فاصلاتی تعلیم: مقاصد اور امکانات

ڈاکٹر محمد فیروز عالم

زیت پور، نئی دہلی 110044

Email: firozmimt@rediffmail.com

تعلیم سیکھنے سکھانے کا ایک ایسا عمل ہے جس کی کوئی ایک تعریف نہیں کی جا سکتی، ماہرین تعلیم نے اس کی مختلف تعریفات کی ہیں۔کچھ لوگ اسے حصول علم ، مہارت اور رویوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ کچھ باضابطہ اسکولی تعلیم سےتعبیر کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تعلیم مطلوبہ تبدیلیاں لانے کے لئے لوگوں کے ذہن کو ایک خاص سمت میں تربیت دیناہے۔ اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ تعلیم کی جتنی تعریفیں کی گئی ہیں سب جزوی ہیں اور اس کی کوئی ایسی تعریف ممکن نہیں جو اس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرلے،اگر آپ کسی سیاستدان ،کاریگر ، استاذ ، فلاسفر اور طالب علم سے اس بارے میں سوال کریں کہ تعلیم کا مطلب کیا ہے؟تو لوگوں کی متعدد تشریحات اور نظریات کو جان کرآپ کو حیرت ہوگی۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ تعلیم کی عالمی سطح پر کوئی ایک مقبول تعریف نہیں ہے۔بلکہ مختلف افعال کے ساتھ اس کے مختلف مفاہیم ہوتے ہیں۔ڈاکٹرمظفر حسن ملک لکھتے ہیں:

“انگریزی کلمہ ایجوکیشن (Education) لاطینی مصدر ایجوکیشیو (Educatio) سے مشتق ہے، جس کے معانی کے وسیع سلسلوں میں ،بچوں کی پرورش، منظم ہدایات نیز اس مقصد کے لیے طریق کار کا تعین، کردار کی نشو ونما اور ذہنی تربیت شامل ہیں ۔ انسٹرکشن، (Instruction)کا کلمہ بھی تعلیم وتدریس، پڑھائی، ہدایات اور احکام کے معانی میں مستعمل ہے۔

تعلیم کا کلمہ “علم” سے مشتق ہے، جس کے معانی میں ادراک، شعور، حکمت، معرفت، مشاہدہ، تجزیہ اور تفکر شامل ہیں۔گویا تعلیم کی اصطلاح بھی ایجوکیشن اور انسٹرکشن کی طرح “علم” کے ایک شخص سے دوسرے کو منتقل کرنے کے عمل کے معانی میں استعمال ہوتی ہے۔”1

مذکورہ بالا اقتباس کی روشنی میں یہ کہا جا سکتاہے۔ کہ تعلیم انسان کے اندر ، شعور، ادراک،حکمت اور معرفت کے ساتھ ساتھ انسان کو لکھنے پڑھنے کے قابل بناتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی میں ان کمالات سےروشناس ہوتا ہے جس سے معاشرتی، معاشی، سیاسی اور تاریخی حالات سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔تعلیم وتعلّم سے ہی قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ متعین ہوتی ہے۔ہمارے ملک ہندوستان میں تعلیم کی ایک قدیم اور تواناروایت رہی ہے۔ویدک زمانے میں طلبا اساتذہ کے گھریا کسی شہرت کے حامل گھر میں رہ کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ڈاکٹر اے۔ ایس ، الٹیکرگروکل (قدیم ہندوستانی تعلیم) نظام تعلیم کے حوالے سے لکھتے ہیں:

“The Gurukula system, which necessitated the stay of the student away from home at the house of a teacher or in a boarding house of established reputation, was one of the most important features of ancient Indian education.”2

 مذکورہ بالا اقتباس سے قدیم ہندوستان کی طرز تعلیم کا اندازہ ہوتاہے اور معلوم ہوتا ہے کہ زمانۂ قدیم میں علم حاصل کرنے کے لیے اساتذہ کے گھروں یا اقامتی اداروں میں رہنا پڑتا تھا، جس کی زندہ مثال آج کے اسلامی مدارس اور دیگر اقامتی تعلیمی اداروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس فاصلاتی نظام تعلیم نے آج ہر خواہش مند طالب علم کو اکناف عالم سے تعلیم حاصل کرنے کا اہل بنا تاہے۔

