ریاست جموں و کشمیر کے خودنوشتوں میں مقامی تہذیب و ثقافت کی عکاسی
سارہ بتول
ریسرچ اسکالر ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی ، حیدرآباد
ریاست جموں و کشمیر میں سوانحی ادب کے ابتدائی آثار منشی محمد دین فوق کی خود نوشت سوانح حیات’’ سرگزشت ِ فوق ‘‘میں ملتے ہیں ۔اس کے بعد ریاست کے دیگر ادباء اور دانشور بھی اس روش پر چلتے ہوئے اپنی زندگی کے نشیب و فراز ،روداد ِشب و روز ،یادوں اور تجربات کو قلم بند کرتے ہوئے متاخرین کے لیے مشعل راہ بنتے رہے اور اس طرح سفرِ زندگی کے تجربات و مشاہدات کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے آس پاس کے ماحول ،پس منظر ،تہذیب و ثقافت اور اس دور کے گوناگوںعوامی مسائل کے ساتھ داخلی و خارجی زندگی کے تمام حالات کو تحریر کر کے سوانح کی صورت میں سامنے لاتے رہے۔اسطرح ریاست کے تینوں خطوں کے عوامی طرزتہذیب اور ثقافت کے پہلوپر مشتمل ادب کے ذخیرے وجود میں آئے ۔ سوانح نگاری کے اس میدان میں بھی ریاست کافی زرخیز رہاہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔
ریاست جموں و کشمیر ہندوستان کا وہ واحدریاست ہے جس کی اپنی ایک الگ پہچان ہے اور تمام ریاستوں سے منفرد و مختلف ہے کیونکہ یہ ریاست تین مختلف اور منفرد خطوں جموں ،کشمیر اور لداخ پرمشتمل ہے جو جغرافیائی ،لسانی اور تہذیبی طور پر ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔
نوٹ:۔ 5 اگست 2019کو مرکزی حکومت کے ایک منصوبے کے تحت ریاست جموں و کشمیرکودو الگ الگ مرکزی علاقوں (Union Territories) میں تقسیم کر کے لداخ کو جموں و کشمیر سے علاحدہ کیا گیا ۔چونکہ ریاست کی ادبی تاریخ ان تینوں خطوں پر مشتمل ہے ۔لہٰذا زیر نظر مقالہ میں ریاست جموں و کشمیر سے مراد متحدہ جموں ،کشمیر اور لداخ ہے ۔
کشمیر کی سرسبز و شاداب وادی ،فلک بوس پہاڑوں، آبشاروں ،کہساروں اور رنگ برنگے پھولوں کی وادی میں رہنے والے کشمیریوں کی اپنی تاریخ ہے جو صدیوں سے یہاں کے مظلوم عوام کی مظلومیت سے عبارت ہے۔یہاں کی تہذیب کی اپنی انفرادیت ہے۔جموں ،جسے مندروں کا شہر اور’’ڈگّردیش ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ،یہاں ہندو اکثریت ہے لیکن تمام عقائد کے لوگ صدیوں سے مل جل کر امن و سکون سے زندگی گزارتے آئے ہیں ۔لداخ کو سرد ریگستان ،تبّت خور د،Moon Land وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے ،اس خطے کو قدرت نے ایک الگ اور منفرد طرز سے تخلیق کیا ہے ۔یہ خطہ ہندوستان کے تمام صوبوں سے طول و عرض میں بڑا ہے ،لیکن آبادی کم ہے ۔یہاں کی تہذیب و تمدن ،ثقافت ،زبان ،تاریخ ،Ethinicityاور آب و ہوا بالکل الگ ہے ۔زیر نظر مقالے میں راقمۃ الحروف نے ان تینوں خطوں سے تین خودنوشتوں کا انتخاب کیا ہے ۔جن میں مقامی تہذیب و ثقافت کی جھلکیاں ملتی ہیں۔یہ خودنوشت نگار ہمعصر ہیں اور اپنے اپنے علاقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
