علامہ عبدالحمید رحمانی ایک عہد، ایک تاریخ
کتاب کا نام:’’نازشِ جماعت‘‘ مولانا عبدالحمید رحمانی ؒ ایک عہد، ایک تاریخ
مصنف : ابوالمظفر عبدالحکیم عبدالمعبود مدنیؔ
صفحات : 80 قیمت :درج نہیں
اشاعت : 2014
ناشر : جامعہ رحمانیہ، کاندیولی، ممبئی
ملنے کا پتہ : جامعہ اسلامیہ سنابل، شاہین باغ، نئی دہلی ۲۵
مبصر : محمد اشرف یاسین
معرفت : D-103، زہرہ پبلک اسکول
شاہین باغ، ابوالفضل انکلیو II، نئی دہلی۲۵-۔ موبائل:8750835700
ہندوستانی مسلمان ان دنوں اپنے علماؤں اور ملی رہنماؤں کے یکے بعد دیگرے رخصت ہوجانے کی وجہ سے جتنے مصیبت بھرے ایام سے گزر رہے ہیں۔ شاید کہ ان پر اتنے مصیبت بھرے ایام ۱۹۴۷ء سے اب تک نہ آئے ہوں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں پر ذہاب العلماء کا دور گزر رہا ہے یعنی علماء کا اٹھ جانا۔ ایک حدیث میں ہے :
ان اللّٰہ لا ینزع العلم انتزاعا ینتزعہ من الناس ولکن یقبض العلماء فاتخذ الناس روؤسا جہالاً فسئلوا فأفتوا بغیر علم فضلوا ووأضلوا۔ (بخاری مسلم)
یہ سلسلہ گزشتہ سال ۲۰؍اگست ۲۰۱۳ء کو مولانا عبدالحمید رحمانیؔ کے انتقال سے شروع ہوا پھر ۲۹؍دسمبر ۲۰۱۳ء کو مولانا عبدالسلام رحمانیؔ کے انتقال سے ہوتے ہوئے اہلسنّت والجماعت کے مشہور عالم دین مولانا اسیدالحق ۴؍مارچ ۲۰۱۴ء، تبلیغی جماعت کے امیر مولانا زبیر الحسن ۱۸؍مارچ ۲۰۱۴ء، حنفی مسلک کے جید عالم دین اور دعوت و عزیمت کے ایڈیٹر احمد علی قاسمی ۲۱؍مارچ ۲۰۱۴ء تک پہنچتا ہے۔
زیرنظر کتاب ’’علامہ عبدالحمید رحمانیؔ ایک عہد، ایک تاریخ‘‘ انھیں مذکورہ بالا علمائے کرام میں سے ایک مشہور اور جید عالم دین، پاسبان و نگہبان جماعت اہلحدیث مولانا عبدالحمید رحمانیؔ کی حیات و خدمات پر مشتمل ہے۔ جو درحقیقت مولانا کے ایک شاگرد مولانا ابوالمظفر عبدالحکیم عبدالمعبود مدنیؔ کی مولانا رحمانی سے ذاتی تعلقات اور استاد و شاگرد کے مبارک و مقدس رشتہ کو مدنظر رکھ کر تحریر کی گئی ہے۔ مؤلف حفظہ اﷲ نے اس کتاب کو چار فصلوں میں تقسیم کیا ہے جس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔
پہلی فصل میں ’’نازش سلفیت علامہ عبدالحمید رحمانی رحمہ اﷲ علیہ ایک عبقری شخصیت‘‘ کے تحت مؤلف نے مولانا سے اپنے ذاتی تعلقات، شرف شاگردی، ’’رحمانیؔ میرے مرشد میرے منھجی آئیڈیل‘‘، ’’علامہ رحمانیؔ کا رتبۂ بلند‘‘، خبر وفات اور تجہیز و تکفین کو عمدہ انداز میں پیش کیا ہے۔
دوسری فصل میں، مختصر سوانحی خاکہ کے تحت نام و نسب، خاندانی پس منظر، تاریخ پیدائش، حصول علم کے لیے اسفار، اساتذہ، تلامذہ، اہم شخصیات سے ملاقات و استفادہ، تدریسی خدمات، صحافتی خدمات، سماجی خدمات اور رفاہی خدمات کے بعد علامہ رحمانی کے پسماندگان کا بھی تذکرہ کیا ہے۔
تیسری فصل میں دفاع سنت اور ردبدعت میں رحمانی صاحب کا نمایاں کردار کے تحت مؤلف نے بڑی تفصیلی گفتگو کی ہے جو پڑھنے سے ہی تعلق رکھتی ہے۔
٭ دفاع سنت اور رد بدعت میں رحمانی صاحب کی جہود و مساعی
٭ فتنۂ انکار حدیث کا مختصر اور جامع تذکرہ
٭ احادیث کے خلاف استشراق اور منکرین کی سازشوں کی نقاب کشائی
ان مذکورہ بالا عنوانات اور بحثوں نے کتاب کی افادیت میں چار چاند لگا دیا ہے۔
