ہوئے مقدمے مختصر ہونے کے باوجود جامع اور مدلل ہیں اسی لیے یہ تعارفی اور رسمی سطح سے آگے بڑھ کر تحقیقی وتنقیدیمیدانوں میں داخل ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی اہمیت حوالہ جاتی بن جاتی ہے ۔
کسی بھی مقدمے کو اچھے اور بُرے کی سطح پر پرکھنے کے لیے یہ بھی ایک اصول ہے کہ مقدمہ نگار مطالب کتاب میں اضافہ کرے جس کے لیے وہ کہیں سوالیہ انداز اختیار رسکتاہے ۔ کہیں رائے دیتاہے اور کہیں ہیں اس رائے کی وضاحت یا تشریح بھی کردیتاہے اور اگر ہم عبدالستاردلوی کے لکھے ہوئے مقدمات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے اپنے ہر مقدمے میں مطالب کتاب میں اضافہ کیا ہے جس کے لیے وہ بھی کہں سوالیہ انداز اختیارکرتے ہیں تو کہیں وضاحتی اور کہیں کہیں پر صرف رائے پر اکتفا کرجاتے ہیں ، دراصل وہ اپنی بات کہنے کے لیے جو انداز مناسب سمجھتے ہیں وہ اندز اختیار کرلیتے ہیں ۔ اسی لیے ان کے مقدمے کتاب پر اضافی حیثیت حاصل کرجاتے ہیں جیسے کتاب ’’ادبی و لسانی تحقیق اصول و طریق کار‘‘ کا مقدمہ۔ یہ مقدمہ اپنی اضافی حیثیت کی بنا پر اتنا مقبول ہو اکہ اسے سندھی میں بھی ترجمہ کیا گیا اور اس ترجمہ پر پروفیسر بلدیو متلانی کو 1999ء میں ساہتیہ اکادمی کا ترجمہ ایوارڈ ملااور اسے پاکستان میں
بھی اس قدر سراہا گیا کہ وہاں کی تحقیقی کتابوں میں شامل کرلیا گیا، ان دلائل سے اس مقدمے کی کامیابی اور اضافی حیثیت دونوں ظاہر ہورہی ہیں ۔
غرض کہ پروفیسر عبدالستاردلوی کے سپردقلم کیے گئے مقدمات اپنی مختلف نوعیت، اختصار، طویل، غیر روادار اور تحقیق و تنقید کے باوجود قاری کے ذہن میں کتاب سے متعلق جستجو بڑھانے کے لیے کافی ہے جس کی بنا پر وہ بہ حیثیت مرتب وہ مقدمہ نگار ایک اعلیٰ مقام کے حق دار ہیں ۔
٭٭٭
Leave a Reply
Be the First to Comment!