رہگزر در رہگزر: پروفیسر حامدی کاشمیری بیک وقت شاعر ،فکشن نگار ،نقاد ،محقق اور ادیب ہیں ۔ان کے کئی شعری مجموعے ،کئی ناول،افسانوی مجموعے ،تنقید اور سفر نامے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے خودنوشت ’رہگزر در رہگزر ‘‘لکھ کراپنی سفرِزندگی کے واقعات و روداد کو قلمبند کیا ہے۔جس سے ادب کے قارئین اور شائقین کو ایک ادیب کی زندگی کے نشیب و فراز ،ادبی مشاغل ،عادات و اطوار ،ادبی سرگرمیوں ،شعور و افکار اور کارناموں کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
پروفیسر حامدی کاشمیری کی جائے پیدائش شہر سرینگر کا ایک قدیم محلہ بہوری کدل ہے جہاں انھوں نے اپنے بچپن اور جوانی کے ایام گذارے۔یہ محلہ دریائے جہلم کے کنارے واقعہ ہے ،پل کے دوسری طرف خانقاہ شریف ہے ۔یہاں مسلمان اور پنڈت دونوں صدیوں سے مل جل کر رہ رہے ہیں ۔انھوں نے جب ہوش سنبھالاتو گھر پر صوفیانہ ماحول پایا ۔ان کے والدین صوفی موسیقی ،کشمیری اشعار اور دل سوز نغموں کے دلدادہ تھے ۔ان کے والد گھر پر اکثر صوفیانہ محفلوں کا اہتمام کرتے تھے جس میں مختلف صوفی بزرگ اور فنکار شامل ہوتے جو رقس و موسیقی ،واکھ اور کاشرء گانوں سے محفل سجاتے ۔ایسے ماحول میں حامدی کاشمیری کی تربیت ہوئی ،فطرت میں شعر و شاعری کا ذوق پیدا ہونا لازمی تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ سرزمین کشمیر کی دلفریب وادیوں،دلکش مناظر ،روح افزا مقامات سے دلی وابستگی کے ساتھ ساتھ یہاںکی تہذیب و تمدن سے بھی انھیںو الہانہ محبت ہوئی۔بڑھتے عمر کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے پس منظر کا بغور مطالعہ کیااور اپنے اطراف و اکناف کا جائزہ لیا،اس جنت بے نظیر میں بسنے والے عوام کی مجبوریوں ،تکلیفوں ،درد و کرب ،آنسوںاور سسکیوں کو محسوس کیا۔ان کی غربت ،مجبوری اورمایوسی کو اپنے قلم کے ذریعے سامنے لایا۔
’رہگزر د ر رہگزر ‘‘میںکشمیر کی قدیم اور زرخیز تہذیب و ثقافت کی جھلک ملتی ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں صوفی ،ریشی ،بزرگانِ دین وقتاً فوقتاً تشریف لاتے اور مقامی باشندگان کو فیضیاب کرتے رہے ۔ دکھوں ،تکلیفوں اور اذیتوں سے جوجھتے ہوئے لوگ ان بزرگان دین سے فیضیابی پاکر روحانی سکون حاصل کرتے تھے۔اس خودنوشت میں کشمیر کی مشترکہ تہذیب و تمدن کی مختلف تصاویر دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ایک اہم بات یہ ہے کہ حامدی کاشمیری کا تعلق کشمیر کے ایک قدیم (بھٹ )پنڈت خاندان سے تھا ۔اسی خاندان کے ایک بزرگ رحیم جو مشرف بااسلام ہوئے تھے۔حامدی کشمیری کے والد صوفی منش انسان تھے خانقاہوں،زیارتوں،مزاروںاور خصوصاًبابا ریشی کے آستانے کا بلاناغہ زیارت کیا کرتے تھے۔حامدی کاشمیری کو بھی اپنے ہمراہ لیتے تھے ۔جو ننے حامدی کے لیے دلی سکون و مسرت کا باعث بنتا تھا ۔اس طرح ان مقامات سے ان کا ذاتی لگاؤ بڑھنے لگا ۔یہی عقیدت و محبت ان کے لیے شیخ العالمؒ کی حیات و شخصیت پر کتاب تحریر کرنے کی محرک بنی۔’رہگز در رہگزر ‘‘میں ہمیں کشمیر کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کی جھلکیاں نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتی ہیں:
’’بچپن میں عیدالفطر اور عید الضٰحی کے مواقع پر خواتین عموماً شام کے وقت روف گیت گاتیں ،ان میں حصہ لینے والی عورتیں دو حصوں میں تقسیم ہو کے ایک دوسرے کے کندھوں پر بازو حمائل کئے ہوئے اونچی آواز میں گیت گاتیں ،اور گاتے گاتے ایک ساتھ قد م آگے اور ایک قدم پیچھے لے جاتیں۔یہاں تک ایک متوازن رقص کی صورت پیدا ہوتی ۔اس سے اجتماعی تفریح و نشاط کا ساماںہوتااور معمول کی زندگی میں حرکت اور ہلچل پیدا ہوتی۔اسی طرح شادی بیاہ کے موقعوں پر بھی سماجی میل ملاپ ،ہنسی مذاق اور گھریلو کاموں میں حصہ لینے کا جذبہ ،بھاگ دوڑ اور عورتوں کی ونہ وُن کی محفلوں سے مسرت آمیز پیدا ہوجاتی ۔‘‘1 ؎ (ص:30رہگزر در رہگزر)
کشمیر میں خوشی و شادمانیوں کے مواقع پر (روف اور واکھ )کے رقص و سرود کی محفلیں جمتی تھیں جہاں لالہ عارفہ اور حبہ خاتون کے دلسوز نغموں سے سامعین مسحورہوکر جھومنے لگتے تھے اور کبھی شیخ العالمؒ کے اشعار سے لوگوں پر وجد طاری ہوجاتا تھا ۔اس قسم کی کلاسیکی موسیقی مسلمان اور پنڈت دونوں کومشترکہ ورثے میں ملی تھی اور دونوںاس کے برابر کے محافظ سمجھے جاتے تھے ۔لیکن شومئی قسمت! پچھلے چند دہائیوں سے اس خوبصورت وادی کو بری نظر لگی ہے۔یہاں کے پرسکون ماحول میں شور و غل ،درد و غم اور انتشار کے نالے سنائی دے رہے ہیں۔
عوامی سطح پر اگر دیکھا جائے تو لوگ آج بھی ایک دوسرے کے تئیں محبت و خلوص اور ہمدردی رکھتے ہیں ۔ایک دوسرے کے غم خوار ہیں ،امن و سکون چاہتے ہیں،مل جل کر رہ کر کاروان ِ زندگی چلانے کے خواہشمند ہیں۔اس کا اظہار مصنف اس طرح کرتے ہیں :
’’فصیل کے بڑے پھاٹک کے اندر دائیں جانب ہندؤں کا مشہور مندر ہے اور اسی طرح پہاڑی کے اوپر پتھریلی سیڑھی کو طے کر کے شیخ حمزہ مخدوم صاحب کا مرقد ہے ۔منہ اندھیرے اندرون شہر سے آئے ہوئے ہندو اور مسلمان جوق در جوق نوہٹہ کی اندر کی سڑکوں پر پیدل چلتے نظر آتے ۔ہندو زیر لب اشلوک پڑھتے ہوئے اور مسلمان خاموشی سے درود خوانی کرتے یا خدا کو یادکرتے ہوئے باچھ دروازے کے اندر جاتے اور ہندو اور مسلمان دونوں ایک دوسرے کے طریق عبادت میں دخیل ہوئے بغیر اپنے اپنے استھانوں کی راہ لیتے ۔یہ ہندو مسلم بھائی چارے ،باہمی احترام اور وسعت قلبی کی ایک انوکھی مثال تھی۔جذبہ عبادت کی تسکین کے ساتھ ساتھ یہ اُن کے لیے صبح کی سیر کا وسیلہ بھی تھا۔‘‘ 2؎ (ص:43.44ایضاً)
’’میرے یادوں کے چراغ ‘‘ کے مصنف ڈی ڈی ٹھاکور کا تعلق صوبہ جموں کے ضلع پوگل پریستان سے ہے۔اس خودنوشت میں مصنف نے اپنے سفر زندگی کو نہایت باریک بینی سے یادوں کے دوش پر چلتے ہوئے ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے سلیقے کے ساتھ بیان کیا ہے۔ پوگل پریستان کے سلسلہ پیر پنجال کے چوٹیوں کے بیچ سرسبز و شاداب ٹیلوں ،چوٹیوں ،گھنے جنگلوں ،میٹھے چشموں کے درمیان انھوں نے آنکھ کھولی۔مگر کمسنی میں ناخواندہ مگر باشعور والدین نے ان کے روشن مستقبل کا خواب دیکھتے ہوئے ان کے لیے مستقبل کے راستہ متعین کیے ۔