“فاصلاتی تعلیم (DE) ایک اصطلاح ہے جو درس و تدریس کے ان تمام امورکی وضاحت کرتی ہے جس میں سیکھنے والے اور اساتذہ کو جگہ اور وقت سے الگ کردیا جاتا ہے۔ در حقیقت یہ طلباکے لیے تعلیم کی فراہمی کا ایک طریقہ ہے جو کلاس روم کی روایتی ترتیب میں جسمانی طور پر موجود نہیںہوتاہے۔

ہندوستان میں چھ دہائی قبل تعلیمی پالیسی سازوں نے اعلی تعلیم کی بنیاد کو بڑھانے کے لئے فاصلاتی تعلیم کی ضرورت کا احساس کیا۔ اور یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) نے 1956-1960کی رپورٹ میں شام کے کالجوں، خط و کتابت کے کورسز اور بیرونی ڈگریوں کے ایوارڈ کے لئے تجاویز پر غورکرنے کی کی تجویز پیش کی۔ جس پرپلاننگ کمیشن نے سنجیدگی سے غورکیااور اپنے تیسرے پانچ سالہ منصوبے میں ملک میں خط و کتابت کی تعلیم کی ترویج کی ضرورت کا تذکرہ کیا؛ پلاننگ کمیشن کے ذریعہ پیش کیے گئے مشاہدات کی روشنی میں تعلیمی سنٹرل ایڈوائزری بورڈ (Central Advisory Board on Education)نے خط و کتابت کے کورسز متعارف کروانے کی تجویز پر غور کرنے کے لئے یو جی سی کے اس وقت کے چیئرمین ڈاکٹر ڈی ایس کٹھاری کی سربراہی میں ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی؛ جس کے بعد ماہرین کمیٹی نے مزیدلچکدار، معاشی استحکام اور تعلیم فراہمی کے جدید طریقوں کے پیش نظر خط و کتابتی کورسز کے انسٹیٹیوشن کی سفارش کی اور یہ تجویز کیا کہ ہندوستان میں خط و کتابت کے نصاب کو صرف یونیورسٹیوں کے زیر انتظام ہونا چاہئے اس طرح دہلی یونی ورسٹی کو پائلٹ پروجیکٹ کے طور پرپہلی باراستعمال کیا گیا۔”3

 1980 کی دہائی میں اوپن یونی ورسٹی کا نظام متعارف کراگیا تاکہ دور دراز اور دیہی علاقوں میں رہنے والے یا کام کرنے والے افراد ، خواتین اور دیگر بالغ افراد جو مختلف شعبوں میں تعلیم کے ذریعے اپنے علم اور صلاحیتوں کو حاصل اور اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں تک تعلیم کی رسائی کو ممکن بنانے کی غرض سےفاصلاتی تعلیم کے فروغ اور کوآرڈینیشن کی ذمہ داری “اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی” (IGNOU) کو دی گئی۔

یہ ایک ایساتعلیمی نظام ہے جس کے ذریعہ خواہش مند طلبا کو ان کی دیگر مصروفیتوں کے ساتھ ساتھ پڑھنے اور سیکھنے کا موقع فراہم کیا جاتاہے۔اس میں روایتی یا رسمی تعلیم کی موجودہ صورت حال کو ایک نیا رخ فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس کا ایک دستورعمل ہوتاہے جس میں اساتذہ یا ادارےکے ذریعہ دور درازعلاقوں میں مقیم طلبا کو وہ تمام سہولتیں مہیاکرانے کی کوشش کی جاتی ہے دوران تعلیم جس کی ضرورت پڑتی ہے۔ابتدا میں یہ طریقہ خط وکتابت کے ذریعہ عمل میں لایا جاتاتھا ،لیکن ٹکنالوجی اور نئے نئے ایجادات کے انقلاب نے اسے مزیدآسان اورمروج کردیاہے۔ہمارے ملک ہندوستان میں اسکولی اور اعلی ہر دو سطح پر فاصلاتی تعلیم کا نظام موجود ہے۔ من پسند موضوعات کی تعلیم تک لوگوں کی رسائی آسان تر ہونے کی وجہ سے فاصلاتی تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد میں روزافرزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اس طرز تعلیم میں لائحہ عمل ، درسی مواد(آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ) ، تفویضات اور دیگر امدادی اشیا بذریعہ ڈاک یارجسٹرڈای۔میل کے ذریعہ طلبا تک پہنچا دی جاتی ہیں۔اس لیے یہ کہنا مناسب ہے کہ رسمی اور نیم رسمی تعلیم ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔

رسمی تعلیم کی طرح فاصلاتی تعلیم کےشرکا میںبھی اساتذہ ، سیکھنے والے اور سیکھنے کے مواد ہیں۔لیکن فاصلاتی تعلیم میں استاذ کی شرکت سیکھنے کے عمل میں انتظامی مشیر اور کوآرڈینیٹر تک محدود رہ جاتی ہے۔وہ سیکھنے والوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب کی تشخیص کرتا ہے اور مواصلات کے لیےمناسب ٹکنالوجی کا انتخاب کرتا ہے۔تعلیم کے پورے عمل پر کنٹرول اساتذہ اور سیکھنے والوں کے مابین مشترک عملہوتاہے۔ اس کے نتیجے میں سیکھنے والوں کا ایک ایساکردارابھرتاہے۔ جو سیکھنے اور تیاری کی رفتار کا تعین کرتے ہیں۔ایسی صورت میں شرکا کا خود پر قابو رکھنا اور خود تشخیص کرنا بہت ضروری ہوتاہے۔ سیکھنے کا مواد رسمی تعلیم میں پہلے سے استعمال ہونے والے مادوں پر مشتمل ہوتاہے یااس نصاب کے لئے خاص طور پر تشکیل دیا جاتا ہے۔ جدید انفارمیشن ٹکنالوجی کی وجہ سےآواز ، تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعہ سیکھنے والے مواد میں تنوع کی پیدا کی جاسکتی ہے۔اس طرز تعلیم میں شرکا کے مابین تعامل کی ضرورت ہوتی ہے۔

رسمی نظام تعلیم کے مقابلے میں فاصلاتی تعلیم کا مفہوم وسیع ہے جو سیکھنے کی ایک بہت بڑی صورتحال میں کام کرتا ہے۔فاصلاتی تعلیم کے ساتھ دیگر غیر روایتی شکلوں کی فہرست بھی دی جا سکتی ہے۔بالغین کی تعلیم کا پروگرام جو منتخب علاقوں میں بڑوں کو غیر روایتی تعلیم فراہم کرتے ہیں ، اور ایسے توسیع والے کیمپس جو مختلف مقامات پر لیکچر مہیا کراتے ہیں اس کی مخصوص شکلیںہیں۔یعنی فاصلاتی تعلیم توسیعی پروگرام کی ایک شکل ہے جو کسی یونی ورسٹی ، کالج یاادارے کی مہارت کو نئی آبادیوں میں مہیا کرائی جاتی ہے۔فاصلاتی تعلیم کی ابتداانیسویں صدی میں ہوئی ، اساتذہ اور طلبا کے درمیان رابطہ کے لیے ان دنوں میں دستیاب مواصلاتی ٹکنالوجی کا استعمال کیا جاتا تھا۔

ریڈیو اور ٹی وی جیسی نئی ٹیکنالوجی کے تعارف نے فاصلاتی تعلیم کی ترقی کے لئے ایک نیا مرحلہ طے کیا، آڈیو اور ویڈیو موادبھی مطبوعہ مواد کے ساتھ تعلیم کا حصہ بن گئے۔ اس سے تعلیم کے تصور میں مزیداضافہ ہو اہے۔ فاصلاتی تعلیم کی ترقی کا تیسرا مرحلہ ڈیجیٹل ٹکنالوجی کی ترقی اور تعلیمی ماحول کے طور پر انٹرنیٹ کے استعمال پر مبنی ہے۔اس کا شرکا کے مابین تعامل اور بات چیت کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ہم زیادہ بہتر سیکھنے کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

آج کے دور میں فاصلاتی تعلیم میں سب سے اہم ترقی الیکٹرانک ماس میڈیا کے میدان میں ہونے والی پیشرفت ہے۔ جومواصلات کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے جو زبانی رابطےکی جگہ لےرہی ہے۔ویب سائٹ یا پورٹل پر موجو د آڈیو ، ویڈیو اور ٹیسکٹ مواد طالب علم کے لیے وہ سارے مواقع فراہم کرتی ہیں جس سےطالب علم کو علمی تشنگی دور کرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ای بستہ اور سوئم اور طرز تعلیم کی ترقی یافتہ شکلیں ہیں۔

