ڈراما اور اس کے فنی عناصر
پروفیسر سید شفیق احمد اشرفی،
خواجہ معین الدین چشتی اردو عر بی فارسی یونی ورسٹی، لکھنؤ
فنی تخلیق کا عمل اس وقت تکمیل کو پہنچتا ہے جب قوت حواس و ادراک سے پیدا ہونے والے احساسات و جذبات الفاظ و معانی کے لباس میں زیب تن ہو جائے یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ مشاہدات و تجربات کا جو عکس ذہن کے پردے پر نمودار ہوگا اسی کو ذہن ظاہر کرتا ہے۔ ڈراما کو اسی پس منظر میںدیکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن دیگر اصناف سخن کے مقابل صنفِ ڈراما ایک مختلف چیز ہے۔ درحقیقت یہ کوئی کتابی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک عمل ہے جو اسٹیج کرکے دکھایا جاتا ہے۔ اس کے اہم فنی عناصر پلاٹ، مکالمے، کردار اور ماحول وغیرہ ہیں۔تعریف ڈراما یونانی لفظ ’’ڈرؤ‘‘ سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے کرکے دکھانا یعنی عمل یا ایکٹ کرنا۔ اسی وجہ سے انگریزی میں ڈرامے کے لیے ’’ون ایکٹ یا ٹو ایکٹ‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے۔شیلڈن چینی کے بقول: ’’ڈراما اس یونانی لفظ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں ’’میں کرتا ہوں‘‘ اور جس کا اطلاق ’’ کی ہوئی چیز پر ہوتا ہے‘‘(بحوالہ: اردو ڈراما اور ناول اصول و فن، طارق سعید، ص ۱۱ سنِ اشاعت ۲۰۱۶)بقول ارسطو: ’’ڈراما انسانی افعال کی ایسی نقل ہے جس میں الفاظ موزونیت اور نغمے کے ذریعے کرداروں کو محو گفتگو اور مصروف عمل ہو بہو ویسا ہی دکھایا جائے جیسے کہ وہ ہوتے ہیں۔ یا ان سے بہتر یا بدتر انداز میں پیش کیا جائے‘‘۔ (بحوالہ: اردو ڈراما اور ناول اصول و فن، طارق سعید، ص۱۲)بقول طارق سعید: ’’ڈراما کسی قصے یا واقعے کو اداکاروں کے ذریعے تماشائیوں کے روبرو پھر سے عملاً پیش کرنے کا نام ہے‘‘۔ (ایضاً ص ۱۲)مذکورہ تعریفات میں کرنا، کیا ہوا، کرکے دکھائی ہوئی چیز، جیسے الفاظ کی تکرار ڈرامے میں ’’عمل‘‘ کی اہمیت کی طرف مشیر ہے۔ ڈراما کے متعلق بات صاف ہے کہ یہ دیگر اصناف سے مختلف ہے اس کی تکمیل بغیر اسٹیج کے مشکل اور ناممکن ہے۔ ڈرامے کے وجود کے اسباب: ڈرامے کے وجود میں آنے کی محرک دو انسانی جبلتیں ہیں، پہلی اظہارِ ذات، اور دوسری لفّاظی۔ اظہار ذات سے مراد انسان کا اپنے احساسات و جذبات اور اپنی کیفیاتت کو دوسروں کے سامنے اظہار کرنا ہے۔ کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اپنی بات دوسروں کے سامنے رکھے اور اس سے لطف اندوز ہوں۔ لفّاظی کا مادّہ بھی انسانی فطرت میں ازل سے موجود ہے۔ بچوں کا توتلی زبان میں نقل اتارنا، پاؤں چلنا، کسی کو چڑھانے کے لئے اس کی آواز اور حرکات کی نقل کرنا انسانی فطرت ہے۔