جوتشیوں اور پنڈتوں کی پیشن گوئی پر یقین رکھتے ہوئے انھیں فقد آٹھ برس کی عمر میںگھر سے دور بانیہال میں حصول تعلیم کے لیے بھیجا اور اس دن سے رخت سفرِ زندگی باندھا ،مختلف آزمائیشوں،نشیب و فراز اور امتحانوں کا سامنا کرتے ہوئے اور مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے ایک دن یہی (بیڑو، پریستان) کے معمولی سا زمیندار کا لڑکا سپریم کورٹ کا جج بنااور آسام ،اروناجل پردیش کا گورنر اور جموںوکشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ان تمام کامیابیوںو کامرانیوں کے پیچھے مصنف کی محنت ،جدو جہد ،لگن ،شوق و انکساری اور والدین کی نیک دعائیں کارفرماتھیں۔اس زمانے کی تعلیم اور تعلیم گاہوں کا حال بیان کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں:
’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسکول میں داخلہ کے دن مجھے اچھے کپڑے پہنائے گئے اور ایک گول ٹوپی جو میرے سر سے بڑی تھی خاص اعزاز کے طور پر مجھے پہنائی گئی ۔اسکول کی عمارت خستہ حالت میں تھی ،جو گارے اور مقامی پتھروں سے بنائی گئی تھی ۔چھت چوڑی اور ہموار تھی ۔اس عمارت میں ایک برآمدہ بھی تھا ۔جہاں بچے فرش پر ٹاٹ بچھا کر بیٹھتے تھے ۔اور ایک طرف ماسٹر جی ہوتے تھے ۔کمروں میں ٹاٹ ،بلیک بورڈ ،کرسیاں اور میز وغیرہ رکھے جاتے تھے ۔سامنے ایک چھوٹا سا کھلا میدان بھی تھا ۔جہاں بچے انٹرول میں فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔‘‘5؎ (ص:25میرے یادوں کے چراغ)
’’یادوں کے چراغ ‘‘میں مصنف نے پوگل پریستان کے اس خوبصورت سرزمین کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہاں کے عوام کی زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔اس کوہستانی علاقے میں مسلمان ،ہندو اور سکھ مل جل کر بھائی چارگی کے ساتھ امن و شانتی سے زندگی کے شب و روز گزارتے ہیں۔اس علاقے کی زبان پوگلی ہے ۔عادات و اطوار اور جسامت کے لحاظ سے ،شکل وصورت اور طور طریقے رام بن اور بانہال کے لوگوں سے ملتی جلتی ہیں ۔یہاں لوگ کاشت کار اور زراعت پیشہ ہیں ۔آخروٹ ،خوبانی ،ناشپاتی ،راجما،مکئی ،گھی ، شتہوت اور سیب وغیرہ کی بہتات ہیں۔یہاں کے لوگ محدود آمدنی میں بھی قناعت اور کفایت شعاری سے زندگی گذارتے ہیں۔مشترکہ تہذیب و ثقافت کے شعار لوگ ہیں ،ہندو مسلمان بغیر کسی اختلاف کے ایک دوسرے کے دکھ درد ،خوشی و غم اور تہواروں میں شریک رہتے ہیں یہاںکے عوام کی زندگی پرسکون زندگی ہے۔پہاڑوں اور چوٹیوں میں گوجر اپنے موشیوں کو چراگاہوں میں چراکر زندگی گزارتے ہیں ،ان کی کل جائداد یہی چند مویشی ہوتے ہیں ۔یہ لوگ خدا پرست اور عبادت گزار ہوتے ہیں ۔ان تمام مشکلات ،آزمائیشوںکے باوجود ذات الٰہی پر یقین کامل رکھتے ہیں جس کی وجہ سے پرسکون اور خوش رہتے ہیں ۔اس کتاب میں صوبہ جموں اور اس کے گرد و نواح کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی جھلکیاں نمایاںدیکھنے کو ملتی ہیں ۔