چوتھی فصل میں مولانا رحمانی کی تین اہم اور نمایاں خصوصیات پر تبصرہ کرتے ہوئے نہایت ہی جامع انداز میں لکھا ہے کہ ’’فطری طور پر ہر انسان کو قدرت کچھ نہ کچھ خوبیاں دے کر عالم وجود میں بھیجتی ہے رحمانی صاحب کو بھی اﷲ نے بے پناہ خوبیاں عطا کی تھیں، ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک بہترین مدبر اور منتظم کار بھی تھے، دینی اور مسلکی پہچان کے پہلو بہ پہلو سماجی اور سیاسی اعتبار سے بھی آپ کا رتبہ بے حد بلند تھا جہاں آپ نے پوری دنیا میں جماعت اہلحدیث کی نمائندگی کا بھرپور حق ادا کیا وہیں آپ نے عالم اسلام کو پیش آنے والے مسائل و معاملات میں ملت کی بھرپور ترجمانی و نمائندگی بھی کی ہے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کی نظامت علیا اور امانت عامہ کی اہم ترین ذمہ داریوں سے لے کر درجنوں جماعتی و ملی تنظیموں کی رکنیت اور ذمہ داری بالخصوص اپنے قائم کردہ مرکز ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر اور اس کے ماتحت درجنوں سے زیادہ اداروں کی تنظیم، صدارت اور ان کی تعلیمی اور مالی نگرانی و سرپرستی تک ہر جگہ کامیابیوں نے آپ کی قدم بوسی کی ہے، علمی اعتبار سے تحریر و تقریر کی صلاحیتوں سے آپ جہاں مالامال تھے وہیں پر زبان و بیان کی قدرت، تدریس و تعلیم میں مہارت، تحقیق و ریسرچ میں بے پناہ ادراک اور بصیرت بھی رکھتے تھے، خطابت کے ساتھ ساتھ آپ کی صحافت قلمی شاہکار کا درجہ رکھتی ہے لیکن میری نظر میں علامہ رحمانی کی تین اہم خوبیاں یہ ہیں۔
(۱) منہجی غیرت اور مسلکی بے باکی، برجستگی اور جرأت
(۲) تاریخ اہلحدیث میں مہارت اور گہری واقفیت
(۳) اردو اور عربی زبان و ادب میں قدرت، روانی اور طلاقت‘‘
انھیں منجملہ خصوصیات کے پیشِ نظر علامہ عبدالحمید رحمانی رحمہ اﷲ کے پٹنہ کے ایک ساتھی اور قلمکار پروفیسر شکیل احمد قاسمیؔ صاحب نے بجا طور پر فرمایا ہے کہ ’’مولانا کے اندر صحرا کو گلشن بنانے کی طاقت تھی جس کا ثبوت ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر کے تحت چلنے والا اعلیٰ تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابل ہے۔ انہوں نے مزید یہ شعر بھی کہا کہ
چمن میں پھول کا کھلنا تو کوئی بات نہیں
زہے وہ پھول جو گلشن بنا دے صحرا کو
میں مولانا کے حق میں صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا، جو کسی شاعر نے محدث جلیل علامہ نواب صدیق حسن خان قنوجی رحمہ اﷲ علیہ کے بارے میں کہا تھا۔
شافع کون و مکاں کی راہ پر لاتا رہا
ہاں مگر مشرک کو توحید سکھلاتا رہا
حادثوں کی جاں گسل موجوں سے ہوکر بے نیاز
نقشۂ قربانی و ایثار دکھلاتا رہا
پرچم اسلام ابر درخشاں کے روپ میں
بتکدوں کی چار دیواری پہ لہراتا رہا
مہران دل گرفتہ کو باعلان جہاد
تیغ جو ہر درد کا آئینہ دکھلاتا رہا
اس کے سینے میں خدا کا آخری پیغام تھا
وہ خدا کی سرزمیں پر حجت اسلام تھا
کہنے کو تو یہ ایک مختصر سا کتابچہ ہے۔ تاہم یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس کتابچہ میں مولانا عبدالحمید رحمانی کی زندگی کے کچھ ان کہے پہلو اجاگر کیے گئے ہیں، مؤلف اس کتاب کی تالیف کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں۔
٭٭٭
اس مضمون کو پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
اردو ریسرچ جرنل (اگست۔اکتوبر 2014)کو مکمل پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
Leave a Reply
1 Comment on "علامہ عبدالحمید رحمانی ایک عہد، ایک تاریخ"
[…] علامہ عبدالحمید رحمانی ایک عہد، ایک تاریخ← […]