بقول ارسطو:’’انسان اسی وجہ سے دوسرے جانداروں سے ممتاز ہے کہ وہ سب سے زیادہ نقال ہے۔ اور اسی کی جبلت کی وجہ اپنی پہلی تعلیم پانا ہے‘‘۔ (اردو ڈراماا ور ناول اصول و فن، طارق سعید، ص ۱۴)ڈرامے کے فنّی عناصر: ڈرامانہ محض مکالمے میں لکھی ہوئی تحریر کا نام ہے، نہ محض واقعات و کردار کا مجموعہ نہ ہی تفریح ہے بلکہ اس کے اجزا میں پلاٹ ، کردار، مکالمہ اور زبان شامل ہیں۔ ساتھ ہی رنگ، صورت، روشنی، سایہ اور سکوت و خاموشی بھی اس کے اہم عناصر ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح عمارت کی تکمیل کے لیے نقشے کے بعد اینٹ، ریت، مٹی، سمنٹ، لوہا، لکڑی، کاری گری اور مزدور کی ضرورت ہوتی ہے۔ساتھ ہی مزید خوبصورت بنانے کے لیے رنگ و پنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔بقول ارسطو ڈرامے کے فنّی عناصر چھ ہیں:۱؎ پلاٹ ۲؎ کردار ۳؎ مکالمہ۴؎ زبان ۵؎ موسیقی ۶؎ آرائشعشرت رحمانی ان فنی عناصر کے متعلق لکھتے ہیں:’’ڈراما میں حسبِ ذیل فنّی لوازم یا اجزائے ترکیبی کا ہونا ضروری ہے اگرا ن میں سے ایک بھی کمزور یا غائب ہو تا ڈراما مکمل شکل اختیار نہیں کر سکتا ۔ ۱؎ پلاٹ(موضوع یا کہانی کامواد) یا نفسِ مضمون ، ۲؎ کہانی کا مرکزی خیال یا تھیم ۳؎ آغاز ۴؎ کردار و سیرت نگاری ۵؎ مکالمہ ۶؎ تسلسل، کشمکش اور تذبذب ۷؎ تصادم ۸؎ نقطہ ٔ عروج، کلائمکس‘‘۔ (عشرت رحمانی، اردو ڈراما کا ارتقاء ص۱۹)۱؎ پلاٹ واقعات کی منطقی ترتیب کو پلاٹ کہتے ہیں یعنی کہانی کو ترتیب دینا پلاٹ کہلاتا ہے۔ کہانی اور پلاٹ میں بنیادی فرق یہ ہوتاہے کہ پلاٹ میں اسباب و علل کا سہارا لیا جاتاہے اور کہانی میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اسی کو ’’ای ۔ایم فارسٹر‘‘ نے بہت بہترین اور آسان مثال سے سمجھایاہے اور یہ بات واضح ہے کہ تمثیل سے تفہیم میں تسہیل ہوتی ہے۔ مثال ملاحظہ ہو: ’’بادشاہ مرگیا اور رانی مر گئی‘‘ یہ ایک کہانی ہے۔ اسی کو اس طرح کہنا ’’بادشاہ مر گیا اس کے غم میں رانی مر گئی‘‘ یہ پلاٹ ہے۔ ارسطو کا کہنا ہے کہ ڈرامے میں پلاٹ کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ عمدہ اور اچھے پلاٹ میں واقعات کی ترتیب ایک خاص ڈھنگ کی ہوتی ہے۔ واقعات میں تسلسل، ربط اور ہم آہنگی ہوتی ہے۔ اگر واقعات مربوط ہو تو اکہرے پلاٹ کہلاتا ہے اور مربوط نہ ہو تو تہہ دار پلاٹ کہلاتا ہے۔ بقول امتیاز علی تاج پلاٹ تین طرح کے ہوتے ہیں ۱؎ سادہ ۲؎ مخلوط اور ۳؎ مرکب ملاحظہ ہو: سادہ پلاٹ کے ڈراموں میں واقعات کسی قابل قبول نقطۂ آغاز سے بڑھ کر براہ راست کسی ایسے انجام کو پہنچتے ہیں۔ جیسے بوجھ لینا مشکل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سادہ پلاٹ کے بہترین ڈرامے عموماً وہ ہوتے ہیں جن میں ایک اٹل انجام کی طرف بے دریغ بڑھنے کا احساس پیدا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مخلوط پلاٹ میں ڈراما ہمواری کی طرح مڑتا ہے کہ نتیجہ توقع کے خلاف نکل آتاہے‘‘۔ (امتیاز علی تاج، رونق کے ڈرامے، دوم، لاہور، ۱۹۴۹، ص۶) یہ بات واضح ہے کہ امتیاز علی تاج نے ابتداً تین پلاٹ کا ذکر کیا ہے مگر تفصیل انہوں نے صرف دو ہی کی بیان کی ہے۔ ڈرامے کے پلاٹ کے متعلق ماہرین لکھتے ہیں کہ اکہرا اور سادہ پلاٹ زیادہ موزوں اور مناسب ہوتا ہے۔ اسی طرح ڈرامے میں ابتداء، وسط اور آخر واضح طور پر ہونا چاہیے۔ اسی وجہ سے اکثر ناقدین نے پلاٹ کو چھ مرحلوں میں تقسیم کیا ہے۔ طارق سعید کی زبانی ملاحظہ ہو:’’۱؎ آغاز یا تمہید ۲؎ ابتدائی واقعہ ۳؎ عروج کی شروعات ۴؎ عروج یا منتہیٰ ۵؎ تنزل ۶؎ انجام‘‘۔ (اردو ڈراما اور ناول اصول و فن، طارق سعید، ص ۲۰)۱۔ آغاز: آغاز کا مقصد آئندہ آنے والے افعال و اعمال کے متعلق مناسب اشارات کرنا، مواد کے متعلق ضروری واقفیت پیدا کرنا، کرداروں کا تعارف کرانا تا کہ آنے والے واقعات کا سمجھنا آسان اور سہل ہوجائے کوئی الجھن اور دشواری نہ رہے۔۲۔ ابتدائی واقعہ: ابتدائی واقعہ ڈرامے کے عمل میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہیں سے سامعین کے روبرو ڈرامے کا پہلا منظر پیش ہوتا ہے اور ڈرامے میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے کیونکہ کسی بیان یا منظر سے تو ڈراما شروع نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کرداروں کے تعارف سے ہی آغاز کرنامناسب ہے۔ اس لیے ڈرامے کا آغاز ایک ایسے واقعہ کے عمل ہونا ضروری ہوتا ہے جس کے ذریعے سے سامعین کا پورا دھیان ڈرامے کی طرف مبذول کیا جا سکے۔۳۔ عروج: ڈراما اس مرحلہ میں پورے طور پر عروج پر ہوتاہے۔ جہاں ڈرامے کے دوسرے مرحلے میں واقعات کا انتخاب تھا۔ وہیں اس حصے میں ان واقعات کی ترتیب وار پیشکش کی جاتی ہے۔ اس سے پلاٹ میں عجیب قسم کا ایک الجھاؤ ظاہر ہوتا ہے اور سامعین پورے طور پر ڈرامے سے محظوظ ہوتے ہیں۔
۴۔ نقطہ عروج: ڈراما کے اس حصہ میں مختلف اوور متضاد قوتوں کی کشمکش عرووج و کمال پر پہنچ کر ایک ایسی حیثیت اختیار کر لیتی ہے کہ ان میں سے ایک کی کامیابی یقینی ہو جاتی ہے اور قصہ کا انجام نظر آنے لگتا ہے۔ بقول صفدر آہ ’’نقطہ عروج‘‘ غیر متوقع طور پر پلاٹ کے تصادم کو انتہائی کمال کے درجہ کو پہنچنا ہے۔ ان ہی کی زبانی ملاحظہ ہو:’’نقطہ عروج کے معنی ہیں پلاٹ کے تصادم کو خلافِ توقع انتہا کو پہنچ جانا جس سے ذہنی اور جذباتی توازن درہم برہم ہو جائے‘‘۔ (صفد آہ، ہندوستانی ڈراما، دہلی، ۱۹۶۲، ص۲۶۸)۵۔ تنزل: ڈرامے کے اختتام سے پہلے کا حصہ ’’تنزل‘‘ کہلا تا ہے۔ جسے مارڈن ڈرامے میں Anti-Climexکی حیثیت سے متعارف ہے۔ منتہیٰ حصہ میں چیزیں الجھی ہوئی لگتی ہے وہیں اس حصے میں چیزیں سنبھلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ جو رفتہ رفتہ انجام کی طرف بڑھتا ہے۔ اور پلاٹ متعین ہو جاتا ہے۔۶۔ انجام: انجام پلاٹ کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ اسی حصہ میں ڈرامائی تصادم کے ایسے پہلو ظاہر ہوتے ہیں جن سے تکمیل کا احساس ہوتا ہے۔ اور اسی حصہ پر آکر ڈراما ختم ہو جاتا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ ’’تصادم‘‘ ڈراما کے فنی عناصر کا اہم جزو ہے البتہ اجزائے ترکیبی اس کا شمار نہیں ہوتا ۔ ڈراما خواہ المیہ ہو یا طربیہ اس کے بغیر اس کا وجود میں آنا مشکل ہے۔ تصادم کی نوعیت مختلف ہوتی ہے یہ کبھی دو قوتوں میں ، دو ارادوں ، یا مقاصد کے درمیان ہوتا ہے، کبھی کرداروں میں ، کبھی کردارو ماحول، کبھی کردار و تقدیر میں ، کبھی ایک سوسائٹی کا دوسری سوسائٹی سے، کبھی نیکی اور بدی میں، کبھی موت اور زندگی میں، کبھی فرض اور محبت میں، کبھی عقائد سے اور کبھی کردار کے اندر کے متضاد رجحانات کا بھی ہوتا ہے۔۲؎ کردار: ’’کردار‘‘ ڈراما میں غیر معمولی اہمیت کردار ادا کرتا ہے۔ ڈراما کا سارا دار و مدار کردار پر ہی ہوتا ہے۔ ڈراما میں کردار تخلیق کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا ظاہری سانچہ اور ڈھانچہ بنایا جائے۔ بلکہ نفیسات کو اجاگر کرنا مقصود ہوتا ہے۔ کردار لکھتے وقت فنکار جس قدر اپنے داخلی جذبات و احساسات کی رنگ آمیزی جتنی کم کرے گا ڈراما اتنا ہی دلچسپ اور مؤثر ہوگا۔ کردار نگاری سے متعلق محمد حسن لکھتے ہیں: ’’ڈراما آپ محض اپنے لیے نہیں لکھتے قلم اٹھاتے ہی آپ کو مختلف کرداروں کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ اور ان میں اکثر کردار آپ کی تخلیق ہونے کے باوجود آپ کی ذات سے الگ اپنا ایک وجود رکھتے ہیں‘‘۔ (محمد حسن، ادبیات شناسی، نئی دہلی، ۱۹۸۹ء ص۔۱۴۸)کرداروں کے جذبات و نفسیات کو نمایاں کرنے اور ان کی شخصیت کو مؤثر بنانے میں مندرجہ ذیل صورتیں معاون ہوتی ہیں:۱۔ کسی کردار کی دوسرے کردار سے گفتگو۔۲۔ کسی کردار کے بارے میں دوسرے کرداروں کا اظہار خیال۔۳۔ واقعات اور ڈرامے کی اندرونی فضا سے کرداروں کی شخصیت پر روشنی پڑنا۔ کردارنگاری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کرداروں کی زبانی ایسی گفتگو پیش کی جائے جو عین فطرت ہو۔ تماشائی یہ سمجھے کہ یہ بالکل عام انسانی کردار ہے۔ اور سامعین و ناظرین کی دلچسپی میں اضافہ کا سبب بنے اسی کو آغا حشر کاشمیری لکھتے ہیں: ’’جس طرح کھانے کو مزیدار بنانے کے لیے چٹنی کا استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح ڈرامے کو دلچسپ بنانے کے لیے اس میں بڑے عجیب و غریب کردار پیش کرنے پڑتے ہیں‘‘۔(آغاحشر کاشمیری اور ان کے ڈراموں کا تنقیدی مطالعہ، محمد شفیع، مالیگاؤں،۱۹۸۸ء، ص۔۱۳)