مصنف اپنے علاقے کے لوگوں کی آپسی مذہبی رواداری ،بھائی چارگی کے متعلق لکھتے ہیں کہ کس طرح ہندومسلمان اور دوسرے طبقے کے لوگ آپسی مذاکرت سے مقامی لوگوں کے مسائل حل کیا کرتے تھے وہ لکھتے ہیں:
’’لوگ پنچایتیں عموماً شادی بیاہ کے موقعوں پر ہی کیا کرتے تھے کیونکہ پنچ لوگ ایسے موقعوں پر خود ہی اکٹھے ہوا کرتے تھے ۔ہر موضع میں چیدہ چیدہ معزز لوگ ہوا کرتے تھے جو بحیثیت پنچ کام کرتے تھے ۔مولوی سخی محمد ،خواجہ فتح محمد اور عبدالعزیز نمبردار ساکنہ نیل اور مولوی عبدالسبحان، خواجہ غلام قادر ،مولوی محمد یوسف ساکنہ پوگل ،نمبردار بیلی رام اور ان کے بعد ان کا بیٹا لال من ساکنہ کونجی پانچل ۔یہ لوگ اپنے اپنے گاؤں کے معتبر پنچ مانے جاتے تھے ۔غالباً ہر پٹوار حلقہ میں اس قسم کے معزز اشخاض نامزد تھے ۔جن سے استدعا کی جاتی تھی کہ وہ لوگوں کے تنازعات کو حل کریں ۔بیڑو علاقہ میں گوجروں کی بھی ایک بستی تھی ،جو گاؤں کے مشرق کی جانب واقع تھی ۔گوجر برادری میں بھی چند بزرگ اور معتبر لوگ تھے ،جو ان کے تنازعہ کا فیصلہ کرتے تھے ۔ان لوگوں میں سمندہ ،حلیم اور بخشا بہت معتبر اور معزز مانے جاتے تھے ۔اور ایسے موقعوں پر ان کی بہت خاطر تواضع کی جاتی تھی ۔بعض اوقات ان کے لیے مرغوں کا بھی انتظام کیا جاتا تھا۔‘‘6؎ (ص:23ایضاً)
مذہبی رسومات بڑی عقیدت اور تندہی سے انجام دی جاتی تھیں ۔مصنف اپنے جنیؤ کی رسم یعنی رسم یگیوپوت کے تعلق سے رقمطراز ہیں :
’’رسم یگیوپوت بڑے پیمانہ پر منائی گئی۔پانچ سو سے زیادہ نزدیک و دور کے رشتہ داروں نے شرکت کی ۔اس رسم کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ میرے ہاتھ میں ایک بڑا کر منڈل دیا گیا ۔کہ پاس بیٹھے سبھی لوگوں سے اپنے گوروکے لیے دان مانگوں ۔میری طرف پنڈت ہری بھگت جی تھے جن کے ہمراہ ہمارے مقامی گورو پنڈت کشمیر چند جی تھے ۔حاضرین نے نقدسکے اور نوٹ اس کرمنڈل میں ڈالے اور کل رقم جو اکٹھی ہوئی بغیر کسی مبالغہ کے ایک سو روپے سے زیادہ تھی ۔جو اس زمانے میں اچھی رقم مانی جاتی تھی ۔اس کے علاوہ میرے پیتا جی نے اوربڑے بھائی نے انہیں کچھ روپے بطور نذرانہ بھی دیئے اورتحفے جیسے شہد ،گھی ،اخروٹ اور گچھیاں بھی دی گئیں ۔جس سے وہ بہت خوش ہوئے اور میری اودھم پور جانے کی تاریخ بھی طے ہوگئی ۔جہاں مجھے ہائی اسکول میں داخل ہونا تھا ۔‘‘7؎ (ص:44ایضاً)
اس زمانے میں شادی بیاہ والدین کی مرضی سے طے ہوتی تھیں اور نہایت سادگی سے انجام پاتی تھیں۔کم عمری کی شادیاں عام تھیں ۔خود مصنف کی شادی 16سال کی عمر میں نہایت سادگی سے انجام پائی جب کی دلہن محض 13سال کی تھی ۔اس ضمن میں ان رسوم و رواج کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
’’جب ہم گاؤں سے کچھ آگے پہنچے تو میری والدین نے مجھے شادی کے لیے راضی ہونے کو کہا ۔میں نے آنکھیں نیچی کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی حکم عدولی نہیں کرسکتا۔میرے لیے وہ حکم ہے،جس میں آپ کی خوشی ہو ۔میں ان کی خواہش کے خلاف کچھ بھی کرنے کو تیار نہ تھا ۔چنانچہ ایک دن پنڈت کشمیر چند سے مشورہ کر نے کے بعد مہورت کا اعلان کردیاگیا۔شادی 29بیساکھ2003بکرمی بمطابق 12مئی1946ء کو مقرر ہوگئی۔اس کے ساتھ ہی میری چھوٹی بہن دُرگا جو مجھ سے ڈھائی سال چھوٹی تھی کی شادی بیڑو جنرال کے سربن سنگھ سے مقرر ہوگئی۔‘‘8 (ص:71ایضاً)