اساتذہ کے لئے اب یہ بات عام ہوتی جارہی ہےکہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کوآن لائن مشتہر کردیتے ہیں جس سے طلبائے جماعت کے علاوہ دیگر شائقین بھی مستفید ہوتے ہیں ،اس جوش و خروش اور بدعت کی یقینی طور پر ضرورت بھی ہے اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جانی چاہئے۔ اس طرح کی سرگرمیاں و دوسروں کے لئے ورثہ ثابت ہوںگی۔لیکن اس ورثےکو جاری رکھنے کے لیےجدید ٹکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ تدریسی اور امدادی اشیا پر ناقدانہ غوربھی کرناچاہئے کہ یہ مواد فاصلاتی تعلیم میں کس حدتک شراکت کرسکتے ہیںاور کتنا کارآمدہوسکتے ہیں۔اس کے علاوہ اسے مزید بہتر کرنے کی کوشش بھی جاری رکھنی چاہئے۔اس سے فاصلاتی تعلیم کو دیگر تعلیمی نظام سے ممتاز کرنے میں مدد ملے گی۔اطہر حسین لکھتے ہیں:

“کچھ برسوں میں ہندوستان میں فاصلاتی تعلیم کا نظام درس وتدریس کے فعال اور متحرک نظام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جس میںریاستی اور قومی سطح کی یونیورسٹیوں کا ایک طاقتورنیٹ ورک موجود ہے اور جو تربیت یا فتگان کے مختلف گروپوں کی ضروریات کو پوراکرنے کے قابل ہے۔ ملٹی میڈیا اسٹوڈنٹ سپورٹ سروس کا استعمال زبانی تدریس کے لیے بہت زیادہ مقبول رہا ہے۔”4

 بھارت کے پاس چین کے بعددنیا کا سب سے بڑافاصلاتی تعلیم کا نظام ہے ۔ آج ملک ہندوستان میںحسب ذیل چھ قسم کے ادارے فاصلاتی تعلیم مہیاکراتے ہیں:

  • نیشنل اوپن یونیورسٹی
  • اسٹیٹ اوپن یونیورسٹیاں
  • ڈسٹنس ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز (تعلیمی اداراے)
    • قومی اہمیت کے حامل ادارے
    • مرکزی یونیورسٹیوں
    • ریاستی یونیورسٹیاں
    • ڈیمڈیونیورسٹیاں
    • ریاستی نجی یونیورسٹیاں

اسی طرح اندراگاندھی نیشنل اوپن یونی ورسٹی (IGNOU)،نالندہ اوپن یونی ورسٹی (NOU) پٹنہ ، بہار ،وردمان مہاویر اوپن یونی ورسٹی (VMOU) ، کوٹہ ، راجستھان ، یشونت راؤ چاون مہاراشٹر اوپن یونی ورسٹی (YCMUO) ، ناسک اورمولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی (MANUU)اور ملک کی دیگر یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں آیا۔اسکولی سطح پر این، آئی، او، ایس (نیشنل انسٹیٹوٹ آف اوپن اسکولنگ) ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہر طالب علم ثانوی اور اعلیـ ثانوی درجات کی تعلیم اپنی دیگر مشغولیتوں کے ساتھ حاصل کرنے کا مجاز ہے۔

 آئین کی دفعہ 41 کے تحت بیان کیا گیا ہے کہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے حدود میں رہ کر ایسے موثر اقدام کرے جس سے تمام شہریوں کو تعلیم کا یکساں حق حاصل ہو۔فاصلاتی نظام تعلیم اسی فرض کے پورا کرنے کی ایک پہل ہے۔

فاصلاتی نظام تعلیم ملک میں علم کو فروغ دینے کی ایک بہترین کاوش ہے اس کے ذریعہ ان لوگوں تک معیاری تعلیم پہنچائی جاسکتی ہے جو کسی سبب تعلیم و تعلم میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن وسائل کی دستیابی کے باوجودعوام کے ایک بڑے طبقے کی تعلیم وتعلم کی دوری سے محسوس ہوتاہے کہ لوگوں کو ابھی بھی تعلیم کی طرف راغب کرنے والے پروگرام کی ضرورت ہے۔

حواشی:

  1. تعلیمی عمرانیات، ڈاکٹر مظفر حسن ملک، مطبوعہ مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، صفحہ 29-30
  2. Education in ancient India, P.30
  3. خلاصہ،https://www.ugc.ac.in/deb/pdf/ODLwhatwhyandhow.pdf
  4. فاصلاتی طرز تعلیم اور اساتذہ کی تدریس: ایک تحقیقی جائزہ، صفحہ 66، مطبوعہ مکتبہ جامعہ نئی دہلی،2018

٭٭٭

Leave a Reply

1 Comment on "فاصلاتی تعلیم: مقاصد اور امکانات"

Notify of
avatar
Sort by:   newest | oldest | most voted
Sumaira usman
Guest
فاصلاتی تعلیم پر تنقیدی بحث
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.