۳؎ مکالمہ: کردار کی طرح مکالمہ بھی ڈرامے میںاہم درجہ رکھتاہے۔ اسی کے ذریعہ کردار ایک دوسرے کردار سے یا سامعین سے مخاطب ہوتاہے، تبادلہ خیال کرتا ہے۔ اسٹیج ڈرامے میں حرکت و عمل اور اجسام کی موجودگی کے مقابلے میں مکالمے کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ ڈرامے میں ’’کیا کہا‘‘ سے زیادہ اہم ’’کیا کیا‘‘ ہوتا ہے بقول ارسطو مکالمہ ایک تاثر ہے وہ اس کے متعلق لکھتے ہیں: ’’تیسرا درجہ تاثرات کو حاصل ہے اس عنصر کا تعلق ان تمام سچی اور مناسب باتوں کے بیان کرنے سے ہے جن کا دارومدار مکالمے میں سیاست اور خطابت کے فنون پر ہے۔ تاثرات میں جو کچھ کہا جاتاہے سب شامل ہے۔(بیان کیا جاتاہے)خواہ وہ کسی امر کو مثبت طریقے پر ثابت کرنے یا منفی طریقے پر یا محض کسی عام رائے کا اظہار کرے‘‘۔ (عزیزاحمد، فنِ شاعری، دہلی ۱۹۷۷ء، ص ۵۶)مکالمہ میںمقتضائے حال اور کردار کے ذہنی سطح کا مکمل خیال رکھا جائے۔ مکالمے میں فطرت معاشرت کی عمدہ عکاسی کے لیے مختلف طبقات کی زبان پر دسترس بھی ضروری ہے۔ اسی طرح مکالمہ موزونیت، تکرار، بے ربطی اور ایہام سے پاک ہو۔۴؎ زبان: ڈرامے میں زبان کامسئلہ بہت ہی مختلف فیہ اور گنجلک ہے۔ ڈرامے میں زبان کی اہمیت دو چند اس لیے بھی ہے کہ ڈراما کرداروں کے عمل و گفتگو کے ذریعے وجود میں آتا ہے اور گفتگو کسی نہ کسی زبان میں ہوتی ہے۔ زبان کے متعلق ارسطو کا کہنا ہے ’’’الفا ظ کے ذریعے تاثرات کے ظاہر کرنے کو زبان کہتے ہیں‘‘”Languages with Pleasureble accessories”(ارسطو، بوطیقا، ترجمہ، عزیزاحمد، فنِ شاعری، دہلی ۱۹۷۷ء، ص ۴۳)ڈرامے کی زبان کی نوعیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ ڈرامے کی زبان کا انحصار اس کے موضوع پر ہوتاہے ۔ یا کسی ہلکے پھلکے سماجی مسئلہ پر کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ دونوں موضوع کی زبان میں قدرتاً فرق ہو جائے گا۔ ڈرامے کی زبان میں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوگا کہ آیا ڈراما نظم کی شکل میں ہے یا نثر کی شکل میں کیونکہ دونوں کی زبان میں فرق ہوتا ہے۔ ابتدائی ڈرامے کی زبان منظوم تھی بعدمیں رفتہ رفتہ اس نے نثر کی شکل اختیار کرلی۔ ڈرامے کی زبان صاف، سلیس اور آسان ہو، ایسا محسوس ہو کہ وہ ڈرامے کی زبان ہے، اس سے ڈرامے کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا ، عوام و خواص پر ہر ایک کی وہاں تک رسائی ہو پائے گی۔ قدیم یونانی ڈراما نگار اسکا ئی لیس کا خیال تھا کہ ڈرامے کی زبان بول چال کی زبان سے الگ ہونی چائیے۔ ارسطو بھی اسی خیال کا حامی تھا۔ لیکن یونان کے ہی دوسرے المیہ نگار کا کہنا تھا کہ ڈراما نگار کو چاہیے کہ ڈراما میں روزمرہ کی زبان استعمال کرے۔ کیونکہ ڈرامے کے تماشائی ہر طبقے کے لوگ ہوتے ہیں۔ ڈراما نگار کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس بات کو خیال رکھے کہ اس کے ڈرامے کے سامعین اور ناظرین کون لوگ ہو سکتے ہیں؟ ان کی زبان کیا ہے؟ ان کی تعلیمی اہلیت کیا ہے او ران کی پسند و ناپسند کیا ہے؟ ان باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ڈراما ترتیب دے اور زبان استعمال کرے۔۵؎ موسیقی: موسیقی بھی ڈرامے کے ایک اہم ترین حصہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ جس کاسیدھا اثر سامعین پر مرتب ہوتا ہے۔ ارسطو موسیقی کو پانچواں درجہ دیتا ہے۔ موسیقی کے ذریعہ سے ڈرامے میںخوشی اور غم کا اظہاار کیا جا سکتا ہے۔ کسی کو آگاہ اور خبردار کیا جاسکتا ہے۔ یا کسی پر موسیقی کے ذریعہ وحشت و دہشت کی کیفیت بھی طاری کرائی جا سکتی ہے۔۶؎ آرائش: آرائش ڈرامے میں اثر مرتب کرنے کے اعتبار سے اپنی الگ شناخت رکھتی ہے ارسطو آرائش کو چھٹا اور آخری درجہ دیتا ہے۔ وہ اس کو اہم جز کے طور پر شمار نہیں کرتا۔ اس بابت ارسطو کا خیال ہے کہ اس کا تعلق شاعر سے زیادہ کاریگر سے ہے۔خلاصہ: ’’ڈراما‘‘ مکالماتی تحریر، واقعات و کردار، تخیل کی معراج، اور تفریحی سامان کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس کا تانا بانا پلاٹ، کردار، مکالمہ، زبان، موسیقی، آرائش سے بنا جاتاہے۔ پلاٹ میں اکہرے کا ہونا زیادہ بہتر جانا جاتا ہے۔ ڈرامے میں ابتدا، وسط اور آخر کا واضح ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ڈراما کا سارا دارومدار کردار کی نوعیت و شخصیت پر ہوتا ہے۔ جس طرح کاکھانے کو مزیدار بنانے کے لیے چٹنی کا استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح ڈرامے کو دلچسپ بنانے کے لیے اس میں بڑے عجیب و غریب کردار پیش کیے جاتے ہیں۔ مکالمہ کی حیثیت ثانوی درجہ کی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ ڈرامے میں ’’کیا کہا‘‘ سے زیادہ اہم ’’کیا کیا‘‘ ہوتا ہے۔ ڈرامے کی زبان تماشائیوں کے اعتبار سے ہونی چاہیے۔ صاف، سلیس، آسان ہو۔ موسیقی کے ذریعہ سے ڈرامے میں خوشی و غم کا اظہار ہوتا ہے۔ آرائش بھی ڈرامے میں اپنی ایک شناخت رکھتی ہے۔
کتابیات:۱؎ ادبیات شناسی محمد حسن نئی دہلی ۱۹۸۹ء۲؎ اردو ڈرامہ اور ناول اصول و فن طارق سعید نئی دہلی ۲۰۱۶ء۳؎ اردو ڈرامہ کا ارتقاء عشرت رحمانی علی گڑھ ۱۹۷۸ء۴؎ آغاحشر کاشمیری اور ان کے ڈراموں کا تنقیدی جائزہ محمد شفیع مالیگاؤں ۱۹۸۸ء۵؎ رونق کے ڈرامے امتیاز علی تاج لاہور ۱۹۶۹ء۶؎ فنِ شاعری عزیز احمد دہلی ۱۹۷۷ء۷؎ ہندوستانی ڈرامہ صفدر آہ دہلی ۱۹۲۶ء
Leave a Reply
Be the First to Comment!