افکار پریشاں(یادوں کے دوش پر) : کاچو سکندر خان سکندر کی خود نوشت سوانح ’’ افکار پریشان(یادوں کے دوش پر)‘‘ میں لداخ کی تہذیب و تمدن کی واضح تصویر دیکھنے کو ملتی ہے ۔ کاچو سکندر خان سکندرکا تعلق خطہ لداخ کے ضلع کرگل سے ہے۔وہ ایک ذی علم اور شاہی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ان کا شمارخطہ لداخ کے دانشوروں، عالموں اور معزز ین میںہوتاہے۔دنیا کے کونے کونے سے ریسرچ اسکالرز، محققین ،تاریخ ، جغرافیہ ، ماحولیات ،لسانیات ،آثار قدیمہ کے ماہرین اور عاشقان لداخ ان سے ملنے ، ان کے کارناموں کا مطالعہ کرنے اور خطہ لداخ کی تاریخ، جغرافیہ، ماحول اور لسانیات جیسے متنوع موضوعات کے متعلق ان سے مستند اور سیر حاصل معلومات کی حصولیابی کے لیے آتے تھے اورکاچو سکندر خان سکندر انسائکلوپیڈیا کی طرح اس خطہ کی طول و عرض اور صدیوں پر محیط تاریخ پر مستند حوالوں سے روشنی ڈالتے تھے۔
ـ’’افکار پریشاں‘‘ میں مصنف اپنے بچپن و لڑکپن کی یادداشت کو تازہ کرتے ہوئے غم و مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔جس سے لگتا ہے کہ مصنف آج کے بدلتے ہوئے حالات اور زمانے سے خوش بھی ہیں اور مایوس بھی۔ ان کا ماننا ہے کہ تبدیلی اور انقلاب بدلتے ہوئے زمانہ، زندگی اور کائنات کی حقیقت ہے۔اس کائنات میں کوئی بھی جاندار دائمی نہیں اور نا ہی کسی کو حیات ِ جاودانی حاصل ہے۔سب کے سب فانی ہیں ۔تبدیلی اور انقلاب زندگی کی علامت ہے لیکن ساتھ ہی انھیں اس بات کی بھی شکایت ہے کہ نئی نسل کے لداخی اپنی روایت ،تہذیب و تمدن اور کلچرسے دوراور نامانوس ہوتے جارہے ہیں ۔اس تکلیف کا احساس ’’افکارپریشاں ‘‘میں جابجا نمایاں ہے۔وہ اپنے بچپن اور لڑکپن کی یادوں کی گیلری کھولتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں لوگ سادہ ،شریف ،حلیم ،ملنسار اورخوش طبع ہوا کرتے تھے اور باہمی محبت و خلوص سے ایک دوسرے کے شاد و غم میں برابر کے شریک رہتے تھے ۔بودُھ اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ محبت و خلوص سے رہتے تھے ان کے درمیان ماسوائے مذہب اور مذہبی رسوم کے کوئی نمایاں فرق نہیں تھا۔مذہب لوگوں کا نجی معاملہ ہوتا تھا اور اس کو بھی فقط تزکیہ ِ نفس اور سکون قلب و روح کی خاظر ہی استعمال کرتے تھے۔جبکہ عام معاشرتی امور آپس میں سکیولر انداز میں انجام پاتے تھے۔بقول مصنف:
’’مذہب سے لوگ سیرت و کردار کی صفائی ،افکار و نظریات کے تزکیہ اورجوہر انسانیت (Humanism)کے نکھار کا کام لیا کرتے تھے جو مذہب خاموشی سے ،اپنے دلنشین انداز میں انجام دیا کرتا تھا ۔جبکہ عام تعمیری امور میں معاشرے کی سدھار کے کام میں خالص سیکولر انداز اختیار کیا جاتا تھا ۔مذہب کا ان میںکوئی دخل نہ تھا۔یہ کہاوت کہ ’’ ایک اچھی نیت ایک اچھے مذہب سے بڑھ کر ہے ‘‘عام تھی۔یعنی مذیب خوشبو کی مانند انسان کے دل و دماغ میں گھس کر اس کے قول و فعل کو معطر کیاکرے ۔اسی طرح شادی ،غمی ،موسمی تہوار،رسم و رواج اور کھیل تماشے بھی تقریباً سب دیہات کے یکساں تھے ۔جس سے خطے کی تاریخی ،تمدنی ،نسلی و تہذیبی وحدت کی عکاسی ہوتی تھی ۔‘‘ 3 ( ص:19افکار پریشان (یادوں کے دوش پر )
کاچوسکندر خان سکندر کا تعلق اس زمانے سے تھا ،جہاں قدیم روایتی تہذیب دم توڑ رہی تھی اور جدید تہذیب ظہور پذیر تھی ۔مصنف نے اس خودنوشت میں لداخ کی اس قدیم اور پرانی تہذیب و ثقافت کی ترجمانی کی ہے ،جو تہذیب انھیں ورثے میں ملی تھی ۔اس خودنوشت کے مطالعہ سے ہمیں اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کاچو سکندر خان سکندر پرانی تہذیب کے کس قدر قدردان ہیںاورکس قدر وہ اس تہذیب سے محبت کرتے ہیں ۔نئی نسل کو اس تہذیب و ثقافت کے تحفظ اور نمائندگی کے لیے نصیحت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
’’افکار ِ پریشاں ‘‘کے مطالعے سے خطہ لداخ کی اس زرخیز اور قدیم تہذیب و ثقافت کی آئینہ داری ہوجاتی ہے ۔یہاںکے لوگ خوش طبع ،خوش گو ،ملنسار ،خلوص و محبت کے دلدادہ ،امن پسند اور حلیم و مخلص ہوتے ہیں ۔یہاں کے عوام چاہے وہ بودھ ہو ںیا مسلمان مشترکہ تہذیب کے دلدادہ اور پاسدار ہیں۔لداخ میں دونوں عقائد کے لوگ ایک ہی زبان لداخی بولتے ہیں ،ان کاخوردو نوش،لباس و زبان اوررہن سہن یکساں ہیں۔مقامی لوک گیت ،رقص و
سرود ،،ساز و سنگار،کھیل تماشا ،زراعتی طور طریقہ دونوں میں یکساں ہیںتمام کام آپس میں مل جل کر انجام دیتے ہیں۔پرانے زمانے میںلداخ کے مرد و زن اونی کپڑے چوغہ (گونچا)میں ملبُوس ہوتے تھے ،بالوں میں پھول سجاتے تھے ،کمر میں چقما ق اور چاقو لٹکاتے تھے۔کھیل تماشوںمیں تاپولو(گھوڑ سواری )ساکا ،تیراندازی میں بڑھ چڑھ کر شامل ہوتے اور تہوارں میں نوروز عالم ،لہوثر ،تھوشل وغیرہ مقررہ تاریخوں پر منائے جاتے تھے ۔خطہ لداخ کا مشہور موسمی تہوار’ستروب لاء کا ذکریوں کرتے ہیں’’
’’سترُوب لاء ‘کا تہوار دوسرے موسمی تہواروں کی طرح پورے لداخ میں دھوم دھام اور اہتمام سے منایا جاتا تھا۔گھر گھر ضیافت اور مہمانداری ہوتی تھی۔ستُروب لاء کے بعد ـ سنّولا یعنی ہریالی کا میلہ اہم سمجھا جاتا تھا۔ تہواروں کے دوران عام کام کاج تقریباً رک جاتا تھا۔صرف ضروری کام جاری رہتے تھے۔ چھوٹے بڑے سب لوگ تہوار میں کھو جاتے تھے۔ اس طرح باقی موسمی تہوار اور قومی کھیل مثلاً ساکا، تیراندازی اور لشکری شکار، نوروزِعالم، لوسر اور مذہبی تہوار ممانی، تھشل، شاہ ناصر وغیرہ بھی بلا ناغہ مقررہ تاریخوں پر منائے جاتے تھے۔چند دیہات میں اب بھی مناتے ہیں۔‘‘4؎ ( ص 87ایضاً )
مصنف نے منفرد اور معروف درد قبائل کے لوگوں کی تہذیب و تمدن کی تصویرکشی کی ہے۔ان قبائل کا تعلق سکندر اعظم سے یعنی آرین نسل سے جوڑا جاتا ہے اور ہنو اور گرکون کے علاقوں میں یہ آباد ہیں ۔ان کی ایک اپنی منفرد تہذیب ،ثقافت ،رہن سہن اور زبان ہے۔یہ لوگ رنگ برنگے لباس پہنتے ہیں اور رقص و سرود کے نہایت شوقین ہیں ۔شاد ی و غمی ،سماجی رسوم و عبادات اور تہوار ہر موقعے کی نوعیت سے گاہ بگاہ رقص و سرود کی محفلیں سجاتے رہتے ہیں۔اس ضمن میں مصنف یوںرقم طراز ہیں:
’’درچکس گرکون کے درد ،مردو عورتیں کی ٹولیاں ہر سال ’ری سیر ‘(پہاڑوں کی سیر )کے لئے آیا کرتی ہیں ۔اور بربن چن ،برنگ برنگ اور سُوم زُور چوٹیوں پر ڈیرے جماتی اور گلگشت کرتی ہیں ۔سارا پہاڑ ہفتوں گیتوں مُرلیوں دماموں اور شہنائیوں کی آوازوں سے گونجتا رہتا ہے ۔کیمپ لگتے ہیں ،ضیافتیں ہوتی ہیں ۔رقص و سرودکی محفلیں لگتی ہیں ۔درد لوگ رقص و سرود،سیرو تفریح اور پھولوں کے عاشق ہوتے ہیں خوش باش ،بے غم اور آزاد منش لوگ ہیں ۔‘‘5 ؎ (ص21ایضاً)
تبّت اور لداخ کے لوگ ابتداء سے ہی گیت سنگیت ،داستانوں اور مافوق الفطری حکایتوں کے دلدادہ رہے ہیں ،مشہور داستان گیالم کیسر (Kesar Saga) کا نہ صرف تبت لداخ بلکہ عالمی ادب کے قدیم ترین داستانوں میں شمار ہوتا ہے ۔اس کے ہیرو اور اس کے کارناموں کو آج بھی لداخی سماج میں اہمیت دیتے ہیں اور حقیقی تصور کرتے ہیں۔مصبف نے اس داستان کوبھی اردو کے قالب میں ڈھالا ہے ۔
من جملہ ان تین منتخبہ خودنوشتوں میں ریاست کے تینوں خطوں کی نمائندگی کی گئی ہے۔ ان کے مطالعے سے ہمیں تینوں خطوں کی تاریخ ،سیاسی حالات ،سماجی و اقتصادی صورت حال ،تہذیب و تمدن ،ثقافت ، لسانی تنوع ،مذہبی و سماجی رسوم اور ریاست کے تمام معاشرتی اور ثقافتی پہلوئوں کی جھلک ملتی ہیں۔ کشمیر جو صدیوں سے غیر ملکی حکمرانوں کے ظلم و ستم کا شکار رہا ،آج اکیسویں صدی میں بھی یہاں کے عوامی زندگی انتشار کا شکار ہے۔اس لیے مقامی باشندے اس ذہنی و جسمانی تکلیف سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ سے امن و سکون کی تلاش میں روحانیت کی طرف مائل رہے ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوام صوفیوں ،ریشیوں اور روحانی بزرگوں کے قدردان رہے ہیں ۔ان صوفیوں اور ریشیوں کے کشمیر کی تہذیب و تمدن پر اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی تہذیب و ثقافت پر صوفی اثرات نمایاں ہیں۔خطہ جموں پنجاب سے متصل ہے اس وجہ سے یہاں کی تہذیب و ثقافت پرپنجابی تہذیب کے اثرات نمایاں ہیں۔ لیکن ڈوگروں کی اپنی ایک منفرد روایت و شناخت ہے جو انھیں ورثے میں ملی ہے چاہے وہ ان کی زبان یا لباس یا رسم و رواج ہو یا انکی فن ِ نقش نگاری اور مجسمہ سازی ،جس کی اپنی الگ اور منفرد پہچان ہے۔ کوہ ہمالیہ اور سلسلہ قراقرم کے بیچوں بیچ واقع خطہ لداخ کی خود اپنی ایک الگ جغرافیائی پہچان اور حدود ہیں۔یہاں پربہت کم بارش ہوتی ہے ،برف بھی کم پڑتی ہے ،کڑاکے کی سردی پڑتی ہے ۔موسم سرما میںدرجہ حرارت منفی 45تک گرجاتا ہے ۔ہریالی کم ہوتی ہے ،وسائل محدود ہیں ۔لداخی تہذیب و ثقافت بھی ہندوستان کے باقی علاقوں سے بالکل مختلف اور منفرد ہیں۔تبّت اور بلتستان سے متصل سرحد ہونے کہ وجہ سے لداخ کی تہذیب و ثقافت پر ان تہذیبوں کے اثرات نمایاں ہیں ۔
***
Leave a Reply
Be the First to Comment!